ٹی-20 عالمی کپ 2026: نیوزی لینڈ سے شکست کھا کر میزبان سری لنکا سیمی فائنل کی ریس سے باہر

نیوزی لینڈ نے سری لنکا کے سامنے جیت کے لیے 169 رنوں کا ہدف رکھا تھا۔ ایک موقع بھی ایسا نہیں آیا جب میزبان ٹیم اس ہدف کے قریب پہنچتی ہوئی دکھائی دی۔ اس نے 20 اوورس میں محض 107 رن بنائے۔

<div class="paragraphs"><p>فاتح نیوزی لینڈ ٹیم، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ICC">@ICC</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ دلچسپ مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ روز ہمیں ’گروپ-2‘ سے سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم انگلینڈ کی شکل میں مل گئی تھی، اور آج ’گروپ-2‘ سے پہلی ایسی ٹیم کا نام بھی سامنے آ گیا ہے جو سیمی فائنل کی ریس سے باہر ہو چکی ہے۔ یہ ٹیم میزبان سری لنکا ہے، جسے آج نیوزی لینڈ نے بہ آسانی 61 رنوں سے شکست دے دی۔ اب اس گروپ میں سیمی فائنل کے لیے اصل جنگ نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان ہے۔ سیمی فائنل میں داخلہ پانے کے امکانات نیوزی لینڈ کے لیے بے حد روشن نظر آ رہے ہیں، کیونکہ 2 میچوں میں 3 پوائنٹس کے علاوہ اس کا رَن ریٹ (3.050) بہت اچھا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے 2 میچوں میں محض 1 پوائنٹ ہے اور رَن ریٹ (منفی 0.461) بھی خراب ہے۔ یعنی پاکستان کو سری لنکا کے خلاف نہ صرف جیت حاصل کرنی ہوگی، بلکہ اپنا رَن ریٹ بھی بہتر کرنا ہوگا۔ نیوزی لینڈ کے لیے انگلینڈ کے خلاف فتح اور شکست دونوں صورت میں سیمی فائنل کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

آج کولمبو کے پریمداسا اسٹیڈیم میں کھیلا گیا مقابلہ یکطرفہ ثابت ہوا۔ نیوزی لینڈ نے سری لنکا کے سامنے جیت کے لیے 169 رنوں کا ہدف رکھا تھا۔ امید کی جا رہی تھی کہ میزبان سری لنکا اپنی زمین پر سخت ٹکر دے گی، لیکن ایک موقع بھی ایسا نہیں آیا جب میزبان ٹیم اس ہدف کے قریب پہنچتی ہوئی دکھائی دی۔ سری لنکائی ٹیم نے 20 اوورس تو پورے کھیل لیے اور وکٹ بھی 8 ہی گرے، لیکن 107 رن ہی بنا سکی۔ اس طرح کیوی ٹیم نے اس میچ کو 61 رنوں کے بڑے فرق سے جیت لیا، جس سے اس کا رَن ریٹ بہت اچھا ہو گیا۔


سری لنکا ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ ٹھیک بھی معلوم پڑ رہا تھا، کیونکہ نیوزی لینڈ نے ایک وقت 86 رن پر 6 وکٹ گنوا دیے تھے۔ لیکن اس کے بعد کپتان مشیل سینٹنر اور کول میکونکی نے مل کر ساتویں وکٹ کے لیے 84 رنوں کی ریکارڈ شراکت داری کی۔ یہ رن بھی تیزی کے ساتھ بنائے گئے، جس سے ٹیم کا اسکور 20 اوورس میں 168 رن تک پہنچ گیا۔ سینٹنر نے 26 گیندوں پر 47 رن اور میکونکی نے 23 گیندوں پر ناٹ آؤٹ 31 رن بنائے۔ رچن رویندر نے 22 گیندوں پر 32 رنوں کا اور فن ایلن نے 13 گیندوں پر 23 رنوں کا تعاون کیا۔ سری لنکا کی طرف سے مہیش تیکشنا اور دشمنتا چمیرا کو 3-3 وکٹ ملے، جبکہ ایک وکٹ دُنتھ ویلالاگے کے حصے میں آیا۔

سری لنکا کی شروعات بھی انتہائی خراب رہی۔ اننگ کی پہلی ہی گیند پر میٹ ہنری نے فارم میں چل رہے بلے باز پتھم نسانکا کو بولڈ کر دیا۔ ٹیم کا اسکور 6 رن ہی تھا جب ہنری نے چرتھ اسلانکا کی شکل میں دوسرا جھٹکا بھی دے دیا۔ کسل مینڈس اور پون رتنایکے کے درمیان شراکت داری بننی شروع ہی ہوئی تھی کہ مینڈس (11 رن) کو رچن رویندر نے اسٹمپ آؤٹ کرا دیا۔ اسی اوور میں رتنایکے (10 رن) بھی اسٹمپ ہو گئے۔ یعنی سری لنکا کے 4 وکٹ 29 رن پر ہی پویلین لوٹ گئے۔ کمنڈو مینڈس نے 31 رن اور دُنتھ ویلالاگے نے 29 رنوں کا تعاون ضرور کیا، لیکن یہ رَن بھی دھیمی رفتار سے بنے۔ کسی دیگر بلے باز نے تو دوہرا ہندسہ بھی نہیں چھوا۔ سری لنکا نے اپنے 2 وکٹ تو بچا لیے، لیکن 20 اوورس میں 107 رن ہی بنا سکی۔ نیوزی لینڈ کی طرف سے رچن اس جیت کے ہیرو رہے، جنھوں نے 4 اوورس میں 27 رن دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس کارکردگی کے لیے انھیں پلیئر آف دی میچ ایوارڈ دیا گیا۔ میٹ ہنری کے حصے میں 2 وکٹ اور مشیل سینٹنر کے حصے میں ایک وکٹ آیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔