آئی پی ایل: حیدر آباد، راجستھان اور پنجاب کی ٹیمیں آخر کیوں ہیں مایوس!

حیدرآباد، راجستھان و پنجاب نے آئی پی ایل کے انعقاد کے مقامات پر اعتراض کا اظہار کیا اور کہا کہ بنگلور، چنئی، کولکاتا، دہلی اور ممبئی کو گھر یلو فائدہ ہوگا جبکہ 3 ٹیموں کو ہوم گراؤنڈ سے دور کھیلنا ہوگا

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: راجستھان رائلز ، پنجاب کنگز اور سن رائزرس حیدرآباد نے انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کے 14 ویں سیزن کے انعقاد کے مقامات کے سلسلے میں اعتراض کیا ہے۔ ان تینوں فرنچائزز نے ہندوستان میں بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہیمنگ امین کے سامنے یہ معاملے اٹھاتے ہوئے اعتراض کا اظہار کیا ہے۔

بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے اس مرتبہ احمد آباد سمیت چھ مقامات پر آئی پی ایل کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جو کسی بھی فرنچائز کا ہوم گراؤنڈ نہیں ہے۔ بی سی سی آئی کے اس فیصلے کے بعد فرنچائزز کی طرف سے اعتراضات کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر احتجاج کرنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں حالانکہ فرنچائزیوں نے اس پر کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے لیکن مخالفت کی تردید نہیں کی ہے۔ امین اور بی سی سی آئی نے بھی ابھی تک اس سلسلے میں کوئی رد عمل کا اظہارنہیں کیا ہے۔

مایوس فرنچائزز کے عہدیداروں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "اس فیصلے سے تین ٹیمیں بری طرح متاثر ہوں گی۔" جو ٹیمیں ہوم گراؤنڈز پر اچھی کھیلتی ہیں وہ پوری لیگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں ، کیونکہ ہوم گراؤنڈز پر پانچ یا چھ جیتنے والی ٹیمیں پلے آف میں پہنچ جائیں گی۔ رائل چیلنجرز بنگلور، چنئی سپر کنگز، کولکتہ نائٹ رائیڈرز، دہلی کیپٹلز اور ممبئی انڈینز کو گھر یلو فائدہ ہوگا اور ہمیں تین ٹیموں کو ہوم گراؤنڈ سے دور کھیلنا ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔