مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج نے نئے مسائل کھڑے کر دئے!

مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے باہر کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے شدید سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کی رہائی کے بعد اب یہ معاملہ صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں رہا۔ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے اشارہ دیا ہے کہ اگر بی سی سی آئی مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج کی وجوہات کی باضابطہ تصدیق کرتا ہے تو بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کچھ میچوں کی منتقلی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سینئر حکام نے ہنگامی میٹنگ کی۔ میٹنگ میں نمایاں طور پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر ہندوستان آئی پی ایل میں کھیلنے والے بنگلہ دیش کے واحد کھلاڑی مستفیض الرحمان کو مناسب سیکورٹی فراہم نہیں کر سکتا تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیش کی پوری ٹیم کی سیکیورٹی  کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟


میٹنگ میں اس حقیقت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ہندوستان میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے والی ہے۔ ایسی صورتحال میں کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے کسی قسم کے خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے بی سی بی نے اس پورے واقعے سے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بی سی بی اب باضابطہ طور پر ہندوستانی کرکٹ بورڈ سے مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے اخراج کی اصل وجہ کے حوالے سے واضح جواب چاہتا ہے۔ اگر یہ وجہ سیکیورٹی یا سیاسی دباؤ سے متعلق پائی جاتی ہے تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور بنگلہ دیش حکومت دونوں مشترکہ طور پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں شکایت درج کر سکتے ہیں۔


آئی سی سی کے قوانین کے مطابق، کوئی بھی ملک جو سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر مقام کی تبدیلی کی درخواست کرتا ہے اسے اپنے کرکٹ بورڈ اور حکومت دونوں کو باضابطہ شکایت جمع کرانی ہوگی۔ آئی سی سی اس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان اور سری لنکا مشترکہ طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی کر رہے ہیں۔ٹورنامنٹ کے کئی اہم میچز کولکتہ کے ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم میں ہونے والے ہیں۔تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ کا مقام تبدیل کرنا آئی سی سی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اس سے نہ صرف میزبان ممالک کی تیاریوں پر اثر پڑے گا بلکہ براڈکاسٹنگ، ٹکٹنگ اور لاجسٹکس سے متعلق کئی اہم فیصلوں کا از سر نو جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔