سوئنگ ماسٹر عرفان پٹھان نے کرکٹ کو کہا الوداع

ہندوستانی کرکٹ میں ایک وقت اپنی سوئنگ گیند بازی کا لوہا منوا چکے عرفان پٹھان نے ہفتہ کو بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر اپنے 17 برس کے سنہرے کیریئر پر بریک لگا دیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ میں ایک وقت اپنی سوئنگ گیند بازی کا لوہا منوا چکے عرفان پٹھان نے ہفتہ کو بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر اپنے 17 برس کے سنہرے کیریئر پر بریک لگا دیا۔ عرفان طویل عرصے سے ہندوستانی کرکٹ سے باہر چل رہے تھے اور قومی ٹیم کی جانب سے اپنا آخری ون ڈے 2012 میں سری لنکا کے خلاف پليكیل اور آخری ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی میچ اکتوبر 2012 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔ انہوں نے آخری ٹیسٹ ہندستان کی جانب سے اپریل 2008 میں کھیلا تھا۔ایسے میں سوئنگ بولر آل راؤنڈر کے 17 سال کے اپنے طویل کرکٹ کیریئر پر روک لگانے کا فیصلہ افسوسناک نہیں ہے۔ عرفان سال 2007 میں عالمی فاتح ٹوئنٹی 20 ہندستانی ٹیم کا حصہ رہے تھے۔ اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں ہی عرفان ا سٹیو وا اور ایڈم گلکرسٹ کو اپنی ریورس سوئنگ گیند بازی سے چونكاكر بحث میں آئے تھے۔ انہوں نے جنوری 2004 میں سڈنی میں متاثر کن کارکردگی کے تین سال بعد عالمی کپ ٹیم میں جگہ بنائی تھی۔

عرفان کا کریئر اگرچہ اتار چڑھاو بھرا رہا اور ہندستان کی جانب سے انہوں نے کیریئر میں 29 ٹیسٹ، 120 ون ڈے اور 24 ٹوئنٹی 20 بین الاقوامی میچ کھیلے۔ وہ ہندوستان کے لیے ٹیسٹ فارمیٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے ہندستانی فاسٹ بولروں کی فہرست میں شامل ہیں۔عرفان نے نومبر 2003 میں اس وقت سرخیاں بنائی تھیں جب انہوں نے لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف انڈر -19 ٹیم کی جانب سے 16 رن پر نو وکٹ نکالے تھے۔ وہ سال 2004 میں ہندستان کی انڈر -19 ورلڈ کپ ٹیم کا بھی حصہ رہے اور سال 2003-04 میں ہی آسٹریلیا دورے پر ہندوستانی ٹیم کا حصہ بن گئے۔ پہلے ٹیسٹ سے باہر رہنے کے بعد انہیں زخمی ظہیر خان کی جگہ ٹیم میں بلایا گیا۔35 سالہ بولر کے نام 100 ٹیسٹ، 173 ون ڈے اور 28 ٹی -20 وکٹ درج ہیں۔ انہوں نے سات سال پہلے آخری بار ٹیم کی بلیو جرسی پہنی تھی۔ سال 2012 کے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کا حصہ رہے لیکن پھر ٹیم میں کبھی واپسی نہیں کر سکے۔ اگرچہ عرفان مسلسل گھریلو کرکٹ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے سال 2000-01 میں بڑودہ کیلئے ڈیبو کیا تھا اور ٹیم کے کپتان بھی بنے۔ ہندستانی کرکٹر نے بعد میں جموں کشمیر ریاست کی ٹیم سے کھیلنا شروع کیا جس میں وہ مارچ 2018 سے کھیلنے کے علاوہ مینٹر بھی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ سال 2019 میں اپنا آخری گھریلو میچ کھیلا تھا۔عرفان کے کیریئر میں 2006 میں پاکستان کا دورہ بھی سب سے زیادہ یادگار سمجھا جا سکتا ہے جس میں وہ آف اسپنر ہربھجن سنگھ کے بعد ہندستان کے ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے محض دوسرے بولر بنے تھے۔ انہوں نے کراچی میچ میں پاکستان کے خلاف اپنے پہلے ہی اوور میں سلمان بٹ، یونس خان اور محمد یوسف کو آخری تین گیندوں پر آؤٹ کر تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیا۔اس کے ایک سال بعد ستمبر 2007 میں ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں عرفان نے فائنل میں پاکستان کے خلاف 16 رن پر تین وکٹ نکالے اور پورے ٹورنامنٹ میں 14.90 کی اوسط سے 10 وکٹ لے کر ٹیم کے کامیاب بولر بن گئے۔ اسی سال انہوں نے پاکستان کے خلاف ہی اپنے ٹیسٹ کیریئر کی پہلی سنچری بھی بنائی۔

عرفان نے سال 2007-08 میں ہندستان کے آسٹریلیا کے دورے میں پرتھ میچ میں گیند اور بلے دونوں سے متاثر کیا اور ہندستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا جو اس کی آسٹریلیا کی زمین پر پہلی جیت بھی تھی۔ عرفان نے اس ٹیسٹ میں پانچ وکٹ لئے اور 28 اور 46 رنز بنائے۔اگرچہ عرفان کا بین الاقوامی کیریئر انجری سے بہت متاثر رہا، لیکن انڈین پریمیئر لیگ میں وہ سال 2016 تک مسلسل کھیلتے رہے۔ وہ آئی پی ایل میں کنگز الیون پنجاب، دہلی ڈئیر ڈیولس، گجرات لائنز، سن رائزرس حیدرآباد اور پنے سپرجائنٹس کی جانب سے کھیل چکے ہیں۔گزشتہ دو برسوں سے عرفان کرکٹ ماہر اور ہندی کمنٹیٹر کے نئے کردار میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ اپنے آبائی شہر بڑودہ میں کرکٹ اکیڈمی چلاتے ہیں جس میں ان کے بھائی یوسف پٹھان بھی حصہ دار ہیں۔