ٹی 20 ورلڈ کپ: سنسنی خیز مقابلے میں ویسٹ انڈیز کو ہرا کر جنوبی افریقہ سیمی فائنل میں پہنچا

جنوبی افریقہ نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ افریقہ نے ڈی ایل ایس کے تحت ویسٹ انڈیز کو 3 وکٹوں سے شکست دی۔

<div class="paragraphs"><p>جنوبی افریقہ / تصویر بشکریہ ایکس</p></div>

جنوبی افریقہ / تصویر بشکریہ ایکس

user

قومی آوازبیورو

ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر جنوبی افریقہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پہنچ گیا ہے۔ افریقہ نے ڈک ورتھ لوئس اصول کے تحت یہ میچ 3 وکٹوں سے جیت لیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت کانٹے کی ٹکر رہی جس پربارش بھی اثر انداز ہوئی۔ یہ ایک کم اسکورنگ میچ تھا جس میں سنسنی خیزی دیکھنے کو ملی۔ افریقہ کی ٹیم کو جب آخری اوور میں 5 رنوں کی ضرورت تھی تو مارکو یانسین نے 20ویں اوور کی پہلی گیند پر چھکا لگا کر افریقہ کو جیت دلائی۔

اس سنسنی خیز مقابلے میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ کیا۔ ویسٹ انڈیز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں پر 135 رن بنائے۔ پھر دوسری اننگز کے دوران بارش ہوئی اور افریقہ کو 17 اوورز میں 123 رن کا ہدف دیا گیا جو ٹیم نے 16.1 اوورز میں حاصل کر لیا۔ میچ آخر تک پہنچا جس میں دنوں ٹیموں کی جیت کے قریب تھیں مگر افریقہ نے جیت حاصل کی۔

136 رنز کے ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ کا آغاز اچھا نہ ہو سکا۔ ٹیم نے اپنی پہلی وکٹ دوسرے اوور کی پہلی گیند پر ریزا ہینڈرکس کی صورت میں گنوائی۔ ہینڈرکس گولڈن ڈک پر آؤٹ ہوگئے۔ پھر اس اوور کی آخری گیند پر کوئٹن ڈی کاک بھی پویلین لوٹ گئے۔ ڈی کاک نے 7 گیندوں میں 3 چوکوں کی مدد سے 12 رن بنائے۔ پھر اننگز میں کچھ وقت لگا اور چھٹے اوور کی دوسری گیند پر کپتان ایڈن مارکرم اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ مارکرم نے 15 گیندوں پر 2 چوکوں کی مدد سے 18 رنز بنائے۔


افریقہ کی ٹیم نے اپنی چوتھی وکٹ 8ویں اوور کی آخری گیند پر ہنرک کلاسن کی صورت میں گنوائی۔ کلاسن نے 10 گیندوں میں 3 چوکوں اور 1 چھکے کی مدد سے 22 رنز بنائے۔ اس وکٹ کے بعد میچ کا رخ ویسٹ انڈیز کے حق میں ہونے لگا۔ اس کے بعد ٹیم کی پانچویں وکٹ 12ویں اوور کی چوتھی گیند پر ڈیوڈ ملر کی صورت میں گری جو 14 گیندیں کھیلنے کے بعد صرف 04 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پھر ٹیم کی آخری امید ٹرسٹن اسٹبس 14ویں اوور کی پہلی گیند پر پویلین لوٹ گئے۔ اسٹبس نے اچھی اور بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 27 گیندوں میں 4 چوکوں کی مدد سے 29 رنز بنائے۔

اس کے بعد افریقہ نے ساتواں وکٹ 16ویں اوور کی دوسری گیند پر کیشو مہاراج کی شکل میں گنوایا۔ مہاراج نے 6 گیندوں میں صرف 02 رنز بنائے۔ اس کے بعد سے افریقہ نے کوئی وکٹ نہیں گنوایا اور آٹھویں وکٹ کے لیے کاگیسو رباڈا اور مارکو یانسن نے 14 (5 گیندوں) کی چھوٹی لیکن اہم شراکت قائم کی اور ٹیم جیت گئی۔ نانسن نے 14 گیندوں میں 1 چوکے اور 1 چھکے کی مدد سے 21 رنز بنائے اور رباڈا نے 3 گیندوں میں 1 چوکے کی مدد سے 5 رنز بنائے۔

 جبکہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے روسٹن چیز نے سب سے زیادہ 3 وکٹیں حاصل کیں۔ اس دوران انہوں نے 3 اوورز میں 12 رنز دیے۔ آندرے رسل اور الجاری جوزف نے بقیہ 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔