یونس خان معاملے میں اظہرالدین کا کردار ممکن: راشد لطیف

اس معاملے میں تازہ موڑ اس وقت آیا جب کبھی کبھار پاکستان کی کپتانی کی ذمہ داری نبھانے والے لطیف نے کہا کہ اظہرالدین کے بیٹنگ کے مشورے اس معاملے کا سبب ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا،گیٹی
سوشل میڈیا،گیٹی
user

یو این آئی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق بلے باز اور ٹیم کے موجودہ بیٹنگ کوچ یونس خان کے خلاف گران فلاور کے الزام پر تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے او ر اب اس معاملےمیں ہندستان کے سابق کپتان محمد اظہر الدین کا نام بھی آگیا ہے ۔ جبکہ پاکستانی میڈیا نے اس معاملے میں فلاور کے ذریعہ یونس خان سے معذرت کرنے کا دعوا کیا ہے ۔

سابق پاکستانی کرکٹر راشد لطیف نے کہا ہے کہ گرانٹ فلاور یونس خان واقعے میں سابق ہندوستانی کپتان محمد اظہرالدین کے بیٹنگ مشورے کا کردار ہوسکتا ہے۔پاکستان کے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے رواں ہفتے کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ یونس خان نے چار سال قبل آسٹریلیا میں کھیلے گئے میچ کے دوران ان کے گلے پر چھری رکھ دی تھی۔ پی سی بی نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے ، جبکہ سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی جانب سے وضاحت سامنے آئی ہے کہ یہ کچن چاقو تھا۔


اس معاملے میں تازہ موڑ اس وقت آیا جب کبھی کبھار پاکستان کی کپتانی کی ذمہ داری نبھانے والے لطیف نے کہا کہ اظہرالدین کے بیٹنگ کے مشورے اس معاملے کا سبب ہوسکتے ہیں۔یو ٹیوب کے شو’ کاٹ بی ہائنڈ ‘میں بات چیت کرتے ہوئے راشد لطیف نے کہا ہےکہ ہم نہیں جانتے کہ ڈریسنگ روم میں کیا ہوا لیکن اظہرالدین واقعے کی ایک وجہ ہوسکتے ہیں۔سال 2016 میں یونس خان نے اوول میں ڈبل سنچری بنائی تھی ۔یونس نےمیچ کےبعد اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں اپنی ٹیم کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کا نام تک نہیں لیا اور انہوں نے کہا کہ میں کافی وقت سے جدوجہد کر رہا تھا اور میں نے اس سلسلے میں اظہرالدین سے بات کی جنہوں نے بلے بازی سے متعلق انہیں کارگر مشورے دئے ۔لطیف نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا عنصر ہے کہ کوئی کھلاڑی کوچ کے بجائے کسی اور کو منتخب کرتا ہے۔ فلاور نے بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے کچھ کام ضرور کیے ہوں گے اور پاکستان کی خدمت کی ہے۔ میرے خیال میں یہ اظہرالدین عنصر ان کے (فلاور کے) ذہن میں کہیں نہ کہیں رہا ہوگا۔

سابق بیٹنگ کوچ کے ان الزامات پر پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق نے بھی گرانٹ فلاور کو نشانہ بنایا ہے ۔انضمام نے کہا کہ وہ یونس کو ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں اور یونس وہ شخص نہیں ہے جو کسی کو چھری دکھاسکیں۔ انضمام نے فلاور کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے الزامات سن کر حیران ہیں اور فلاور میڈیا میں رہنے کے لئے اس طرح کا دعویٰ کررہے ہیں۔


انضمام نے ڈان کو بتایا کہ میں صرف اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ گرانٹ کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں نے یونس کے ساتھ ایک طویل عرصے کھیلا اور میں انہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ یونس وہ ہے جو کبھی بھی کسی کو چاقو نہیں دکھا سکتا۔دوسری جانب پاکستانی میڈیا نے یہ بھی دعوا کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے اپنے متنازع بیان پر یونس خان سے معافی مانگ لی ہے ۔ 49 سالہ گرانٹ فلاور کا کہنا تھا کہ ان کے انٹرویو کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاگیا اور اصل حقائق کے بجائے باتوں کو دوسرا رخ دیاگیا ۔ واضح رہے کہ گرانٹ فلاور نے گزشتہ دنوں الزام لگایا تھا کہ جب 2016ء میں آسٹریلیا کے دورے پر برسبین ٹیسٹ کے دوران انہوں نے یونس خان کو بیٹنگ کے حوالے سے مشورہ دینا چاہا تو سابق کپتان نے ان کے گلے پر چھری رکھ دی تھی۔گرانٹ فلاور کے مطابق انہیں اندازہ نہیں تھا کہ اس قصے کو میڈیا میں اس قدر اچھالا جائیگا حالانکہ یہ واقعہ انہوں نے انٹر ویو ختم ہونے کے بعد بیان کیا تھا جس کو غلط انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کر دیاگیا۔ یہ ایک دلچسپ واقعہ تھا تاہم کوچنگ میں ایسا ہوتا ہے اور وہ خود پاکستانی ٹیم کی کوچنگ سے لطف اندوز بھی ہوئے ۔ واضح رہے کہ گرانٹ فلاور2014ء سے 2019ء تک پاکستانی ٹیم کے ساتھ رہے ۔ گرانٹ فلاور نے کہا کہ کوچنگ کے دوران یونس خان کو کچھ بھی بتانا سب سے مشکل کام تھا تاہم وہ ایک زبر دست کھلاڑی تھے ۔

اپنے تابناک کیریئر میں 10،099 ٹیسٹ رنز اور 7249 ون ڈے رنز بنانے والے یونس خان نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ یونس اس وقت انگلینڈ میں ہیں جہاں پاکستان اگست سے ستمبر میں متوقع ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لئے قرنطین میں تربیت حاصل کر رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔