ٹی-20 عالمی کپ کے فائنل میں انگلینڈ کا مقابلہ کرے گا پاکستان، بابر اور بٹلر کی ٹیموں کے حوصلے بلند

پاکستان اور ٹی-20 ورلڈ کپ کی ٹرافی کے درمیان صرف انگلینڈ ہے، جو اپنا دوسرا ٹی-20 ورلڈ کپ جیتنے کے لیے میدان میں پاکستان کا سامنا کرے گا۔ میچ ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 1.30 بجے سے کھیلا جائے گا

تصویر ٹوئٹر  / ,@RealPCB
تصویر ٹوئٹر / ,@RealPCB
user

قومی آوازبیورو

میلبرن: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2022 کا آغاز پاکستان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح ہوا لیکن اس خواب کے بعد ان کی آنکھ کھلی اور بابر اعظم کی ٹیم نے فائنل کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو کامیابی سے عبور کیا۔ دراصل پاکستان کو شروعاتی دو میچوں میں پہلے ہندوستان اور پھر زمبابوے نے سنسنی خیز مقابلوں میں شکست دی تھی۔ اب پاکستان اور ٹی 20 ورلڈ کپ کی ٹرافی کے درمیان صرف انگلینڈ ہے، جو اپنا دوسرا ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے کے لیے اتوار کو میلبرن کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان کا سامنا کرے گا۔ میچ آج یعنی 13 نومبر کو ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 1.30 بجے سے کھیلا جائے گا۔

پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی گیندبازی ان کی مضبوط پوائنٹ رہی ہے لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فخر زمان کی جگہ آنے والے محمد حارث نے ان کی بیٹنگ کو رفتار فراہم کی ہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ڈیبیو کرتے ہوئے 21 سالہ حارث نے صرف 11 گیندوں پر 28 رن بنا کر اپنے ساتھیوں کو کھیل کے مختصر ترین فارمیٹ میں بیٹنگ کرنے کا طریقہ دکھایا۔ بابر اعظم اور محمد رضوان کی اوپننگ جوڑی جہاں پاکستان کو مضبوط آغاز دینے کی صلاحیت رکھتی ہے وہیں حارث، افتخار احمد اور شاداب خان کی دھماکہ خیز بیٹنگ لائن اپ ٹیم کو بڑے اسکور کی طرف لے جانے کی ذمہ دار ہوگی۔ پاکستان بھی ان چند ٹیموں میں سے ایک ہے جس کے چار گیند باز 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیندبازی کر سکتے ہیں۔ انجری سے واپس آنے والے شاہین آفریدی خواھ بھرپور فارم میں نہ ہوں لیکن حارث رؤف، محمد وسیم جونیئر اور نسیم شاہ کی اچھی کارکردگی بابر کے ہاتھ کو ورلڈ کپ ٹرافی تک پہنچادیں گی۔


دوسری جانب اپنے دوسرے سپر 12 میچ میں آئرلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد انگلینڈ نے بھی ٹورنامنٹ میں اچھی واپسی کی ہے اور سیمی فائنل میں ہندوستان کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر حاوی ہونے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انگلینڈ کی طاقت ان کی بیٹنگ ہے، حالانکہ عادل رشید اور لیام لیونگسٹن کی لیگ اسپن جوڑی انہیں درمیانی اووروں میں رن کو محدود کرنے کا ایک اچھا متبادل فراہم کرتی ہے۔ انگلینڈ کے مڈل آرڈر نے شاید ٹورنامنٹ میں زیادہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کیا ہو لیکن جوس بٹلر امید کر رہے ہوں گے کہ لیونگسٹن اور معین علی جیسے دھماکہ خیز بلے باز انہیں خطابی مقابلے میں مایوس نہیں کریں گے۔

بٹلر کی نظریں اپنے بہترین آل راؤنڈر بین اسٹوکس پر بھی ہوں گی، جو ٹیم کو قیمتی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ جب انگلینڈ آخری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ (2016) کے فائنل میں پہنچا تھا تو کارلوس براتھویٹ نے آخری اوور میں بین اسٹوکس کو چار چھکے مار کر ویسٹ انڈیز کو خطاب جتوایا تھا۔ اس بار اسٹوکس کو نامکمل کام کو مکمل کرنے کا موقع ہوگا۔ اتوار کو میلبرن میں بارش کا 70 فیصد امکان ہے۔


اگر بٹلر ٹاس جیتتے ہیں، تو وہ پاکستان کو بیٹنگ کے لیے بلا سکتے ہیں اور ہدف بنانے کے لیے ان کے قدامت پسندانہ انداز کا فائدہ اٹھاکر بابر کی ٹیم کو نسبتاً آسان ٹوٹل پر روک سکتے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں انگلینڈ کو پاکستان کے خلاف 18-9 کی برتری حاصل ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں صرف دو بار آمنے سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی میچ انگلینڈ نے جیتے ہیں۔ دونوں ممالک نے کبھی بھی مشہور میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں کوئی ٹی 20 میچ نہیں جیتا، حالانکہ عمران خان کی ٹیم نے 1992 کے ون ڈے ورلڈ کپ کا فائنل جیتا تھا جب پاکستان اور انگلینڈ گراؤنڈ میں آمنے سامنے تھے۔ پاکستان (2009) اور انگلینڈ (2010) دونوں ایک بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت چکے ہیں اور دوسری بار کون تاج اٹھائے گا اس کا فیصلہ اتوار کو میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں ایک لاکھ کرکٹ شائقین کے درمیان ہوگا۔

دونوں ٹیمیں درج ذیل ہیں:

پاکستان: بابر اعظم (کپتان)، شاداب خان، آصف علی، محمد حارث، حیدر علی، حارث رؤف، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد وسیم، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی اور شان مسعود۔

انگلینڈ: جوس بٹلر (کپتان اور وکٹ کیپر)، معین علی، ہیری بروک، سیم کرن، کرس جارڈن، لیام لیونگ اسٹون، ڈیوڈ مالان، عادل راشد، فل سالٹ، بین اسٹوکس، ٹائیمل ملز، ڈیوڈ ولی، کرس ووکس، مارک ووڈ اور ایلکس ہیلز۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔