آئی سی سی کی جانب سے شکیب الحسن پر 2 سال کی پابندی

شکیب نے آئی سی سی کی انسداد بدعنوانی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تین الزامات کو قبول کر لیا ہے اور پابندیوں کے لئے اتفاق کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے ٹیسٹ اور ٹی -20 کپتان شکیب الحسن پر میچ فکسنگ کو لے کر بین الاقوامی کرکٹ کونسل کو جانکاری نہیں دینے کے الزامات کے سبب منگل کو تمام طرح کی کرکٹ سے دو سال کی پابندی لگا دی گئی ہے ۔ اس میں ایک سال کی سزا معطل رہے گی۔ شکیب سے سٹہ بازوں نے میچ فکسنگ کے لئے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کی جانکاری بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو نہیں دی تھی۔ شکیب نے آئی سی سی کی انسداد بدعنوانی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تین الزامات کو قبول کر لیا ہے اور پابندیوں کے لئے اتفاق کیا ہے۔

آل راؤنڈر شکیب کے جرم 2018 میں دو ٹورنامنٹوں کے سلسلے میں ہیں۔پہلا ٹورنامنٹ جنوری میں ون ڈے سہ رخی سیریز تھی جس میں دو دیگر ٹیمیں سری لنکا اور زمبابوے تھیں جبکہ دوسرا معاملہ آئی پی ایل کے ایک میچ کو لے کر تھا جس میں وہ سن رائزرس حیدرآباد کے ساتھ ایک کھلاڑی تھے۔ حال میں بنگلہ دیشی کرکٹرز کی ہڑتال کی قیادت کرنے والے شکیب گزشتہ چند دنوں میں ٹیم پریکٹس سیشن سے ندارد رہے تھے اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ان کی غیر موجودگی کا سرکاری طور پر کوئی سبب نہیں بتایا تھا۔لیکن اب وجہ واضح ہو گئی ہے کہ شکیب پریکٹس سیشن سے کیوں دور تھے۔پابندی لگنے کی وجہ سے شکیب اب اپنی ٹیم کے تین نومبر سے شروع ہونے والے ہندستانی دورے سے بھی باہر ہو گئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے اہم اخبار سمكال نے پہلے ہی دعوی کیا تھا کہ شکیب پر آئی سی سی 18 ماہ تک پابندی لگا سکتی ہے۔اخبار کے مطابق شکیب سے سٹےبازوں نے میچ فکسنگ کے لئے رابطہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کی جانکاری آئی سی سی کو نہیں دی تھی۔
آئی سی سی نے شکیب کے حوالے سے ایک بیان میں کہاکہ مجھے بہت افسوس ہے کہ مجھے اس کھیل سے منع کیا گیا ہے جسے میں بہت پیار کرتا ہوں۔ لیکن آئی سی سی کو جانکاری نہیں دینے کے سبب لگائی گئی پابندی کو میں تسلیم کرتا ہوں۔ آئی سی سی کی کرپشن کے خلاف مہم میں کھلاڑیوں کو اپنا تعاون دینا ہوتا ہے لیکن میں نے اپنا فرض نہیں نبھایا۔ شکیب نے کہاکہ دنیا بھر میں زیادہ تر کھلاڑیوں اور شائقین کی طرح میں بھی بدعنوانی سے پاک کھیل چاہتا ہوں اور اب میں آئی سی سی کی اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ ان کے تعلیمی پروگرام کو اپنی حمایت دینے کے لئے تیار ہوں۔ میں اس بات کا یقینی کروں گا کہ نوجوان کھلاڑی وہ غلطیاں نہ کریں جو میں نے کی۔

آئی سی سی کے جنرل منیجر (اخلاقی)ا یلیکس مارشل نے کہاکہ شکیب ایک تجربہ کار بین الاقوامی کرکٹر ہیں جو بہت تعلیمی پروگراموں میں شامل ہوئے تھے اور وہ ضابطہ اخلاق کے تئیں اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہیں ایسے رابطہ قایم کرنے کی کوششوں کی آئی سی سی کو جانکاری دینی چاہیے تھی۔ شکیب نے اپنی غلطی مان لی ہے اور انہوں نے تحقیقات کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ انہوں نے تعلیمی پروگراموں میں مدد کی پیشکش کی ہے جسے ہم نے قبول کر لیا ہے۔شکیب اس پابندی کے بعد ہندستانی دورے سے باہر ہو گئے ہیں، ان کی کپتانی چھین گئی ہے اور وہ اگلے سال انڈین پریمیئر لیگ اور آسٹریلیا میں 18 اکتوبر سے 15 نومبر 2020 تک ہونے والے ٹی -20 ورلڈ کپ میں نہیں کھیل سکیں گے۔ شکیب اگر پابندی کی معطل سزا کے سلسلے میں شرائط پر عمل کرتے ہیں تو وہ 29 اکتوبر، 2020 سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا شروع کر سکتے ہیں۔

اس سے پہلے بنگلہ دیش کے اخبار کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی ہدایات پر ہی شکیب کو بي سي بي نے پریکٹس سے دور رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ تو مشق میں حصہ لیا اور نہ ہی گلابی گیند سے ہندوستان کے خلاف ڈے نائیٹ ٹیسٹ کھیلنے پر پیر کو ہوئی میٹنگ میں وہ شامل ہوئے۔32 سالہ شکیب بنگلہ دیش کے ٹاپ کرکٹر ہیں اور ان کا شمار بنگلہ دیش کے عظیم کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ وہ آئی سی سی کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی -20 کی آل راؤنڈر رینکنگ میں بالترتیب تیسرے، پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ لیکن پابندی لگنے سے انہوں نے اپنے ملک کو شرمسار کیا ہے۔اخبار سمكال کے مطابق شکیب کو دو سال پہلے فکسنگ کی پیشکش ہوئی تھی ۔ میچ سے پہلے ایک سٹےباز نے شکیب سے رابطہ کیا تھا۔ شکیب کو فکسنگ کی پیشکش ملتے ہی آئی سی سی سے رابطہ قایم کرنا تھا اور اسے یہ جانکاری دینی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

Published: 29 Oct 2019, 10:10 PM