کیا چیئر لیڈرحسین جہاں نے محمد سمیع کو برباد کیا ہے؟

محمد سمیع کی بیوی حسین جہاں مسلسل میڈیا سے بات کر رہی ہیں اور ان پر الزامات عائد کر رہی ہیں۔ منگل کے روز وہ صحافیوں پر اس قدر آگ بگولہ ہو گئی کہ انہوں نے کیمرہ مین کا کیمرہ ہی توڑ ڈالا۔

By آس محمد کیف

سماج کے دل کا ایک کونا خواتین کے لئے ہمیشہ نرم ہوتا ہے اور اس بات کا باآسانی اعتراف کر لیا جاتا ہے کہ خواتین ’لاچار‘ ہوتی ہیں۔ ہمارا سماج پدرانہ توہو سکتا ہے لیکن وہ جھکتا ہمیشہ خاتون ہی کی طرف ہے۔ معروف کرکٹر محمد سمیع کے معاملہ میں بھی یہی ہو رہا ہے۔ خواتین میں اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کا مادہ کم ہی ہوتا ہے اور ان کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ پرفیکٹ (مکمل) ہو چکی ہیں۔

حَسین جہاں کو آج اپنی عقل پر ’ رشک‘ ہو رہا ہوگا اور وہ فتحیاب ہونے پر فخر محسوس کر رہی ہوں گی۔ ان کے دل میں یہ احساس گردش کر رہا ہوگا کہ ’’دیکھا، میں نے کیا کر دکھایا! ‘‘ مجھے نہیں معلوم کہ فلم ’ناگن ‘ بنانے کا خیال کسے اور کیوں آیا ہوگا لیکن میرا ذہن کبھی اس بات کا قائل نہیں ہوا کہ کوئی خاتون کسی کو ڈس بھی سکتی ہے۔ ’ناگن ‘پوری طرح اپنے ’ناگ ‘کے لئے وقف تھی لیکن یہاں تو صور تحال اس کے برعکس ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ سمیع کا حَسین جہاں سے شادی کا فیصلہ ہی غلط تھا۔ یوں تو کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمانوں میں طے ہوتے ہیں لیکن کچھ کہانیاں عبرت حاصل کرنے کے لئے بھی تحریر ہوتی ہیں۔ حَسین جہاں اور سمیع کے رشتہ میں سمیع زیادہ ایماندار ہے کیوں کہ اس نے اس بات کا علم ہوتے ہوئے بھی شادی کی ہے کہ حَسین جہاں کی پہلی شادی سے بھی دو بیٹیاں ہیں ۔ حَسین کا دوسرا نام جان بھی ہے اور وہ سمیع سے 5 سال بڑی ہیں ۔ وہ آئی پی ایل کے میچوں کے دوران رقص کر کے کھلاڑیوں اور ناظرین کو جوش دلانے والی ایک چیئر لیڈر تھیں ۔

سمیع اتر پردیش کے معروف قصبہ امروہہ سے وابستہ ہیں اور دیہی پس منظر سے آتے ہیں اور ان کے خاندان کے لوگ بے حد عام ہیں۔ سمیع مسلم جھوجا برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو مغربی اتر پردیش میں محنت کش اور وسیع ثقافت رکھنے والی برادری کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس برادری کے لوگ عام طور پر گاؤں میں رہتے ہیں اور کھیتی باڑی اور دودھ والے جانور پالنے کا کام کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں حَسین جہاں کا یہ کہنا کہ سمیع تو گنوار ہے ، غریب ہے، ایک کمرے کے مکان میں رہتا تھا اور میں نے اسے سلیقہ زندگی سکھایا بڑے پیمانے پر لوگوں کے دلوں کو تکلیف پہنچانے والا بیان ہے۔

جب سمیع- حَسین کے قریب گئے تو وہ کے کے آر (کولکاتہ نائٹ رائیڈر) کی چیئر لیڈر تھیں ۔ چیئر لیڈر آئی پی ایل میں رنگ برنگی ڈریس پہن کر ، ہاتھوں میں جھن جھنے لے کر اچھل کود کر رقص کرتی ہیں اور انہیں ایسا کرنے کا پیسہ ملاتا ہے۔ چیئر لیڈر کا رقص شراب خانوں کی رقاصہ سے بھی مشکل ترین کام ہے کیوں کہ وہاں تو ایک ہال کے اندر رقص کرنا ہوتا لیکن یہاں کھیل کے میدان میں ہزاروں لوگوں کے سامنے اور بڑے بڑے کیمروں کے درمیان ناچنا پڑتا ہے۔

بدقسمتی سے سماج ان کی تکلیف اور جدو جہد کا احترام نہیں کرتا اور انہیں بری نظر سے دیکھتا ہے۔ لیکن ایک گاؤں کے لڑکے نے دل بڑا کیا اور حَسین کو شریک حیات بنا لیا۔ کھیل کے فلک پر ستارہ بن کر ابھر چکے سمیع کے لئے ایک سےبڑھ کر ایک رشتے ہو سکتے تھے لیکن اس نے کسی کی ایک نہ سنی اور اپنے دل کی کر کے ہی رہا ۔

آج جب حَسین سر عام میڈیا سے یہ کہتی ہے کہ سمیع اپنے خاندان کا غلام ہے تو یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے سمیع کی والدہ کے دل کو پیروں تلے روند دیا ہے کیوں کہ کل انہیں گھر والوں کی مرضی کو پیروں تلے روند کر سمیع نے حَسین کا انتخاب کیا تھا۔
کیا چیئر لیڈرحسین جہاں نے محمد سمیع کو برباد کیا ہے؟
حَسین نے پورے خاندان کو نیچا دکھانے اور انہیں یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ وہ بہتر معاشرہ سے آئی ہیں اور سمیع کے خاندان کے لوگ پسماندہ ہیں۔

حَسین سے شادی کے بعد سمیع پر دباؤ تھا اور وہ خاندان اور بیوی کے بیچ پسنے لگا۔ حَسین کے کہنے پر ہی اس نے کولکاتہ میں گھر بنایا۔ حَسین کا یہ کہنا تکلیف دہ جب وہ کہتی ہیں ’’سمیع کا خاندان تو ایک کمرے میں رہتا تھا، میں نے ان کا گھر بنوایا۔ ‘‘ سمیع کی دونوں گاڑیاں کولکاتہ والے گھر میں ہی ہیں۔ سمیع کی پراپرٹی بھی وہیں ہیں۔ حَسین نے مقدمہ بھی وہیں درج کرایا ہے اور یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ جیسے ہی سمیع اور اس کے خاندا ن کے افراد وہاں آئیں گے ، گرفتار کر لئے جائیں گے۔ سمیع کے خاندان کے افراد اس وقت خوفزدہ ہیں۔ وہ امروہہ والے مکان میں بھی موجود نہیں ہیں۔ حَسین کھلے طور پر کسی دیگر لڑکی کے ساتھ سمیع کے جنسی تعلقات کا قصہ روانی کے ساتھ سناتی ہیں اور جس واٹس اپ چیٹ کا حوالہ دے کر وہ چلا چلا کر وہ یہ باتیں کہہ رہی ہیں اسے قانوناً یا مذہبی کسی بھی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔

حَسین کا یہ الزام بھی بے بنیاد لگتا ہے کہ سمیع نے اس کے بھائی کے ساتھ حَسین سے بد فعلی کرنے کو کہا ۔ یہ ممکن ہی نہیں کیوں کہ سمیع حَسین کو جنون کی حد تک چاہتے ہیں۔ یاد کیجئے وہ لمحہ جب سوش میڈیا پر حَسین جہاں کو ان کے لباس کی بنیاد پر ٹرول کیا جا رہا تھا تو انہوں نے اپنی اہلیہ کی پر زور حمایت کی تھی۔

حَسین کی باتوں سے یہ بھی اندازہ لگ رہا ہے کہ عوامی طور پر وہ جو بھی بات کہہ رہی ہیں وہ وکیل کےمشورے کے بعد کہہ رہی ہیں ۔ اگر سمیع کے کسی دوسری لڑکی سے ناجائز تعلقات کی بات کر رہی ہیں تو انہیں اپنے اور سمیع کے ذاتی تعلقات کی بات بھی منظر عام پر لانی چاہئے۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ سمیع اور ان کی حَسین کے بیچ تعلقات ٹھیک نہ ہوں اور وہاں ایک خلاء موجود ہو۔ سمیع کے لئے اس وقت سب کچھ ختم ہونے جیسی صورت حال ہے۔ اپنی ڈھائی سال کی بچی کے لئے وہ چیخ رہا ہے اور صلح کی کوششوں میں مصروف ہے۔ حَسین کہہ رہی ہیں کہ اگر وہ یہ سب نہ کرتیں تو سمیع انہیں طلاق دے دیتا۔ تو اس سے کیا لگتا ہے، کیا تعلقات میں گرم جوشی واپس آ سکتی ہے!

گزشتہ 7 دنوں کے اس سلسلہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک گھر میں طوفان کس طرح کھڑا ہوتا ہے۔ اس کہانی میں کئی سبق ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے تک دونوں ساتھ خوشیاں منا رہے تھے ۔ ایک دم سے اتنے سارے الزامات حَسین کی کہانی کے جھوٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ حَسین نے سمیع پر میچ فکسنگ کا بھی الزام عائد کر دیا ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا سمیع ان لمحات کو بھول پائیں گے؟ کیریر کی بات کے ساتھ ساتھ ان کے اندر جو ٹو ٹ پھوٹ ہوئی ہے اب اس کی بھی مرمت کی امید نہیں۔ اب اگر ان دونوں کے درمیان صلح ہو بھی جائے تو بھی ان کے وصال اور ملن کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔