سری لنکا پر جیت سے پاکستان نے منایا ٹیسٹ واپسی کا جشن

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا میچ ڈرا پر ختم ہوا تھا جبکہ دوسرے میچ کو پورے پانچ دن کے کھیل کے بعد میزبان ٹیم نے جیت کر ایک۔صفر سے سیریز اپنے نام کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

کراچی: پاکستان نے اپنی سرزمین پر 10 سال کے طویل وقفے پر ہو رہے ٹیسٹ کرکٹ کی گھر واپسی کا جشن مہمان سری لنکا کی ٹیم پر دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے آخری دن پیر کو 263 رنز کی جیت کے ساتھ منایا۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا میچ ڈرا پر ختم ہوا تھا جبکہ دوسرے میچ کو پورے پانچ دن کے کھیل کے بعد میزبان ٹیم نے جیت کر ایک۔صفر سے سیریز اپنے نام کی۔ سال 2009 میں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کے باہر سری لنکا کرکٹ ٹیم پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے یہ پاکستان کی سر زمین پر پہلی باہمی ٹسٹ سیریز تھی، جس میں دلچسپ طور پر سری لنکا نے ہی شرکت کی۔ میزبان ٹیم نے میچ جیتنے کی خانہ پری پیر کے روز صرف 14 منٹ بعد ہی پوری کر لی اور سری لنکا کے باقی تین وکٹ 16 گیندوں کے وقفے پر بغیر کسی اور رن کے اسکور بورڈ پر جڑے حاصل کر لیے۔ مہمان ٹیم نے 476 رنز کے ہدف کے سامنے 62.5 اوور میں کل 212 رن بنائے۔ صبح سری لنکا نے اننگز کا آغاز کل کے سات وکٹ پر 212 رن سے آگے کیا تھا۔

سری لنکا کے کل کے ناٹ آؤٹ بلے باز اوشاڈا فرنانڈو اپنے اسکور میں کوئی اضافہ کیے بغیر ہی یاسر شاہ کی گیند پر اسد شفیق کو کیچ دے بیٹھے۔ 180 گیندوں میں 13 چوکے لگا کر فرنانڈو 102 رن پر نویں بلے باز کے طور پر آؤٹ ہوئے۔ لست ایمبلڈینيا اور وشوا فرنانڈو دونوں صفر پر آؤٹ ہوئے جنہیں پاکستان کے 16 سالہ تیز گیند باز نسیم شاہ نے اپنا شکار بنایا۔

نسیم 16 سال اور 307 دن کی عمر کے ساتھ سب سے نوجوان گیند باز بھی بن گئے ہیں جنہوں نے ٹیسٹ اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کیے۔ نسیم کو 12.5 اوور میں 31 رن کی کفایتی گیند بازی سے پانچ وکٹ ملے جو ان کے کیریئر کے تیسرے ٹیسٹ میں بہترین کارکردگی بھی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے ہی لیفٹ آرم اسپنر نسیم الحق غنی نے سال 58 ۔ 1957 سیریز میں یہ کامیابی درج کی تھی، اس وقت وہ نسیم سے صرف چار دن چھوٹے تھے۔

نوجوان تیزگیندباز نسیم اس وقت چھ سال کے تھے جب پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ سال غیر سرکاری طور پر سال 2009 میں بند ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی نسیم شاہ ٹیسٹ میچ کی ایک اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے کم عمر ترین فاسٹ باؤلر جبکہ دنیا کے دوسرے ایسے باؤلر بن گئے جنہوں نے اتنی کم عمر میں 5 وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ محمد عامر بھی دنیا کے ان کم عمر کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں اور انہوں نے صرف 17 سال 257 دن میں 5 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

میچ کے پانچویں اور آخری روز سری لنکائی ٹیم نے 212 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو امبلدینیا اور اوشادا فرنینڈو کریز پر موجود تھے۔ تاہم پانچویں روز کھیل کے آغاز میں پہلے اوور میں نسیم شاہ کی پہلی گیند پر امبلدینیا اپنے اسکور میں بغیر کسی اضافے کے ہی آؤٹ ہوگئے۔ جس کے بعد اگلے اوور میں دوسری اننگز میں سب سے زیادہ اسکور بنانے والے اوشادا فرنینڈو 102 رنز بنا کر یاسر شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔

ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز کے تیسرے اوور میں سری لنکا کے آخری کھلاڑی وشوا فرنینڈو کوئی رنز بنائے بغیر 212 کے مجموعی اسکور پر نسیم شاہ کی گینڈ پر آؤٹ ہوئے۔ دوسری اننگز میں نسیم شاہ نے 5 وکٹیں حاصل کیں اور ایک میچ میں 5 وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین تیز گیند باز بن گئے۔اس کے علاوہ محمد عباس، شاہین شاہ آفریدی اور حارث سہیل نے دوسری اننگز میں ایک، ایک وکٹ اپنے نام کیا۔

پاکستان کے عابد علی کو مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز منتخب کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عابد علی پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کیریئر کے ابتدائی دونوں ٹیسٹ میچوں میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں اور اس سے قبل کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکا۔
گزشتہ روز ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستانی ٹیم نے 385 رنز دو کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کرنے کی تھی اور کپتان اظہر علی اور بابر اعظم نے سنچریاں اسکور کرتے ہوئے 555 پر اننگز ڈکلیئر کی تھی۔ تاہم میچ کے پانچویں روز سری لنکن ٹیم ایک بھی رنز نہیں بناسکی اور تیسرے ہی اوور میں 212 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ ہوگئی۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان اظہر علی نے پاکستان میں مہمان سری لنکا کی ٹیم کا ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ اس سیریز کے ساتھ ہی پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی بھی ہو گئی ہے۔ سال 1992 کے بعد یہ پاکستانی ٹیم کی سری لنکا پر گھریلو میدان پر پہلی سیریز جیتی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کو عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کے لئے ایک۔صفر کی اس سیریز جیت سے 80 پوائنٹس کا فائدہ ہوا ہے، جس میں 20 پوائنٹس پہلے ڈرا میچ کے رہے ہیں۔