آئی پی ایل کا ہونا مشکل، بیرون ممالک سے کوئی بھی کھلاڑی 15 اپریل تک نہیں آسکتا

کرکٹ کا معروف مقابلہ آئی پی ایل پر کورونا وائرس کی وجہ سے رد ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور اب اس کے رد ہونے کے امکان بڑھ گئے ہیں کیونکہ 15 اپریل تک کوئی بھی بیرون ممالک کا کھلاڑی ہندوستان نہیں آسکتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

گزشتہ روز ہندوستان کی مرکزی حکومت نے فیصلہ لیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کسی بھی باہر سے آنے والے کو ہندوستانی سفارتخانہ ہندوستان کا ویز نہیں دے گا۔ اس مہلک بیماری سے بچنے اور لڑنے کا یہ ضروری طریقہ ہے لیکن اس کی وجہ سے جہاں ملک کی سیاحت کی صنعت کو نقصان پہنچے گا وہیں ہوٹل انڈسٹری بری طرح متاثر ہوگی۔ حکومت کے اس فیصلہ کے بعد یہ بھی طے لگ رہا ہے کہ اس سال کرکٹ کا معروف مقابلہ آئی پی ایل بھی نہیں ہو پائے گا کیونکہ بیرون ملک سے آنے والے کھلاڑی اب ہندوستان نہیں آ پائیں گے۔ واضح رہے آئی پی ایل میں کرکٹ دنیا کے کئی ممالک کے بڑے کھلاڑی حصہ لیتے ہیں۔

حکومت نے جو گزشتہ روز فیصلہ لیا ہے اس پر کل سے یعنی ۱۳ مارچ سے ہی عمل شروع ہو جائے گا۔ ابھی بی سی سی آئی کو اس پر فیصلہ لینا ہے کہ وہ آئی پی ایل کے ساتھ کیا کر سکتا ہے۔ اس سے قبل مہاراشٹر کے وزیر صحت نے اشارہ دیا تھا کہ اس سال یا تو آئی پی ایل کی تاریخوں میں بدلاؤ کیا جائے گا یا پھر اسے رد کر دیا جائے گا۔ اس میں اگر کسی وجہ سے مقابلہ ہوا بھی تو کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے ان مقابلوں کو دیکھنے کے لئے لوگ نہیں آئیں گے۔

واضح رہے یوروپ کے کئی ممالک میں وہاں کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کے مقابلے یا تو رد کر دیئے گئے ہیں یا پھر خالی اسٹیڈیم میں یہ مقابلے کھیلے گئے ہیں۔ ابھی یہ بھی طے نہیں ہے کہ 15 اپریل کے بعد ویزہ پر لگی پابندی کو مزید بڑھایا جائے گا یا نہیں۔