1983 عالمی کپ: تذکرہ ان ’ہیروز‘ کا جنھوں نے ہندوستانی کرکٹ کی قسمت بدل دی

کلائیو لائیڈ کی طاقتور ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف ہندوستانی ٹیم نے فائنل مقابلہ میں 54.4 اوور میں 10 وکٹ پر 183 رن بنائے تھے اور ٹیم نے ویسٹ انڈیز ٹیم کو 184 رن بنانے کا ہدف دیا تھا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

1983 عالمی کپ کو تقریباً چار دہائی گزر چکے ہیں، لیکن ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تاریخی فائنل میچ آج بھی ہندوستانی کرکٹ شائقین کے دلوں میں خاص جگہ بنائے ہوئے ہے۔ سر ویوین رچرڈس کو آؤٹ کرنے کے لیے کپل دیو کے ذریعہ دوڑ لگا کر لیا ہوا کیچ، اب بھی اس نسل کو یاد دلاتا ہے۔ سر رچرڈس کے ذریعہ کھیلی گئی وہ 33 رنوں کی اننگ ٹیم میں سب سے بہترین تھی، جس میں ہندوستانی ٹیم کے گیندباز مدن لال کے اوور میں کپل دیو نے کیچ لپکا تھا۔

یہ جیت کئی معنوں میں اہم تھی۔ اس جیت کے ساتھ ہندوستانی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کی شروعات ہوئی تھی۔ کلائیو لائیڈ کی طاقتور ویسٹ انڈیز ٹیم کے خلاف ہندوستانی ٹیم نے پہلی اننگ میں شاندار 54.4 اوور میں 10 وکٹ پر 183 رن بنائے تھے اور ٹیم نے ویسٹ انڈیز ٹیم کو 184 رن بنانے کا ہدف دیا تھا۔ ویسٹ انڈیز ٹیم نے ہندوستانی گیندبازوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے، جس میں ٹیم نے 52 اوور میں دس وکٹ پر 140 رن بنائے تھے۔

80 کی دہائی کے دوران ویسٹ انڈیز ایک مضبوط ٹیم تھی اور جب بھی وہ کسی عالمی چمپئن شپ میں حصہ لیتے تھے تو وہ خطاب کے دعویدار رہتے تھے۔ اس دور میں دنیا کے بہترین بلے باز بھی ویسٹ انڈیز کے خطرناک گیندبازوں کا سامنا کرنے سے ڈرتے تھے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے 1975 اور 1979 میں عالمی کپ میں فتحیابی بھی حاصل کی تھی۔

1983 کے عالمی کپ میں بھی اسی طرح کے کھیل کی امید تھی جس میں ویسٹ انڈیز خطاب کی ہیٹ ٹرک لگانے پر نظر بنائے ہوئے تھی۔ لیکن 25 جون کو کپل دیو کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم نے مخالف ٹیم کو شکست دیتے ہوئے ایک تاریخ رقم کی اور باقی دنیا کو یہ ماننے کے لیے مجبور کر دیا کہ ایشیا کی ٹیمیں بھی جیت میں اپنا مقام بنا سکتی ہیں۔ تاریخی کامیابی کے بعد ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے اب تک دو مزید عالمی کپ خطاب جیتے ہیں، 2007 عالمی ٹی-20 اور 2011 وَنڈے عالمی کپ۔ لیکن کپل دیو کی ٹیم نے انگلینڈ میں جو حاصل کیا، وہ سب سے مختلف تھا۔


اب اداکار رنویر سنگھ کی فم ’83‘ جمعہ کے روز ریلیز ہونے کے لیے تیار ہے۔ اس موقع پر جشن منانے کے لیے آئی اے این ایس 1983 عالمی کپ کے ہیروز سے پھر سے ملاقات کرتا ہے تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ وہ اب کیا کر رہے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں 1983 کے ان ہیروز کے بارے میں۔

کپل دیو: وہ 87-1982 میں ہندوستانی ٹیم کے کپتان تھے اور انھوں نے ہندوستان کو تاریخی عالمی کپ جیت دلائی۔ انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں خطرناک نظر آنے والے سر ویوین رچرڈس کو آؤٹ کرنے کے لیے پیچھے کی طرف دوڑتے ہوئے ایک شاندار کیچ لیا تھا۔ ہریانہ ریاست میں پیدا ہوئے کپل دیو نے 1994 تک کئی بین الاقوامی کرکٹ کھیلے۔ انھوں نے 131 ٹیسٹ میچوں میں 434 ٹیسٹ وکٹ حاصل کیے، جن کا ریکارڈ ویسٹ انڈیز کے سابق گیندباز کورٹنی والش نے سنہ 2000 میں توڑا تھا۔ بعد میں انھوں نے ہندوستان کے کوچ کی شکل میں کام کیا۔ اب وہ ایک ٹی وی نیوز چینل سے کرکٹ ماہر کی شکل میں جڑے ہوئے ہیں اور ایک پیشہ ور گولفر بھی ہیں۔ انھوں نے کچھ ریستورانوں میں بھی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔

سنیل گاوسکر: 83 کے عالمی کپ میں وہ اپنی بلے بازی کا دم خم نہیں دکھا سکے، لیکن انھوں نے ٹیم میں دو کیچ اس اننگ میں لیے تھے۔ ٹیم کے لیے اس تعاون کے لیے وہ آج بھی یاد کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کیچز سے ٹیم نے دو وکٹ حاصل کیے تھے جس سے سبھی کھلاڑیوں کا حوصلہ مزید بڑھ گیا تھا۔ 1987 میں ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے ممبئی کرکٹ ایسو سی ایشن کے نائب چیئرمین، بی سی سی آئی کے عبوری صدر اور آئی سی سی کرکٹ کمیٹی کے سربراہ کی شکل میں کام کیا ہے۔ آج گاوسکر کا شمار دنیا کے بہترین کرکٹ کمنٹیٹرس میں ہوتا ہے۔ گاوسکر پروفیشنل مینجمنٹ گروپ (پی ایم جی) کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔

موہندر ’جمی‘ امرناتھ: وہ 1983 عالمی کپ فاتح ٹیم کے نائب کپتان اور فائنل و سیمی فائنل دونوں میں مین آف دی میچ رہے۔ انھوں نے 12 رن دے کر 3 وکٹ لیے اور فائنل میں اہم 26 رنوں کا ٹیم میں تعاون بھی دیا تھا۔ بعد میں انھوں نے 90 کی دہائی کے شروع میں ٹیلی ویژن پر ایک ہفتہ وار کرکٹ کوچنگ پروگرام ’کرکٹ وِتھ موہندر امرناتھ‘ پیش کیا۔ اب گوا سے باہر امرناتھ مختلف نیوز چینلس کے لیے ایک کرکٹ تجزیہ نگار ہیں۔


کرشنامچاری شری کانت: اس طوفانی سلامی بلے باز نے کم اسکور والے 1983 عالمی کپ فائنل میں سب سے زیادہ 38 رن بنائے اور انھوں نے پورے عالمی کپ میں کچھ اچھی پاریاں بھی کھیلی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے ہندوستان ’اے‘ کو کوچنگ دی۔ ہندوستان کے چیف سلیکٹرس کی شکل میں کام کیا، بعد میں ایک آئی پی ایل کے مینٹر بنے اور ٹی این پی ایل پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ انھوں نے آئی پی ایل 2018 کے دوران اخبار کے کالم بھی لکھے اور وہ اس وقت اپنا خود کا کاروبار بھی چلا رہے ہیں۔

بلوندر سنگھ سندھو: ممبئی میں پیدا تیز گیندباز نے سلامی بلے باز گورڈن گرینیز کو کلینبولڈ کیا تھا، جو یک روزہ میچوں میں مشہور کھلاڑی تھے۔ انھوں نے 11 رن بھی بنائے اور فائنل میچ میں دو وکٹ لیے۔ انھوں نے 90 کی دہائی میں ممبئی کی ٹیم کو کوچنگ دی، لیکن بعد میں تب تک سرخیوں سے باہر رہے جب تک کہ ’83‘ کی ٹیم انھیں اداکاروں سے ملنے کے لیے بورڈ پر نہیں لے گئی۔

مدن لال: انھوں نے تاریخی فائنل میں ڈیسمنڈ ہینس، سر ویو رچرڈس اور لیری گومز کے اہم وکٹ لیے۔ سبکدوشی کے بعد انھوں نے کچھ وقت کے لے یو اے ای کی ٹیم اور یہاں تک کہ ہندوستانی قومی ٹیم کو بھی کوچنگ دی۔ اس وقت وہ ٹی وی چینلوں پر کرکٹ تجزیہ نگار ہیں اور سری فورٹ اسپورٹس کمپلیکس، نئی دہلی میں ایک کرکٹ اکادمی چلاتے ہیں۔

سید کرمانی: انھوں نے 1983 عالمی کپ میں سب سے بہترین وکٹ کیپر کا ایوارڈ جیتا اور انھیں ہندوستان کے لیے کھیلنے والے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے 1985 کی بالی ووڈ فلم ’کبھی اجنبی دا‘ میں اداکاری بھی کی۔ انھیں 2015 میں کرنل سی کے نائیڈو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی ملا تھا۔


یشپال شرما: وہ مڈل آرڈر کے بلے باز تھے اور وہ 1983 عالمی کپ میں دوسرے سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز تھے۔ سبکدوشی کے بعد وہ ہندوستانی ٹیم کے چیف سلیکٹر بنے۔ 2014 میں انھیں دہلی کی کرکٹ صلاحکار کمیٹی کا چیف مقرر کیا گیا تھا۔ ان کا اس سال جولائی میں انتقال ہو گیا تھا۔

کیرتی آزاد: وہ 1983 عالمی کپ ٹیم میں ایک بلے باز تھے کی حیثیت سے تھے اور 1986 میں کرکٹ کے سبھی فارمٹ سے ریٹائر ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے والد سابق مرکزی وزیر اور بہار کے وزیر اعلیٰ بھاگوت جھا آزاد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاست میں داخلہ لیا۔ انھوں نے لوک سبھا رکن کی شکل میں کام کیا ہے اور حال ہی میں انڈین نیشنل کانگریس چھوڑنے کے بعد ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں۔

روجر بنی: وہ ایک ایسے آل راؤنڈر تھے جنھوں نے 1983 کرکٹ عالمی کپ میں اپنی گیندبازی سے سبھی کو متاثر کیا تھا۔ انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹ بھی لیے تھے۔ وہ اس وقت کرکٹ اسٹیٹ کرکٹ ایسو سی ایشن (کے ایس سی اے) میں ایک افسر کی شکل میں کام کر رہے ہیں۔

روی شاستری: وہ ایک آل راؤنڈر تھے۔ بعد میں وہ 2014 میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ڈائریکٹر بنے اور بعد میں حال ہی میں جب تک راہل دراوڑ کو عہدہ دیا گیا، تب تک انھوں نے چیف کوچ کی شکل میں کام کیا۔


دلیپ وینگسرکر: وہ ایک بلے باز تھے اور انھوں نے 1987 کرکٹ عالمی کپ کے بعد کپتانی سنبھالی تھی۔ وہ تین کرکٹ اکادمی چلاتے ہیں۔ دو ممبئی میں اور ایک پونے میں۔ یہ اکادمیاں چنندہ کھلاڑیوں کو مفت میں کرکٹ کی ٹریننگ دیتی ہیں۔

سندیپ پاٹل: وہ 1983 عالمی کپ فاتح ٹیم میں ایک بلے بازی کی حیثیت سے تھے۔ بعد میں انھیں موسیقی پر مبنی رومانی ڈرامہ ’کبھی اجنبی دا‘ (1985) میں ایک کردار کی پیشکش ہوئی، جس میں سید کرمانی اور سچن تندولکر بھی کردار نبھا رہے تھے۔ انھوں نے ہندوستانی ٹیم اور ’اے‘ ٹیم کو کوچنگ دی۔ انھوں نے کچھ وقت کے لیے کینیائی ٹیم کے کوچ کی شکل میں بھی کام کیا اور بی سی سی آئی میں سلیکٹرس کے سربراہ تھے۔

سنیل والسن: وہ ٹیم میں وحد کھلاڑی تھے جنھوں نے 1983 عالمی کپ میں ایک بھی میچ نہیں کھیلا تھا۔ حال کے دنوں میں انھوں نے دہلی کیپٹلز آئی پی ایل ٹیم کے ٹیم منیجر کی شکل میں کام کیا ہے۔

پی آر مان سنگھ: وہ ٹیم منیجر تھے اور 1983 میں عالمی کپ جیت کا ایک اہم حصہ تھے۔ وہ ٹیم کے ساتھ انگلینڈ جانے والے واحد افسر تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 23 Dec 2021, 8:13 PM