کرکٹ: آسٹریلیائی دورے میں ٹیم انڈیا کو کوارنٹائن میں رہنا پڑ سکتا ہے

سیریز کے لئے سفری پابندیوں کی چھوٹ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ ہندوستانی ٹیم کے دورے کے بعد بین الاقوامی سفری پابندیاں ختم ہوجائیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے عبوری سی ای او نک ہاکلی نے کہا ہے کہ ٹیم انڈیا اور معاون عملے کو رواں سال دسمبر میں اپنے آسٹریلیا کے دورے کے دوران 14 دن کے قرنطینہ میں رہنا پڑ سکتا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا میں کرکٹ کی سرگرمیاں تعطل کا شکار تھیں۔ لیکن اب ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے مابین ناظرین کے بغیر ٹیسٹ سیریز کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ کورونا کےبعد کرکٹ شروع ہونے پر ٹیموں کو بیرونی دورے پر جانے کے لئے میزبان ملک میں کچھ دن قرنطینہ میں رہنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے قبل ونڈیز کی ٹیم بھی انگلینڈ پہنچنے پر 14 دن تک قرنطینہ میں رہی۔تاہم ہاکلی نے یہ بھی کہا کہ سی اے اس بات کا خیال رکھے گا کہ کھلاڑی قرنطینہ کے دوران ہوٹل کے کمرے میں بند نہ رہیں بلکہ انہیں وہاں رہتے ہوئے تربیت کی اجازت بھی دی جائے۔

اس سے قبل کرکٹ بورڈ آف انڈیا (بی سی سی آئی) کے صدر سوربھ گنگولی نے بھی کہا تھا کہ دورہ آسٹریلیا کے دوران کپتان وراٹ کوہلی کی زیر قیادت ہندوستان کو کچھ وقت قرنطینہ میں رہنا پڑ سکتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے مابین رواں سال دسمبر میں چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہونی ہے۔ہاکلی نے کہا کہ میرے خیال میں ہندستانی ٹیم کو دو ہفتوں تک قرنطین میں رکھنا ضروری ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں کہ ٹیم کو قرنطینہ میں قیام کے دوران تربیت ملے تاکہ وہ تیاری کر سکیں۔ہاکلی نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا پہنچنے پر ہندوستانی کھلاڑیوں کو ٹیسٹ سے گزرنا پڑے گا۔ اس دوران سی اے آسٹریلیائی حکومت سے سفری پابندی میں نرمی کے بارے میں بات کر رہا ہے تاکہ ہندوستانی ٹیم کو یہاں آنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔

عبوری سی ای او نے کہا کہ ہمیں سیریز کے لئے سفری پابندیوں کی چھوٹ کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ ہندوستانی ٹیم کے دورے کے بعد بین الاقوامی سفری پابندیاں ختم ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم طیارے میں سوار ہونے سے قبل کھلاڑیوں کی جانچ کرائیں گے اور حکومت کے ہیلتھ پروٹوکول کے پیش نظر قرنطینہ نظام فراہم کریں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایڈیلیڈ اوول جہاں ہوٹل بھی موجود ہیں وہاں ہندستانی ٹیم کو قرنطینہ میں رکھنے پر غور و خوص جاری ہے۔ہاکلی نے کہا کہ چاہے قرنطینہ ہوٹل اسٹیڈیم میں ہو یا ہوٹل کے مقام کے قریب ہمیں صرف ایک ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں بایو سیکیورماحول فراہم کیا جاسکے اور انفیکشن کا خطرہ نہ ہو۔کھلاڑیوں کی حفاظت ہمارے لئے اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایڈیلیڈ اوول میں بھی ایک ہوٹل ہے اور ہم ان تمام جگہوں کے بارے میں تبادلہ خیال کر رہے ہیں جہاں تمام انتظامات دستیاب ہوں۔

Published: 22 Jul 2020, 8:27 AM
next