ہندوستانی اسپنر نیوزی لینڈ کی آخری جوڑی توڑنے میں ناکام رہے

اگرچہ خراب روشنی نے میچ میں خلل ڈالا، لیکن اس میچ کوڈرا کرانے کے لئے کیوی بلے بازوں نے غضب کی ثابت قدمی کامظاہرہ کیا۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

حالیہ سب سے سست ہندوستانی ٹیسٹ مپچوں میں سے ایک کانپور کے گرین پارک پر مخالف ٹیم کے خلاف بے حد اچھے سمجھے جانے والے دو عظیم اسپنر روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ اپنی تمام تکنیک اورویریئیشن کااستعمال کر رہے تھے تاکہ ان کی ٹیم کو وہ آخری وکٹ مل جائے۔ دوسری جانب اپناڈیبیو میچ کھیل رہاایک کھلاڑی اورایک نمبر11 کا بلے باز جومیچ ڈرا کروانے کی کوشش کررہے تھے اورساتھ میں امپائروں کے ہاتھ میں لائٹ میٹرتھا، جو دن کے آخری لمحات میں ہراوور کے بعد اس مشین کا استعمال کرکے یہ دیکھ رہے تھے کہ پچ پر روشنی پوری ہے یانہیں۔

یہ تمام چیزیں ایک ڈرامائی آخری سیشن کو اس موڑ تک لے گئے، جہاں ’سنسنی خیز‘ لفظ بھی ایک لمحہ کے لئے شکست کھاجائے۔ عالمی نمبرایک اوردو ٹیموں کے درمیان ایک سنسنی خیز ٹیسٹ میچ مقررہ وقت سے 12 منٹ پہلے خراب لائٹ کے باعث ختم ہوا، جس میں ہندوستان فتح سے ایک وکٹ دوررہ گیا۔


اگرچہ خراب روشنی نے میچ میں خلل ڈالا، لیکن اس میچ کوڈرا کرانے کے لئے کیوی بلے بازوں نے غضب کی ثابت قدمی کامظاہرہ کیا اورآخری وکٹ کے لئے رچن روندراور اعجاز پٹیل نے ایک مشکل حالات میں 51 گیندوں کا سامنا کیا اورمیچ کے آخری لمحات تک اپنے وکٹ کو بچائے رکھا۔ رچن نے اپنے 18 رنوں کے لئے 91 گیندیں کھیلیں جبکہ اعجاز نے دو رن کے لئے 23 گیندوں کا سامنا کیا۔ لیکن اپناوکٹ نہیں گنوایا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔