آئی پی ایل میں 9 کروڑ پانے والا اسپنر راشد خان افغانستان کا ’ارمان‘

افغانستان کے معروف کرکٹ کھلاڑی راشد خان

افغانستان میں جہاں ڈر لگتا ہے کہ کوئی گیند کی جگہ ہینڈ گرینیڈ نہ پھینک دے ایسے ماحول میں راشد خان جیسے گیندباز کا ابھرنا کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے۔

اتفاق ہے کہ راشد کی امی انھیں 'ارمان' کہتی ہیں اور وہ اب افغانستان کے ’ارمان‘ بن چکے ہیں۔ عالمی کرکٹ میں راشد خان اب اسی طرح کے کرکٹر ہیں جس طرح کے کبھی اینڈی فلاور زمبابوے کے لیے، اسٹیفن فلیمنگ نیوزی لینڈ کے لیے اور سنتھ جے سوریہ سری لنکا کے لیے کہلائے جاتے ہیں۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جنھیں ہم 'گدڑی کا لال' کہتے ہیں۔ پاکستان میں مشتاق ہونا مشکل نہیں ہے، آسٹریلیا میں پونٹنگ ہونے کی حیرت نہیں ہوتی اور ہندوستان میں روزانہ سچن پیدا ہوتا ہے تو یہ حیرانی نہیں ہوتی لیکن افغانستان میں راشد پیدا ہوتا ہے تو یہ صد فیصد حیرانی کی بات ہے۔

اس افغانستان میں جہاں ڈر لگتا ہے کہ کوئی گیند کی جگہ ہینڈ گرینیڈ نہ پھینک دے تب تو عجوبہ کہا ہی جائے گا۔ آئی پی ایل میں 9 کروڑ میں آر ٹی ایم (رائٹ ٹو میچ، یعنی جب کوئی ٹیم کسی کھلاڑی کو ہر قیمت پر لینا چاہیں) کے ذریعہ سن رائزرس حیدرآباد کے ساتھ جڑنے والے 19 سال کے راشد خان اپنے ملک کی پہچان بن گئے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سال کے آئی سی سی پلیئر (ایسو سی ایٹ) منتخب کیے گئے راشد افسوس کرتے ہیں کہ بارود کے غبار میں ڈھکی زمین کے پاس اپنا ایک عالمی سطح کا اسٹیڈیم نہیں ہے اور کوئی بین الاقوامی کرکٹ ٹیم وہاں آ کر نہیں کھیلنا چاہتی کیونکہ انھیں ڈر لگتا ہے۔ ٹیمیں سوچتی ہیں کہ کب کسی ڈرون کا نشانہ خطا ہو جائے اور پھر... اس لیے افغانستان کا ہوم گراونڈ وجے سنگھ پتھک اسٹیڈیم نوئیڈا ہے۔ ایسی صورت حال میں یہ ملک راشد خان نام کا کھلاڑی پیدا کرتا ہے تو تعریف ہونی ہی چاہیے۔ گزشتہ سال آئی پی ایل میں 4 کروڑ میں خریدے گئے راشد نے 14 میچ میں 17 وکٹ لیے تھے اور سرفہرست 6 میں شامل تھے۔ ایک میچ میں انھوں نے 3 وکٹ لیے جن میں برینڈن میک کولم اور سریش رینا بھی شامل تھے۔ انھوں نے جو تین وکٹ حاصل کیے تینوں ہی ایل بی ڈبلیو کیے۔ آئی پی ایل میں یہ ریکارڈ ہے۔

گزشتہ سال انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک ونڈے میں 7 وکٹ لے لیے اور پھر آئرلینڈ کے بلے بازوں کو حیران کرتے ہوئے صرف 3 رن دے کر 5 وکٹ لے لیے۔ انھوں نے سی پی ایل کی پہلی ہیٹ ٹرک بھی لی لگا اور سال کے دوسرے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے ونڈے گیندباز بن گئے۔

راشد خان عالمی کرکٹ کے ایک ابھرتے ہوئے ستارے ہیں اور ابھی محض 19 سال کے ہیں۔ افغانی انھیں اپنا آفریدی کہتے ہیں۔ ان کی گیندبازی شاہد آفریدی اور انل کمبلے کا مجموعہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ بہت تیز لیگ اسپن کراتے ہیں جس سے ان کی گیندبازی پر بلے باز بولڈ یا ایل بی ڈبلیو ہو جاتا ہے۔ راشد کے گھر کا نام 'ارمان' ہے اور وہ افغانستان کے ناگھلور میں پیدا ہوئے۔ ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ تیز بلے بازی بھی کرتے ہیں۔ اس وقت ان کے ستارے عروج پر ہیں۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ شین واٹسن، پولارڈ، بریوو، شکھر دھون، اشون، محمد سمیع کو ان سے کم قیمت ملی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے استاد امت مشرا کو ان سے نصف قیمت بھی نہیں ملی۔ وہ سب سے مہنگی قیمت میں فروخت ہونے والے اسپنر بھی ہیں۔ سن رائزرس حیدر آباد میں بھونیشور کمار اسٹار گیندباز ہیں لیکن راشد خان کو ان سے بھی زیادہ ویلیو ملی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ راشد عالمی سطح کے فیلڈر بھی ہیں۔ وہ کور پر زیادہ فیلڈنگ کرتے ہیں اور انھیں بہترین افغانی فیلڈر بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ جنگ میں تباہ ہوئے ان کے ملک کو بارود سے بھر دینے والے امریکہ میں ایک بھی کھلاڑی راشد خان کی ٹکر کا نہیں ہے۔

سب سے زیادہ مقبول