آئی پی ایل 2020: متحدہ عرب امارات میں شدید گرمی نے محمد سمیع کو کیا پریشان!

انڈین پریمیر لیگ کا 13واں سیزن ہندوستان کے بجائے متحدہ عرب امارات میں منعقد ہورہا ہے۔ کورونا وائرس کے تباہی کی وجہ سے ہندوستان میں منظم ہونا ممکن نہیں تھا۔

محمد سمیع، تصویر گیٹی ایمج
محمد سمیع، تصویر گیٹی ایمج
user

یو این آئی

دبئی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم اور کنگز الیون پنجاب کے سرکردہ تیز گیند باز محمد سمیع نے متحدہ عرب امارات میں جاری گرمی کی شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں فاسٹ بالرز کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے کام کا بوجھ اچھی طرح سے نبھائیں۔

انڈین پریمیر لیگ کا 13 واں سیزن ہندوستان کے بجائے متحدہ عرب امارات میں منعقد ہورہا ہے۔ کورونا وائرس کے تباہی کی وجہ سے ہندوستان میں منظم ہونا ممکن نہیں تھا۔ لیکن متحدہ عرب امارات کی گرمی کے ساتھ ہی بولرز کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ ہندوستانی ٹیم اور کنگز الیون پنجاب کے فاسٹ بالر محمد سمیع نے بھی گرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سمیع نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں فاسٹ بالرز کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ اپنے کام کا بوجھ اچھی طرح سے نبھائیں کیونکہ متحدہ عرب امارات میں کسی بھی طرح سے صورتحال آسان نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات کے تین شہروں دبئی، ابو ظہبی اور شارجہ لیگ کی میزبانی کر رہے ہیں۔

محمد سمیع نے کہا کہ یہاں کا درجہ حرارت ہندوستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ کھلاڑیوں کو پانی کی کمی ہوجائے۔ کھنچاؤ کا بھی امکان ہے۔ لہذا ہمیں ایسی چیزوں کو دھیان میں رکھنا ہوگا۔ سمیع نے مزید کہا کہ یہ بہت مشکل ہوگا کیونکہ یہاں وکٹ بہت مختلف ہے۔ لہذا ورک لوڈ کا انتظام بہت ضروری ہے لیکن یہ اتنا مشکل نہیں ہے کہ اسے سنبھالا نہیں جاسکتا۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم معاملات کیسے سنبھالتے ہیں۔

سمیع پنجاب کے تیز بولنگ اٹیک کی قیادت کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سے ان پر کوئی اضافی دباؤ ہوگا؟ تو انھوں نے کہا کہ میں ٹیم میں سینئر ہونے پر دباؤ نہیں لیتا۔ آپ کو اپنی صلاحیتوں اور خود پر اعتماد ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ کنگز الیون پنجاب نے ایک بار بھی آئی پی ایل کا اعزاز حاصل نہیں کیا ہے۔ کنگز الیون پنجاب نے اس سیزن کے لئے کے ایل راہل کو قیادت کی ذمہ داری دی ہے۔ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے فرائض سابق ہندوستانی کھلاڑی انل کمبلے سنبھال رہے ہیں۔ ان دونوں کی جوڑی کے ساتھ ٹیم کی نظریں پہلی بار خطاب حاصل کرنے پر لگی ہیں۔

next