مایوس مسلم نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرتے محمد سراج

سراج کے ابو نہیں دیکھ پائے کہ آج جب ان کا لخت جگر حیدرآباد پہنچا تو سارا شہر ان کا منتظر تھا، وہ سڑکیں بھی خیر مقدم کے لئے ترس رہی تھیں جن پر کبھی ابو نے رکشہ چلا کر سراج کی پرورش کے لئے مشقت کی تھی

تصویر بشکریہ ٹوئٹر / بی سی سی آئی
تصویر بشکریہ ٹوئٹر / بی سی سی آئی
user

آس محمد کیف

حیدرآباد: آسٹریلیا دورے پر ہندوستان کو ٹیسٹ سیریز جتانے میں اہم کردار نبھانے والے محمد سراج گزشتہ روز وطن لوٹ آئے، حیدر آباد پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ سراج نے صبح کے وقت ممبئی سے شمس آباد ائیر پورٹ پہنچتے ہی بلاتاخیر والد کی قبر پر حاضری دینے کا فیصلہ کیا اور پھر وہاں پہنچ کر دعائے مغفرت کی۔ اس موقع پر ان کی آنکھیں پر نم نظر آئیں۔

قوم کے ہیرو بن چکے سراج کی کامیابی کو نہ تو ان کے ابو غوث محمد دیکھ پائے اور نہ ہی سراج اپنے والد کا آخری دیدار کر سکے۔ سراج کے ابو نہیں دیکھ پائے کہ آج جب ان کا لخت جگر حیدرآباد پہنچا تو سارا شہر ان کا انتظار کر رہا تھا۔ آج وہ سڑکیں بھی سراج کے خیر مقدم کے لئے ترس رہی تھیں جن پر کبھی ان کے ابو نے رکشہ چلا کر سراج کی پرورش کے لئے مشقت کی تھی۔

مایوس مسلم نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرتے محمد سراج

سراج کے حیدرآباد آنے کے بعد ایئرپورٹ سے لے کر قبرستان اور ان کے گھر تک میڈیا کا رش اور درجنوں کیمرے موجود تھے۔ اس منظر کو سراج کے ابو ہی نہیں ان کی امی بھی نہیں دیکھ پائیں کیونکہ وہ اس وقت عدت میں بیٹھی ہوئی ہیں۔ دو مہینے پہلے جو سراج آسٹریلیا کے لئے روانہ ہوا تھا وہ اب پوری طرح بدل چکا ہے، اس کی زندگی بدل چکی ہے۔ سراج کے بھائی اسماعیل نے کہا ’’ابو کا خواب تھا کہ سراج ہندوستان کے لئے ٹیسٹ کرکٹ کھیلے۔ ابو کا خواب تو پورا ہوا مگر وہ یہ دیکھ نہیں پائے۔‘‘

چھبیس سالہ محمد سراج آسٹریلیا میں حال ہی میں اختتام پزین ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ وکٹ حاصل کرنے والے گیندباز ہیں۔ انہوں نے اس سیریز کے تین میچ کھیلے اور 13 وکٹ حاصل کئے۔ گابا کے میدان پر کھیلے گئے آخری اور فیصلہ کن میچ کی دوسری اننگز میں انہوں نے پانچ وکٹ حاصل کئے اور اور ہندوستان کی جیت کی راہ ہموار کی۔ کھیل کے لحاظ سے تو سراج ہیرو بن ہی گئے ہیں، انہیں نوجوانوں کا رول ماڈل بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

حیدرآباد کی سماجی کارکن نکہت پروین کہتی ہیں، ’’یوں تو حیدرآباد نے محمد اظہرالدین، ثانیہ مرزا اور وی وی ایس لکشمن جیسے عظیم کھلاڑی دیکھے ہیں مگر محمد سراج کو ملنے والی عزت اور پیار کچھ زیادہ ہی اہمیت کی حامل ہے۔ دراصل سراج کی کہانی بالکل جداگانہ ہے، وہ ایک انتہائی غریب کنبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد اسی شہر کی سڑکیوں پر رکشہ چلایا کرتے تھے۔ وہ ایسے کنبہ سے تھا جہاں خرچ ہی پورے نہیں ہوتے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’سراج کی پہلی ٹیسٹ سیریز کے دوران ہی ابو وقات پا گئے۔ وہ تناؤ میں تھا۔ اس پر نسلی تبصرے کئے گئے مگر وہ ٹوٹا نہیں۔ اسے آپ ایک عام کھلاڑی نہیں کہہ سکتے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہے جو اندر سے بھی لڑرہا تھا اور باہر سے بھی۔ حالات اگر سازگار نہیں بھی ہوں تو بھی ہمیں زور لگا کر لڑنا چاہئے، یہ ہمیں سراج سے سیکھنا چاہئے۔‘‘

سڈنی ٹیسٹ میں جس وقت قومی ترانہ بجایا جا رہا تھا تو سراج اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے تھے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنے والد کی یاد نے رلا دیا تھا، ’کاش ان کے ابو انہیں آج ملک کے لئے کھیلتے ہوئے دیکھ پاتے۔‘ سراج نے بھائی اسماعیل نے بتایا کہ ’’سراج 6 مہینے بعد گھر لوٹ کر آیا اور امی سے گلے لگ کر رونے لگا۔ امی اور سراج دونوں ہی کو سنبھالنا مشکل تھا۔‘‘

’میاں بھائی‘ کے لقب سے نوازے جانے ولاے سراج سے نوجوان بالخصوص مسلم نوجوانوں تحریک حاصل کرنے کی نصیحتیں دی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ موجودہ حالات میں مایوس مسلم نوجوانوں کو سراج کو رول ماڈل مان کر ان سے سیکھنا چاہئے کہ حالات چاہے کیسے بھی ہوں کامیابی کس طرح حاصل کی جاتی ہے۔

مسلم امور کے ماہر محمد عمر ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ’’سراج پر ایک سے زیادہ مرتبہ نسلی تبصرہ کیا گیا، وہ اپنے والد کو کھو چکے تھے۔ ان کے سینئر کھلاڑی فٹ نہیں تھے اور کم وقت میں ان کے کاندھوں پر ٹیم کی گیندبازی کا بوجھ تھا۔ اس کے علاوہ ان پر یہ دباؤ بھی تھا کہ اگر اچھا نہیں کھیل پائے تو دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ اتنے زیادہ دباؤ کے باوجود انہوں نے حوصلہ بنائے رکھا۔ مسلم نوجوانوں کو حالات کا رونا رو کر تمام طرح کے منفی خیالات کو ترک کر دینا چاہئے اور اپنی بہترین کوشش کرنی چاہئے۔ سراج نے دو مہینے میں یہ کر دکھایا ہے اور نوجوانوں کو مشعل راہ دکھائی ہے۔‘‘

مایوس مسلم نوجوانوں میں امید کی شمع روشن کرتے محمد سراج

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next