مجھے وقت سے پہلے باہر کر دیا گیا نہیں تو میں ون ڈے کا نمبر1 آل راؤنڈر بن سکتا تھا :عرفان پٹھان

عرفان کو یہ بھی لگتا ہے کہ وہ ہندوستانی ٹیم کو زیادہ دے سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ وقت سے پہلے ہی انہیں ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے دعوی کیا ہے کہ وہ ون ڈے کرکٹ میں ہندوستان کے سب سے اچھے آل راؤنڈر بن سکتے تھےلیکن ان کا کرکٹ کیریئر زیادہ دن نہیں چل سکا اور اسی وجہ سے وہ ہندوستان کے بہترین آل راؤنڈر نہیں بن سکے۔

عرفان کو ہمیشہ پچھتاوا رہے گا کہ انہوں نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ صرف 27 سال کی عمر میں ہندوستان کے لئے کھیلا تھا۔ عرفان کو یہ بھی لگتا ہے کہ وہ ہندوستانی ٹیم کو زیادہ دے سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ وقت سے پہلے ہی انہیں ٹیم سے باہر کردیا گیا تھا۔ مایوس عرفان نے 27 سال کی کم عمری میں کرکٹ کو الوداع کہا۔

ایک ویب سائٹ ریڈف ڈاٹ کوم سے گفتگو میں عرفان نے کہا کہ مجھے واقعی محسوس ہوتا ہے کہ میں ون ڈے فارمیٹ میں ہندوستان کا سب سے اچھا آل راؤنڈر بن سکتا تھا۔ ایسا نہیں ہوا کیونکہ مجھے زیادہ کرکٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ میں نے اپنا آخری میچ 27 سال کی عمر میں ہندوستان کے لئے کھیلا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عرفان 27 سال کی عمر میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں بہت مایوس تھے لیکن اب انہیں اس بات پر بالکل بھی دکھ نہیں ہے۔ عرفان خوش ہیں کہ انہوں نے متعدد بار ہندوستانی ٹیم کو مشکلات سے باہر نکالا اور اپنی شراکت سے اسے جیت دلائی۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عرفان نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اگر میں 35 سال کی عمر تک کھیلتا تو صورتحال بہتر ہوتی۔ لیکن اب سب کچھ گزر چکا ہے۔ میں نے جو میچ کھیلے وہ میچ جیتنے والوں کی طرح کھیلے۔ میں نے ایک کھلاڑی کی حیثیت سے کھیل کھیلا جس نے فرق پیدا کیا۔ اگر میں نے میچ کی پہلی وکٹ لی تو اس سے ٹیم کو بہت فرق پڑا۔ میں نے تمام اننگز جو میں نے بلے کے ساتھ کھیلی ہیں میں نے فرق کرنے کے لئے کھیلیں۔

واضح رہے کہ جب عرفان پٹھان نے 19 سال کی عمر میں انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا تو ان کی بولنگ نے سب کو حیران کردیا تھا ۔ عرفان کی بولنگ عمدہ تھی لہذا وہ 59 ون ڈے میچوں میں 100 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پٹھان ایسا کرنے والے پہلے ہندوستانی بولر بن گئے۔ عرفان کا یہ ریکارڈ محمد سمیع نے برسوں بعد توڑ دیا۔

انجری کا پٹھان کی ٹیم میں اندر اور باہر ہونے میں اہم کردار رہا۔ اس عمر میں جب بالر عموما کیریر کی چوٹی پر ہوتے ہیں ، پٹھان نے اس عمر میں اپنا آخری میچ ہندوستان کے لئے کھیلا تھا ۔بعدازاں پٹھان نے اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز کرنا شروع کی اور اگرچہ آل راؤنڈر نے پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی ، تو لوگوں نے محسوس کیا کہ اس کا اثر ان کی بیٹنگ پر پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ دیکھیں تو پہلے 59ون ڈے میچوں میں انہیں نئی گیند سے بالنگ کی ذمہ داری دی گئی اور جب آپ نئی گیند کے بالر ہوتے ہیں تو آپ کو نئی گیند کے ساتھ ساتھ پرانی گیند کے ساتھ بھی بولنگ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ کا مقصد ، آپ کی ذہنیت ، آپ کی جسمانی حرکات و سکنات اور آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وکٹیں لیں۔ لیکن جب آپ پہلی بار بولنگ کررہے ہیں تو آپ کا کردار بھی تبدیل ہوجاتا ہے ، آپ کا کردار دفاعی ہوجاتا ہے۔

پٹھان بار بار انجری اور میچ فارم سے لڑتے رہے جس کی وجہ سے وہ ہندوستانی ٹیم سے باہر ہوگئے ، لیکن جب بھی وہ ہندوستان کے لئے بولنگ کا آغاز کرتے تو وہ اپنے عروج پر ہوتے۔ آخری میچ جو انہوں نے ہندوستان کے لئے کھیلا تھا ، پٹھان نے اگست 2012 میں سری لنکا کے خلاف پانچ وکٹیں حاصل کیں ، جبکہ نئی گیند کے ساتھ ذمہ داری بھی نبھاتے رہے۔