خواتین کے عالمی دن پر تاریخ رقم کرنے اترے گی ہندستانی ٹیم

ہندستانی خاتون کرکٹ ٹیم سپر سنڈے کو گزشتہ چمپئن آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے خطابی مقابلے میں نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے اترے گی

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

میلبورن: آئی سی سی خواتین ٹی -20 ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچ کر پہلے ہی تاریخ رقم کر چکی ہندستانی خاتون کرکٹ ٹیم سپر سنڈے کو گزشتہ چمپئن آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے خطابی مقابلے میں نئی تاریخ رقم کرنے کے مضبوط ارادے سے اترے گی۔اتوار کو خواتین کا عالمی دن بھی ہے اور ہندستانی ٹیم اس دن کو خطابی جیت کے ساتھ یادگار منانا چاہے گی۔ یہی صورت حال دنیا کی نمبر ایک ٹیم، گزشتہ چمپئن اور میزبان آسٹریلیا کی ہے جو اپنے شائقین کے سامنے اپنا خطاب کا دفاع کرنا چاہے گی لیکن اس کے سامنے وہ ہندستانی ٹیم ہے جس نے اسے پہلے مقابلے میں 17 رنز سے شکست دی تھی۔

ہندستان نے اپنا سیمی فائنل مقابلہ بارش کی وجہ سے منسوخ ہونے سے بغیر کوئی گیند کھیلے فائنل میں جگہ بنائی تھی جبکہ آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو بارش سے متاثرہ مقابلے میں ڈک ورتھ لوئیس ضابطے کے تحت پانچ رنز سے شکست دے کر خطابی مقابلے میں داخلہ حاصل کیا تھا۔ فائنل میں بارش کا کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اگر بارش ہوتی ہے تو فائنل کے لئے ریزرو ڈے رکھا گیا ہے۔ اگر ریزرو ڈے کے دن کھیل مکمل طور دھل جاتا ہے تو دونوں ٹیموں کو مشترکہ طور پر فاتح قرار دیا جائے گا۔اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے میلبورن اسٹیڈیم ہاؤس فل رہے گا اور ٹکٹ کی مانگ کو پورا کرنے کے لئے آئی سی سی نے اضافی ٹکٹ جاری کئے ہیں۔ میلبورن میدان نے اس سے پہلے 1988 میں خواتین ون ڈے ورلڈ کپ کا فائنل منعقد کیا تھا جسے آسٹریلیا نے 3000 شائقین کے سامنے انگلینڈ کو شکست دے کر جیتا تھا۔ لیکن اس بار فائنل میں تقریبا ایک ملین شائقین کے موجود رہنے کی امید ہے۔

ہندستانی خاتون ٹیم کا آسٹریلیا کے خلاف ٹی -20 میں ابتدائی ریکارڈ خراب تھا لیکن گزشتہ کئی میچوں اور اس ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں ہندستان نے آسٹریلیا کے خلاف شاندار کارکردگی کی ہے۔ آسٹریلیا نے ہندستان سے اپنے پہلے تمام سات ٹی -20 مقابلے جیتے تھے جبکہ ہندستان نے گزشتہ 12 میں سے چھ مقابلے اور گزشتہ پانچ میں سے تین مقابلے جیتے ہیں۔فائنل کی شام ہندستانی کپتان هرمنپريت کور نے کہاکہ ہم 90 ہزار سے زیادہ شائقین کے سامنے فائنل کھیلنے جا رہے ہیں اور یہ احساس ہی ہمیں پرجوش کئے جا رہا ہے۔ ہمارے لئے یہ ایک بڑا لمحہ ہے لیکن ہمیں اس احساس کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا ہے اور صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کرنی ہے اور ویسا ہی مظاہرہ کرنا ہے جو ہم اب تک ٹورنامنٹ میں کرتے آئے ہیں۔ ہندوستانی کپتان هرمنپريت کے پاس اس فائنل میں سرکردہ کپتانوں کپل دیو اور مہندر سنگھ دھونی کے زمرے میں شامل ہونے کا شاندار موقع ہے۔ هرمنپريت اگر اتوار کو میلبورن میں ٹرافی اٹھانے میں کامیاب ہوتی ہیں تو وہ کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ہندستان کی تیسری کپتان بن جائیں گی۔ کپل کی کپتانی میں ہندستانی مرد ٹیم نے سال 1983 میں ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر پہلی بار عالمی اعزاز جیتا تھا۔

سال 2007 میں منعقد پہلے مرد ٹی -20 ورلڈ کپ میں دھونی کی کپتانی میں ہندستان نے پاکستان کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا تھا۔ دھونی کی کپتانی میں ہی ہندستان نے 2011 میں سری لنکا کو شکست دے کر 28 سال کے طویل وقفے کے بعد ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا۔ہندستانی خاتون ٹیم 2005 میں جنوبی افریقہ کے سینچورین میں ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا سے 98 رنز سے شکست سے دو چار ہو گئی تھی۔ اس وقت ہندستان کی کپتان متالی راج تھیں۔ متالی کی ہی کپتانی میں ہندوستانی ٹیم 2017 میں انگلینڈ میں ہوئے ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی تھی جہاں اسے انگلینڈ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہندستان گزشتہ ٹی -20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ سے ہارا تھا۔


هرمنپريت نے 2017 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف ناقابل شکست 171 رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر ہندستان کو فتح دلائی تھی۔ هرمنپريت نے اپنی کرشمائی اننگز میں 115 گیندوں پر ناٹ آوٹ 171 رن میں 20 چوکے اور سات چھکے لگائے تھے۔ هرمنپريت کی موجودہ ٹورنامنٹ میں بیٹ کے لحاظ سے مایوس کن کارکردگی رہی ہے اور وہ چار میچوں میں 2،8،1 اور 15 رنز بنا پائی ہیں لیکن ہندستانی ٹیم کو امید رہے گی کہ اس کی کپتان فائنل میں دھماکہ خیز بلے بازی کریں اور ٹیم کو چمپئن بنائیں۔فائنل میں ہندستان کی توقعات کا دار و مدار دنیا کی نمبر ایک ٹی -20 بلے باز 16 سال کی شیفالي ورما پر رہے گا۔ شیفالي نے چار میچوں میں 161.00 کے اسٹرائک ریٹ سے 161 رن بنائے ہیں۔ ان کی دھماکہ خیز بلے بازی نے ہی ہندستان کو فائنل میں پہنچایا ہے۔ وہ دو بار پلیئر آف دی میچ بن چکی ہیں۔ شیفالي نے چار میچوں میں 29، 39، 46 اور 47 رنز کی میچ فاتح بہترین اننگ کھیلی ہیں۔ ہر میچ کے ساتھ ان کا گراف مسلسل بلند ہوتا چلا جا رہا ہے اور آج وہ عالمی رینکنگ میں نمبر ایک بلے باز بن چکی ہیں۔

ہندستانی خاتون ٹیم کو اپنے اسپنروں سے بھی خاصی امیدیں رہیں گی جنہوں نے اس ٹورنامنٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی کی ہے۔ لیگ اسپنر پونم یادو ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ نو وکٹ لے چکی ہیں۔ میڈیم فاسٹ بولر شکھا پانڈے نے سات وکٹ لیے ہیں جبکہ لیفٹ آرم اسپنر رادھا یادو نے پانچ اور لیفٹ آرم اسپنر راجیشوري گايكواڈ نے پانچ وکٹ لئے ہیں۔آسٹریلیا کی جانب سے میگن شٹ نے بھی پانچ میچوں میں نو وکٹ لئے ہیں جبکہ جیس جوناسن پانچ میچوں میں سات وکٹ لے چکی ہیں۔ بلے بازی میں آسٹریلیا کی بیت موني پانچ میچوں میں 181 رنز بنا چکی ہیں اور ایلسا هيلي نے 161 رن بنائے ہیں۔فائنل کافی سخت رہنے کی امید ہے۔ اسٹیڈیم ہاؤس فل رہے گا اور آسٹریلوی ٹیم کو اپنے شائقین کی حمایت کا مکمل فائدہ ملے گا جبکہ ہندستانی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ہندستانی شائقین بھی موجود رہیں گے۔ ہندستانی خاتون ٹیم کو نئی تاریخ رقم کرنی ہے اور هرمنپريت کی ٹیم اس موقع کو ترک نہیں کرنا چاہے گی۔