گیارہ سال بعد نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیلے گی ہندوستانی ٹیم

عالمی نمبر ون کرکٹ ٹیم انڈیا جمعہ کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی اور اس کا مقصد 11 سال بعد کیوی گراؤنڈ پر سیریز جیتنا ہوگا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ویلنگٹن: عالمی نمبر ون کرکٹ ٹیم انڈیا جمعہ کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی اور اس کا مقصد 11 سال بعد کیوی گراؤنڈ پر سیریز جیتنا ہوگا۔

کپتان وراٹ کوہلی کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم نے نیوزی لینڈ کے دورے کا شاندار آغاز کرتے ہوئے ٹی ۔ٹوئنٹی سیریز 0۔5 سے جیت لی تھی لیکن تین ون ڈے میچوں کی سیریز میں ٹیم انڈیا کو 3۔0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مختصر فارمیٹ کے بعد اب اس دورے کے آخری مرحلے میں بڑے فارمیٹ کی باری ہے اور عالمی نمبر ایک ٹیم سیریز جیتنے کی مضبوط دعویدار سمجھی جارہی ہے۔ تاہم اسے میزبان ٹیم کے چیلنج کو ون ڈے میچوں کی کارکردگی کی بنیاد پر سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

دو ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں ہندوستان کا ہدف 11 سال کے وقفے کے بعد نیوزی لینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنا ہوگا۔ ہندوستان نے آخری بار 09۔2008 میں نیوزی لینڈ میں تین میچوں کی سیریز 0۔1 سے جیتی تھی۔ اس کے بعد 14۔2013 میں ہندوستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف دو میچوں کی سیریز میں 0۔1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈیا اپنی گزشتہ پانچ سیریز میں ناقابل شکست رہا ہے اور اس دوران وہ ویسٹ انڈیز ، آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کو شکست دے چکا ہے۔ اب اس کے نشانے پر نیوزی لینڈ کے خلاف دو میچوں کی سیریز ہے۔

ٹیم انڈیا اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی فہرست میں 360 پوائنٹ کے ساتھ اول نمبر پر ہے اور ان کا مقصد دو میچوں کی اس سیریز میں پورے 120 پوائنٹ لے کر اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بنائے رکھنا ہوگا۔ ہنددستان کے بعد آسٹریلیا 296 پوائنٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ نیوزی لینڈ 60 کے پوائنٹ ہیں اور وہ چھٹے نمبر پر ہے۔ نیوزی لینڈکو اس ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بنے رہنے کے لئے بھی 120 پوائنٹ کی ضرورت ہوگی لیکن اس کے لئے اسے اپنی یک روزہ سیریز کی کارکردگی کو دہرانا ہوگا۔
میچ کے لئے انڈیا الیون کی شبیہ بہت حد تک واضح ہوچکی ہے۔ افتتاحی بلے بازی کے لئے مینک اگروال اور پرتھوی شا میدان میں اتریں گے جبکہ تیسرے نمبر کے دعویدار شبھمن گل نیوزی لینڈ الیون کے خلاف تربیتی میچ کی دونوں باریوں میں آؤٹ ہوکر یہ موقع گنوا چکے ہیں ۔ اوپننگ کے بعد تیسرے نمبر پر چیتشور پجارا، کپتان وراٹ اور اجنکیا رہانے ہوسکتے ہیں ۔آل راؤنڈر کی جگہ بائیں ہاتھ کے اسپنر رویندر جڈیجہ ہونگے۔

یہ دیکھنا بہت دلچسپ ہوگا کہ کپتان وراٹ اس میچ میں دو اسپنر اور تین تیز گیندبازوں کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں یا پھر ایک اسپنر سمیت چار گیندبازوں کے ساتھ کھیلتے ہیں تاکہ ٹیم میں ایک فاضل بلے باز کو موقع مل سکے۔ اگر پانچ گیندبازوں کی ضرورت رہتی ہے تو آف اسپنر روی چندرن اشون کو موقع مل جائے گا لیکن چار گیندبازوں کے طور پر اشون کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔ فاضل بلے باز کی شکل میں ہنوما بہاری کو موقع مل سکتا ہے جنہوں نے مشق کے دوران شاندار سنچری بنائی تھی۔ تجربہ کار کھلاڑی ردھیمان ساہا وکٹ کیپر ہونگے جبکہ اس دورہ میں آٹھ میچوں سے باہر نوجوان وکٹ کیپر و بلے باز رشبھ پنت کی یہی دعا ہوگی کہ انہیں کم از کم ایک بلے باز کے طور پر ہی ٹیم الیون میں جگہ مل جائے۔

ٹخنوں کی انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد بنگلور میں واقع نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں فٹ قرار دیئے جانے والے ایشانت شرما کو ٹیم انڈیا میں شامل کیا گیا ہے اور اس بات کا اشارہ کپتان وراٹ نے پریس کانفرنس میں دیا ہے کہ ایشانت پریکٹس کے دوران اچھی گیندبازی کررہے ہیں اور انہیں ٹیم الیون میں موقع دیا جاسکتا ہے۔ ایشانت دو دیگر تیزگیندبازوں جسپریت بمراہ اور محمد شمی کے ساتھ ٹیم الیوں میں شامل ہونگے لیکن ٹیم انتظامیہ کو میچ شروع ہونے سے قبل یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایشانت سو فیصد فٹ ہیں یا نہیں۔ اگر وہ غیرصحت مند رہتے ہیں تو ان کا کھیلنا ٹیم انڈیا کے لئے بھاری ہوسکتا ہے۔

میزبان ٹیم کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کے تیز گیندباز ٹرینٹ بولٹ صحت یاب ہوچکے ہیں اور انہیں ٹیم میں شامل کرلیا گیا ہے۔ بولٹ ٹی ۔20 اور ون ڈے سیریز میں نہیں کھیلے تھے اور ان کی موجودگی ہندستانی بلے بازوں کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے۔ بولٹ نے آخری میچ آسٹریلیا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ میلبورن میں کھیلا تھا۔ ٹیم میں اسپنر اعجاز پٹیل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ 31 سالہ بائیں ہاتھ کے اسپنر پٹیل نے اپنے سات ٹیسٹ میچوں کا آخری میچ گزشتہ برس اگست میں سری لنکا کے خلاف کولمبو میں کھیلا تھا۔