ٹی-20 عالمی کپ چمپئن ہندوستانی ٹیم کا ممبئی ایئرپورٹ پر ’پانی سے سلامی‘، وانکھیڑے میں شاندار جشن، روہت-کوہلی ہوئے جذباتی

ممبئی کے مرین ڈرائیو پر لاکھوں کرکٹ شیدائیوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا جو ورلڈ چمپئن ہندوستانی ٹیم کا استقبال کر رہے تھے، سبھی کھلاڑی کھلی بس میں سوار وانکھیڑے اسٹیڈیم پہنچے جہاں عظیم الشان جشن منایا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>وکٹری پریڈ کے دوران کھلی بس پر سوار ہندوستانی ٹیم، تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/mufaddal_vohra">@mufaddal_vohra</a></p></div>

وکٹری پریڈ کے دوران کھلی بس پر سوار ہندوستانی ٹیم، تصویر@mufaddal_vohra

user

قومی آوازبیورو

ٹی-20 عالمی کپ چمپئن کا آج ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں زوردار استقبال ہوا۔ کرکٹ شائقین سے کھچا کھچ بھرے اسٹیڈیم میں جب ہندوستانی ٹیم پہنچی تو ’روہت-روہت‘، ’وراٹ-وراٹ‘، ’بمراہ-بمراہ‘ اور ’ہاردک-ہاردک‘ کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ جب سے ہندوستانی ٹیم وطن واپس آئی ہے، اس کا زور و شور سے استقبال ہو رہا ہے۔ پہلے ہندوستانی ٹیم دہلی پہنچی جہاں وزیر اعظم نریندر مودی سے سبھی کھلاڑیوں کی ملاقات ہوئی۔ پھر جب ہندوستانی ٹیم ممبئی پہنچی تو ممبئی ایئرپورٹ پر انھیں ’پانی کی سلامی‘ (واٹر کینن سیلیوٹ) دی گئی۔ یہ نظارہ انتہائی دلکش تھا اور اس کی ویڈیو تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

بوقت شام جب ہندوستانی ٹیم کی ’وکٹری پریڈ‘ نکلی تو نظارہ نظارہ دیکھنے لائق تھا۔ لاکھوں کرکٹ شیدائی مرین ڈرائیو پر روہت بریگیڈ کا استقبال کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سمندر کے کنارے انسانی سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑی مرین ڈرائیو سے ٹرافی کے ساتھ کھلی بس میں چڑھے اور وکٹری پریڈ میں حصہ لیا۔ مرین ڈرائیو سے لے کر وانکھیڑے اسٹیڈیم تک ممبئی کی سڑکوں پر ہر طرف کرکٹ شیدائیوں کا ہجوم دکھائی دیا۔ ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس دوران مرین ڈرائیو پر موجود اپنے چاہنے والوں کا ہاتھ ہلا کر استقبال کیا۔ مرین ڈرائیو پر بھیڑ اس قدر زیادہ تھی کہ بس کا آگے بڑھنا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ ٹیم کے کھلاڑی ترنگا ہاتھ میں لیے لہرا رہے تھے جس سے کرکٹ شیدائیوں کا جوش اپنے عروج پر پہنچ رہا تھا۔


ہندوستانی ٹیم جب وانکھیڑے پہنچی تو وہاں پہلے سے ہی اسٹیڈیم پوری طرح سے بھرا ہوا تھا۔ سبھی ورلڈ چمپئن ٹیم کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ پھر جب وانکھیڑے میں جشن شروع ہوا اور ہندوستانی کپتان روہت شرما کو جیسے ہی اسٹیج پر بلایا گیا تو ماحول خوشگوار ہو گیا۔ وانکھیڑے میں موجود سبھی لوگ جھوم رہے تھے اور ’روہت-روہت‘ کا نعرہ بلند کر رہے تھے۔ اس دوران روہت بہت جذباتی نظر آئے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’یہ ٹرافی جتنی ہمارے لیے اہمیت رکھتی ہے، اتنی ہی پورے ملک کی ہے۔ یہ ٹرافی میں کرکٹ شیدائیوں کو وقف کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’جب بھی ہم نے ٹرافی جیتی ہے، ممبئی نے کبھی ہندوستانی ٹیم کو مایوس نہیں کیا ہے۔ 11 سال سے سبھی کرکٹ شیدائی اس خطاب (آئی سی سی ٹرافی) کا انتظار کر رہے تھے اور آخر کار یہ انتظار ختم ہوا۔‘‘

روہت شرما نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں سمجھ نہیں پا رہا کہ کیا بولوں۔ سبھی کرکٹ شیدائیوں کا شکریہ۔ جب سے ہم ہندوستان آئے ہیں، شاندار استقبال ہوا ہے۔ جس طرح سے ہمیں استقبالیہ ملا، وہ دیکھ کر آپ کو بھی محسوس ہوا ہوگا کہ یہ کتنا شاندار ہے۔ ممبئی میں ہمارا استقبال شاندار رہا۔ جن لوگوں نے ہماری حمایت کی، 11 سال تک ٹرافی کا انتظار کیا، ان سبھی کو شکریہ۔‘‘ ہاردک اور سوریہ کمار کا تذکرہ کرتے ہوئے روہت نے کہا کہ ’’ہاردک نے ہمارے لیے آخری اوور میں گیندبازی کی۔ چاہے ہم کتنا بھی رن بنا لیں، لیکن اگر خاتمہ اچھا نہ ہو تو کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ ایسے میں ہاردک نے ہمارے لیے بخوبی وہ کام کیا۔ ہم نے آخری اوور میں بہت بات چیت کی۔ پھر ہاردک نے ہمارے لیے وہ اوور ڈالا۔ پھر آخری اوور میں ڈیوڈ ملر کا وہ کیچ لے کر سوریہ کمار یادو نے کمال کر دیا۔ وہ لمحہ شاندار تھا۔ سب کچھ اوپر والے نے طے کر رکھا تھا۔ ٹریننگ میں ہمارے کھلاڑیوں کو سخت محنت کرائی جاتی ہے اور سوریہ کمار نے ایسا ہی کیا۔‘‘


وانکھیڑے میں روہت کے ساتھ ساتھ وراٹ کوہلی میں جذباتی نظر آئے۔ انھوں نے عالمی چمپئن بننے پر اپنے احساسات لوگوں کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’جب 2007 یا 2011 میں ہم نے عالمی کپ جیتا تھا تو سینئر کھلاڑی خوب روئے تھے، لیکن میں ان سے کنیکٹ (ربط) نہیں کر پایا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ کیوں جذباتی ہو رہے ہیں۔ لیکن اب جب ہم سینئر ہو چکے ہیں تو ہم اسے محسوس کر سکتے ہیں۔ چاہے میں ہوں، یا روہت، دونوں گزشتہ کافی وقت سے ٹرافی جیتنے کی کوشش میں لگے تھے۔ پہلے میری کپتانی میں اور پھر روہت کی کپتانی میں۔ ہم دونوں اس ٹرافی کو جیتنے کے لیے بے تاب تھے، لیکن کسی نہ کسی وجہ سے ہم جیت نہیں پا رہے تھے۔ اب جب ہم جیتے ہیں تو ہمارے لیے یہ بہت خاص ہے۔ جیت کر واپس سے وانکھیڑے آنا ہمارے لیے خوشگوار موقع ہے۔‘‘

وراٹ کوہلی فائنل مقابلہ جیتنے کے بعد کا لمحہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’میں انٹرنیٹ بریک کے بارے میں نہیں جانتا، لیکن میں نے 15 سال کے کیریئر میں روہت کو اتنا جذباتی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ میں ڈریسنگ روم جا رہا تھا اور روہت باہر نکل رہے تھے۔ ہم دونوں ہی جذباتی تھے اور رو رہے تھے، اور پھر ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ وہ لمحہ میرے لیے بہت خاص رہے گا۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔