شاہد آفریدی نے اپنے آخری میچ سے متعلق خواہش کا اظہار کیا

شاہد آفریدی نے کہا کہ میں اس وقت ملتان سلطانز کا حصہ ہوں اور 'اگر انہوں نے مجھے اجازت دی تو میں اپنے آخری سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنا چاہوں گا'۔

شاہد آفیدی، تصویر آئی اے این ایس
شاہد آفیدی، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں نئی چمپیئن ٹیم ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے شاہد خان آفریدی نے کیریئر کا آخری سیزن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جانب سے کھیلنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈان نیوز کے پروگرام 'لائیوود عادل شاہزیب' میں خصوصی انٹرویو کے دوران شاہد آفریدی نے کہا کہ میں اس وقت ملتان سلطانز کا حصہ ہوں اور 'اگر انہوں نے مجھے اجازت دی تو میں اپنے آخری سیزن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرنا چاہوں گا'۔ اسٹار آل راؤنڈر نے کہا کہ وہ فٹ رہنے کے لیے ٹریننگ بھی کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ شاہد آفریدی پی ایس ایل کے رواں سیزن میں ٹریننگ کے دوران کمر کی انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے تھے تاہم ان کی ٹیم ملتان سلطانز نے ان کے بغیر چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ شاہد آفریدی نے کہا کہ پی ایس کے فائنل میں ٹیم کے ساتھ نہیں تھا لیکن میں محمد رضوان، صہیب مقصود اور شان مسعود کے ساتھ پیغام رسانی کے ذریعے مسلسل رابطے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کی رہنمائی کرتا تھا اور بڑے میچوں، خاص کر فائنل کی اہمیت کے حوالہ سے اپنے تجربات سے آگاہ کرتا رہا کہ اب جیتنا کیسے ہے۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو مشکلات کے باوجود پی ایس ایل کے بقیہ میچوں کے انعقاد پر مبارک باد دی، لیکن لیگ جب تک پاکستان میں نہیں ہوگی اس وقت تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔


پی ایس ایل کے دوسری لیگز سے موازنے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سوائے کھلاڑیوں کو دیا جانے والا معاوضے کے، پی ایس ایل اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ لیگز کے انعقاد کا بنیادی مقصد نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے اور پی ایس ایل نے بڑی تعداد میں اچھے کھلاڑی دیئے ہیں۔ ٹی ٹوئٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے لیے تیاریاں 8 ماہ پہلے شروع ہونی چاہیئں اور ٹیم میں بہت زیادہ تبدیلیوں سے کامیاب ٹیم کمبی نیشن بنانے میں مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔