ناظرین کے بغیر آئی پی ایل جیسے مہمانوں کے بنا شادی: عرفان پٹھان

ہندستانی کرکٹ ٹیم کے سابق سرکردہ آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے ناظرین کے بغیر انڈین پریمیر لیگ کے انعقاد کی مخالفت کرتے ہوئے اس طرح کے انعقاد کو باراتیوں اور مہمانوں کے بغیر شادی سے تعبیر کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندستانی کرکٹ ٹیم کے سابق سرکردہ آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے ناظرین کے بغیر انڈین پریمیر لیگ کے انعقاد کی مخالفت کرتے ہوئے اس طرح کے انعقاد کو باراتیوں اور مہمانوں کے بغیر شادی سے تعبیر کیا ہے۔ خوفناک کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت ہندستان میں کرکٹ اور اس سے متعلقہ سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں۔ ملک اور دنیا کی باوقار ٹی 20 لیگ آئی پی ایل کو بھی ملتوی کردیا گیا ہے اور اب شائقین کے بغیر کرکٹ میچوں کے انعقاد کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس پر سابق ہندوستانی بولر عرفان پٹھان نے کہا ہے کہ انڈین پریمیر لیگ سیزن ناظرین کے بغیر 'مہمانوں کے بغیر شادی' کی طرح ہوگا۔

پٹھان نے ٹائمز آف انڈیا ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس وقت راست کرکٹ ایکشن زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمانوں اور باراتیوں کے بنا شادی نامکمل معلوم ہوتی ہے۔اگر ناظرین وشائقین کے بغیر آئی پی ایل کھیلا جائے گا تو ہم بھی ایسا ہی محسوس کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ لیکن باراتی کے بغیر بھی شادی ہوتی ہی ہے۔ بہت سے لوگ عدالت میں کورٹ میرج کرلیتے ہیں اور شادی کرتے ہیں۔ آخر میں شادی ہوتی ہی ہے۔

پٹھان نے کہا کہ ناظرین کے بغیر ایسا ماحول نہیں ہوسکتا جو میدان میں شور مچائے جب چوکے اور چھکے لگتے ہیں۔ وبا کی وجہ سے لوگ فی الحال براہ راست کرکٹ ایکشن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی عمر سے قطع نظر ہر کوئی ایک ہی ماحول دیکھنا چاہتا ہے۔ اس سال کے آخر میں ٹی 20 ورلڈ کپ ایونٹ بھی خطرے کی زد میں ہے۔ تاہم بی سی سی آئی کو امید ہے کہ آئی پی ایل کا 13 واں سیزن ستمبر تا نومبر کی ونڈو میں ہوسکتا ہے۔ فی الحال آئی پی ایل غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ کا فیصلہ آئندہ ماہ ہوجائے۔اس موقع پر عرفان پٹھان نے سال 2004 کے دورہ پاکستان کے دوران اپنے اوپر جاوید میانداد کے تبصرے اور کے جواب میں اپنے والد کی میانداد سے پرسش کا واقعہ بھی بیان کیا ۔

یہ واقعہ 2004 کا ہے۔ عرفان پٹھان بھی اس ٹیم کا حصہ تھے جب 2004 میں ہندستان نے بی سی سی آئی کے موجودہ صدر سورو گنگولی کی قیادت میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے کوچ جاوید میانداد نے اس وقت کہا تھا کہ عرفان پٹھان جیسے بولر پاکستان کی گلی گلی میں ملتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز اور بائیں ہاتھ کے درمیانے درجے کے تیز گیند باز عرفان کے والد محمود پٹھان میانداد کے بیان سے شدید مایوس ہوئے اور انہوں نے پاکستانی کوچ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ندوستانی کرکٹ شائقین ، عرفان اور ان کے اہل خانہ نے اسے پسند نہیں کیا۔ عرفان نے اس بارے میں کہا کہ مجھے یاد ہے کہ جاوید میانداد نے کچھ ایسا ہی کہا تھا کہ مجھ جیسے بالر پاکستان کی ہر گلی میں پائے جاسکتے ہیں۔ ہمیں یہ پسند نہیں آیا۔ میرے والد بھی میچ دیکھنے پاکستان گئے تھے۔ وہ میرے پاس آئے اور کہا کہ میں پاکستان کے ڈریسنگ روم میں میانداد سے ملنا چاہتا ہوں۔

اس کے بعد عرفان پٹھان کے والد محمود خان پٹھان میانداد سے ملنے پاکستانی ٹیم کے ڈریسنگ روم پہنچ گئے۔ اچانک میانداد اپنے سامنے عرفان کے والد کو دیکھ ہکا بکا رہ گئے۔میانداد نے سمجھانا شروع کیا کہ انہوں نے عرفان کے بارے میں ایسا کچھ نہیں کہا۔ واضح رہے کہ اس وقت عرفان پٹھان نے پاکستان کے ملتان میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کی تھیں اور اس میچ کو ہندوستان نے ایک اننگز اور 52 رنز سے جیتا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے لاہور اور راولپنڈی میں بھی 3-3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔