ٹی-20 عالمی کپ: سیمی فائنل کی امیدوں کو زندہ رکھنے پر ہوگی ہندوستان کی نظر

ہندوستان کابس قسمت پر نہیں ہے، لیکن انہیں اگلے دو میچوں میں بڑی جیت حاصل کرنی ہوگی تاکہ اس کا نیٹ رن ریٹ اور بھی بہتر ہوسکے

تصویر ٹوئٹر
تصویر ٹوئٹر
user

یو این آئی

دبئی: ہندوستان کابس قسمت پر نہیں ہے، لیکن انہیں اگلے دو میچوں میں بڑی جیت حاصل کرنی ہوگی تاکہ اس کا نیٹ رن ریٹ اور بھی بہتر ہو سکے۔ اسکاٹ لینڈ شاید ابھی کوالیفائی نہیں کرسکتا، لیکن وہ اس بڑی اور پسندیدہ ٹیم کے خلاف مقابلہ کرتے ہوئے سرخیاں حال کرنا اور سبھی کی نظروں میں رہنا چاہیں گے۔

بدھ کو بھی اسکاٹ لینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور میچ کو بہت قریب لے گئے جہاں انہیں 16 رنز سے ہار ملی تھی۔ اگرکوئی ایک بڑی شراکت داری ہوگئی ہوتی یا ڈیتھ اوورز میں ایک اور اچھا اوور ہوتا تو آج یہ ٹیم کروڑوں ہندوستانیوں کی پسندیدہ بن جاتی۔ لیکن اب اگر وہ ہندوستان کے خلاف بھی یہی کارکردگی دکھاتے ہیں تو ٹیم انڈیا کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔


افغانستان کے خلاف، ہندوستانی بلے بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پوری اننگز میں مسلسل جارحانہ انداز اختیار کیا، جس کی انہیں پہلے دو میچوں میں ضرورت تھی اور تب وہ نہیں کر پائے تھے۔ اسکاٹ لینڈ کے خلاف، ہندوستان کی نظر بلے بازی کے ساتھ ساتھ گیند بازی میں مزید بہتری حاصل کرنے کی ہوگی۔

ہاردک پانڈیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا وہ مسلسل گیند بازی کر سکتے ہیں یا نہیں، پھرچاہے وہ نچلے آرڈر میں بلے بازی میں کتنی بھی گہرائی کیوں نہ دیتے ہوں۔ افغانستان کے خلاف اس نے بالنگ کی لیکن وہ فارم میں نظر نہیں آئے اور ان کے دو اوور مہنگے رہے۔ لیکن جس طرح انہوں نے بلے سے 13 گیندوں پر 35 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی، اس سے ہندوستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2021 کا سب سے بڑا اسکور بھی اپنے دم پر بنا لیا۔ کیا گیند سے بھی وہ جلدی ہی ایسا معجزہ کر پائیں گے؟


اوپنر کے طور پر جارج منسی اپنی جارحانہ بلے بازی سے کسی بھی ٹیم کے گیند بازوں کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔ ان کے کھیلنے کا انداز کافی جارحانہ ہے، خاص طور پر پاور پلے میں، لیکن انہوں نے اب تک اس مقابلے میں اپنی صلاحیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ وہ اچھی شروعات کو بڑی اننگز میں تبدیل نہیں کر سکے اور اب تک ان کا سب سے زیادہ اسکور 29 ہے۔ کیا منسی جمعہ کو اپنے سباب پر ہوں گے؟

سوریہ کمار یادو اب فٹ ہیں اور وہ بدھ کو پلیئنگ الیون کا حصہ بھی تھے، افغانستان کے خلاف ورون چکرورتی کی جگہ آر اشون کو موقع ملا اور انہوں نے اس کا جم کر فائدہ اٹھایا۔ جس کے بعد اس بات کی امید کم ہی ہے کہ ورون اسکاٹ لینڈ کے خلاف آخری 11 میں جگہ بنا پائیں گے۔


یہ میچ دبئی میں رات کو کھیلا جائے گا، اس لیے دوسرے ہاف میں اوس بڑا فرق پیدا کر سکتی ہے۔ یہ تقریباً طے ہے کہ جو بھی کپتان ٹاس جیتے گا وہ پہلے بالنگ کا فیصلہ کرے گا۔ لیکن وراٹ کوہلی کے لیے ٹاس کا باس بننا ْتیڑھی کھیر سے کم نہیں، کوہلی ہندوستان کے لیے گزشتہ 14 میں سے 13 میچوں میں ٹاس ہار چکے ہیں۔اسکاٹ لینڈ کے کپتان کائل کوئٹزر کے مطابق ان کے فاسٹ بالر جوش ڈیوی کی انجری ابھی تک مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی ہے اور ان کے کھیلنے کا حتمی فیصلہ ٹاس سے پہلے کیا جائے گا۔

انڈیا (ممکنہ الیون): 1۔ کے ایل راہل، 2 روہت شرما، 3 وراٹ کوہلی (کپتان)، 4 سوریہ کمار یادو، 5 رشبھ پنت (وکٹ)، 6 ہاردک پانڈیا، 7 رویندر جڈیجہ، 8 شاردول ٹھاکر، 9 آر اشون، 10 محمد سمیع، 11 جسپریت بمراہ۔

اسکاٹ لینڈ (ممکنہ الیون): 1 جارج منسی، کائل کوئٹزر، 3 کیلم میکلاوڈ، 4 رچی بیرنگٹن، 5 مائیکل لیسک، 6 میٹ کراس، 7 کرس گریوز، 8 مارک واٹ، 9 سفیان شریف، 10 جوش ڈیوی/الیسٹئر ایونز، 11۔ بریڈ وہیل۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔