ورلڈ کپ میں اہلیہ کو ہوٹل کی الماری میں چھپا کر رکھا :ثقلین

جب بھی کوئی میرے روم میں کرکٹ بورڈ منیجر یا کوئی اور کھلاڑی ملنے آتا تو میں اپنی اہلیہ کو کمرے کی الماری میں چھپا دیتا تھا۔

تصویر، سوشل میڈیا
تصویر، سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پاکستان کے سابق کرکٹر ثقلین مشتاق نے انکشاف کیا ہے کہ ورلڈ کپ 1999ء کے دوران فیملی ساتھ رکھنے پر پابندی کے باوجود انہوں نے اپنی بیگم کو ہوٹل روم کی الماری میں چھپا کر اپنے ساتھ رکھا تھا۔

ثقلین مشتاق نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران ماضی کی ایک خوبصورت یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 1999ء کے ورلڈ کپ کے دوران ان کی اہلیہ بھی ان کے ساتھ ہوٹل روم میں مقیم تھیں، کرکٹ بورڈ کی جانب سے اچانک یہ فیصلہ کیا گیا کہ کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ فیملی رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ثقلین اپنے دور میں پاکستان کے لئے میچ جیتنے والے بولر رہے ہیں لیکن اب ان کا زیادہ تر وقت انگلینڈ میں صرف ہوتا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے انگلینڈ کی ٹیم سے وابستہ ہیں۔ ثقلین 2019 ورلڈ کپ کے دوران انگلینڈ کی ٹیم کے معاون عملے میں بھی تھے۔


ایسی صورتحال میں کھلاڑیوں نے اپنی اہلیہ اور کنبہ کو گھر واپس بھیج دیا۔انہوں نے ٹیم کے اس وقت کے کوچ رچرڈ پائبس پر بھی زور دیا کہ جب ٹیم اچھا کھیل رہی ہے تو پھر اچانک یہ تبدیلیاں کیوں کی جارہی ہیں۔ لیکن انہوں نے اسے بورڈ کا فیصلہ قرار دیا۔ ثقلین نے کہا کہ فائنل میں ہارنے کی وجہ سے پاکستانی کیمپ میں کافی مایوسی ہوئی اور ایسی صورتحال میں کسی کو بھی نہیں دکھا کہ میری اہلیہ ہوٹل میں میرے ساتھ تھیں۔ دراصل ہم سب بہت دباؤ اور مایوسی کی زد میں آئے تھے۔ سب ایک دوسرے کو تسلی دے رہے تھے۔ بعد میں میں نے ہوٹل چھوڑ دیا اور بیوی کو لندن کے اپارٹمنٹ بھیج دیا۔ دراصل ثقلین اس وقت انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے تھے اور انہیں انگلینڈ میں رہنے کے لئے اپارٹمنٹ دیا گیا تھا۔

رونق کپور کے انسٹا لائیو پروگرام کے دوران ثقلین مشتاق نے مزید بتایا کہ ان کی شادی دسمبر 1998ء میں ہوئی تھی اور ان کی اہلیہ بھی لندن کی رہنے والی ہیں۔ثقلین مشتاق نے بتایا کہ انہیں کرکٹ بورڈ کا یہ فیصلہ بالکل پسند نہیں آیا تھا اور انہوں نے سب سے چھپ کر پورے ورلڈ کپ کے دوران اپنی بیگم کو اپنے ساتھ ہی ہوٹل روم میں رکھا تھا۔


ثقلین مشتاق نے بتایا کہ کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کچھ جاسوس بھی چھوڑے گئے جو کھلاڑیوں کے روم میں آتے جاتے رہتے تھے اور نظر رکھتے تھے کہ کھلاڑی کیا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی میرے روم میں کرکٹ بورڈ منیجر یا کوئی اور کھلاڑی ملنے آتا تو میں اپنی اہلیہ کو کمرے کی الماری میں چھپا دیتا تھا۔

ثقلین مشتاق نے بتایا کہ ایک دن میرے کمرے میں اظہر محمود اور یوسف اس حوالے سے بات کرنے آئے۔یہ دونوں غیر شادی شدہ تھے اور اِنہیں شک تھا کہ میری بیوی کمرے میں ہی موجود ہے۔ ان کے اصرار پر میں نے اپنی بیوی سے باہر آنے کو کہا اور وہ الماری سے باہر آ گئی۔وہ کافی وقت سے اندر الماری میں بند تھی۔ واضح رہے کہ 43 سالہ ثقلین مشتاق ’دوسرا‘ کے موجد ہیں ، ثقلین مشتاق نے 1995ء سے 2004ء کے دوران پاکستان کے لیے 49 ٹیسٹ اور 169 ون ڈے میچز کھیلے۔اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے 208 ٹیسٹ اور 288 ون ڈے وکٹیں حاصل کیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔