واپسی پر تیز بولرز کو زیادہ احتیاط کی ضرورت: عرفان پٹھان

جب کھلاڑی اتنے لمبے وقت کے بعد میدان میں واپس آئیں گے تو ان کے لئے چیلنج ہوگا کہ وہ زخمی ہونے سے بچیں اور فاسٹ بالرز کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ چوٹ کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ٹیم انڈیا کے سابق فاسٹ بالر عرفان پٹھان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے بعد کرکٹ میں واپسی پر فاسٹ بالرز کو دوسرے کھلاڑیوں کے مقابلے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ہندستان سمیت پوری دنیا میں کرکٹ کی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں اور کھلاڑی تین ماہ سے زیادہ عرصے سے گراؤنڈ سے باہر ہیں اور وہ تربیت نہیں کررہے ہیں۔ تاہم کورونا کے پھیلنے کے بیچ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز بغیر ناظرین کھیلی جارہی ہے۔

عرفان نے اسٹار اسپورٹس شو’ کرکٹ کنکٹڈ ‘ میں کہا کہ سچ پوچھیں تو میں فاسٹ بالرز کے لئے فکرمند ہوں۔ انہیں خود کو صورتحال سے ہم آہنگ ہونے میں چار سے چھ ہفتوں کا وقت لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی فاسٹ بولر کے لئے مشکل ہے کہ وہ 25 گز تک بھاگ کر 140-150 کی رفتار سے بالنگ کراسکے اور مستقل گیند بازی جاری رکھے۔

رواں سال جنوری میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہونے والے عرفان پٹھان نے کہا کہ جب کھلاڑی اتنے لمبے وقت کے بعد میدان میں واپس آئیں گے تو ان کے لئے چیلنج ہوگا کہ وہ زخمی ہونے سے بچیں۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ بالرز کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ چوٹ کا زیادہ خطرہ رکھتے ہیں۔

عرفان نے کہا کہ فاسٹ بالرز کا جسم سخت ہوجاتا ہے اور ان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ انجری سے بچیں کیونکہ میرے خیال میں کسی بھی فاسٹ بالر کو اپنی تال حاصل کرنے کے لئے کم از کم چار سے چھ ہفتوں کی ضرورت ہوگی۔ لہذا اسپنرز یا بلے بازوں کے مقابلے تیز بولروں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

2003 میں آسٹریلیا کے خلاف انٹرنیشنل ڈیبیو کرنے والے عرفان پٹھان نے ہندستان کی جانب سے 29 ٹیسٹ ، 120 ون ڈے اور 24 ٹی 20 میچ کھیلے ہیں اور مجموعی طور پر 301 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ عرفان آخری بار 2012 میں سری لنکا میں ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ٹیم انڈیا کے لئے کھیلے تھے۔

next