دلچسپ مقابلے میں حیدرآباد کی چار رن سے جیت، بنگلور کے لئے مشکلیں بڑھیں

بنگلور کا نیٹ رن ریٹ چنئی کے مقابلے بہت خراب ہےاور ایسے میں بنگلور کی ٹاپ دو میں فنش کرنے کی امیدیں بہت کم ہیں۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سن رائزرس حیدرآباد نے اپنے گیندبازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت بدھ کے روز دلچسپ مقابلے میں رائل چیلنجرز بنگلور کو چار رن سے شکست دی۔

پہلے بلے بازی کرتے ہوئے حیدرآباد نے 20 اوورز میں سات وکٹوں پر 141 رنز بنائے۔ جواب میں بنگلور کی ٹیم 20 اوورز میں چھ وکٹوں پر 137 رنز ہی بنا سکی ، حالانکہ پورا میچ دلچسپ تھا۔ میچ کبھی کسی ایک ٹیم کے حق میں نہیں نظر آیا ۔ چیلنجنگ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بنگلور کے اوپنرز وراٹ کوہلی اور دیودت پڈیکل نے ٹیم کو اچھی شروعات نہیں دی۔ کپتان کوہلی پہلے اوور کی آخری گیند پر بھونیشور کا شکار بنے۔ وہ پانچ رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔چھ کے اسکور پر پہلا وکٹ گرنے کے بعد ٹاپ آرڈر کے بلے بازی کرنے آئے ڈینیل کرشچن بھی کچھ نہیں کرسکے اور ایک رن بناکر ڈگ آوٹ لوٹے۔


18 کے اسکور پر ان کا وکٹ گرا۔ اس کے بعد پڈیکل نے سری کر بھرت کے ساتھ مل کر اننگز کو آگے بڑھایا ۔ لیکن بھرت دس گیندوں پر 12 رن بناکر آوٹ ہوگئے ۔

سریکر کی شکل میں ٹیم کا تیسرا وکٹ گرنے کے بعدگلین میکسویل کریز پر آئے اور آتے ہی زبردست بلے بازی کی ۔ میکسویل نے 25 گیندوں پر 40 رن کی زبردست اننگز کھیلی۔ ان کی بلے بازی سے بنگلور کی پوزیشن مضبوط ہوئی لیکن وہ رن آوٹ ہوگئے اور یہ میچ اور دلچسپ ہوگیا۔ اس کے بعد پڈیکل اور اے بی ڈی ویلئرس نے اننگز کو سنبھالا۔


اس بیچ پڈیکل بھی 52 گیندوں پر 41 رن کی دھیمی اننگز کھیل کر آوٹ ہوگئے۔ آخر میں ڈی ویلئرس اوراحمد نے جدوجہد کی اور میچ کو آخر اوور تک پہنچایا۔ بنگلور کو جیت کے لئے آخر اوورز میں 13 رن درکار تھے لیکن اسی اوور میں وہ آٹھ ہی رن بناسکے ۔

حیدرآباد کی گیندبازی اچھی رہی۔ تمام گیند باز کامیاب رہے ۔ بھونیشور کمار نے چار اوورز میں 25 رن دے کر ایک، جیسن ہولڈر نے چار اوور میں 27 رن دے کر ایک ، سدھارتھ کول نے چار اوور میں 24 رن پر ایک، عمران ملک نے چار اوور میں 21 رن پر ایک اور راشد خان نے چار اوور میں 39 رن پر ایک کھلاڑی کو آوٹ کیا۔ حیدرآباد کے کپتان ولیم سن کو 31 رنز کی اننگز کھیلنے پر 'پلیئر آف دی میچ' کا ایوارڈ دیا گیا۔


بنگلور کے پاس اب ایک ہی میچ باقی ہے اور اس میں جیت کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ 18 پوائنٹ حاصل کرسکتی ہے۔بنگلور کی شکست سے دہلی کے ٹاپ دو میں ہی رہنے کی تصدیق ہوگئی ہے۔ دراصل نمبر ایک دہلی اور نمبر دو چنئی کے پاس بھی ایک ایک میچ باقی ہے۔ دہلی کی ٹیم اگر اپنا آخری میچ جیت جاتی ہے تو 22 پوائنٹ تک پہنچ جائے گی جبکہ ٹیم چنئی جیت کے ساتھ 20 پوائنٹ پر پہنچ جائے گی لیکن اگر چنئی آخری میچ ہار جاتی ہے اور بنگلور کی ٹیم جیت جاتی ہے تو پھر نیٹ رن ریٹ کا اہم رول رہے گا اور ابھی بنگلور کا نیٹ رن ریٹ چنئی کے مقابلے بہت خراب ہے۔ ایسے میں بنگلور کی ٹاپ دو میں فنش کرنے کی امیدیں بہت کم ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔