ہندوستان ون ڈے سیریز کا آغاز جیت سے کرنے کا خواہاں

ٹیم نے آخری ٹسٹ میں جس طرح واپسی کرتے ہوئے 63 رن سے جیت اپنے نام کی اس سے ہندوستانی ٹیم کا حوصلہ کافی بلند ہے۔

Getty Images
Getty Images
user

یو این آئی

ڈربن : ہندوستانی کرکٹ ٹیم سلیکشن میں خامی ، بلے بازوں کی ناقص کارکردگی اور جارحانہ انداز جیسی غلطیوں کو دور کرتے ہوئے وراٹ کوہلی کی قیادت میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم جمعرات کو جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ون ڈے میں جیت کے ساتھ آغاز کرنے کے لئے اترے گی ۔

ہندوستان۔ جنوبی افریقہ سے تین ٹسٹ میچوں کی سیریز میں ایک ۔ دو سے ہار گیا تھا لیکن آخری ٹسٹ میں جس طرح ٹیم انڈیا نے واپسی کرتے ہوئے 63 رن سے جیت اپنے نام کی اس کا حوصلہ کافی بلند ہے اور یقینا ًون ڈے سیریز میں بھی وہ اس کارکردگی کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کرے گی۔

مہمان ٹیم کا ون ڈے میں ڈربن کے کنگس میڈ میدان پر ریکارڈ اچھا نہیں رہا ہے لیکن ٹیم نے اس فارمیٹ میں گزشتہ دو سال میں شاندار کارکردگی پیش کی ہے اور اگر وہ جنوبی افریقہ کے خلاف چھ ون ڈے میچوں کی سیریز میں جیت حاصل کرلیتی ہے تو یہ اس کی مسلسل نویں سیریز جیت ہوگی اور اسی کے ساتھ رینکنگ میں بھی وہ ٹسٹ کے بعد ون ڈے میں دنیا کی نمبر ون ٹیم بن سکتی ہے۔ مہمان ٹیم کے لیے اگرچہ اس مرتبہ بلے بازی میں اصلاح کی زیادہ ضرورت ہو گی۔

ہندوستانی ٹیم ٹسٹ سیریز میں کوہلی پر منحصر نظر آرہی تھی ۔ مڈل آرڈر میں مہندر سنگھ دھونی اور اوپننگ میں شکھر دھون اور روہت شرما اہم ہوں گے۔ روہت نے گزشتہ سال سری لنکا کے خلاف ون ڈے میں تیسری ڈبل سنچری بنائی تھی اور امید رہے گی کہ اس فارم کو وہ افریقی سرزمین پر دہرا سکیں۔

کپتان وراٹ نے آخری ون ڈے سیریزنیوزی لینڈ کے خلاف گھریلو میدان پر کھیلی تھی جس میں ان کی کارکردگی شاندار تھی اور انہوں نے تین میچوں کی سیریز میں 121، 29 اور 113 رنز کی بہترین اننگز کھیلی تھیں۔

ٹیسٹ سیریز میں وراٹ کو ٹیم کے انتخاب کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے اجنکیا رہانے کو باہر بٹھایا۔ایسے میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ افریقہ کے خلاف وہ آخری الیون میں کس کھلاڑی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ رہانے نے آخری ون ڈے سیریز آسٹریلیا کے خلاف کھیلی تھی جس میں انہوں نے 55،70،53 اور 61 رن کی چار نصف سنچری اننگز کھیلی اور ٹیم کے ٹاپ اسکورر بھی رہے تھے۔

رہانے کے علاوہ فی الحال بلے بازی آرڈر میں ٹیم کے پاس منیش پانڈے، دنیش کارتک، کیدار جادھو جیسے متبادل کھلاڑی بھی موجود ہیں۔ دھونی کی موجودگی ہمیشہ ٹیم انڈیا کے لئے اہم ہوتی ہے۔

بلے بازی میں ہندوستانی ٹیم کو اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے کھلاڑی افریقہ کی اچھال بھری پچوں پر بڑے اسکور کرنے اور میزبان ٹیم کے تیز گیند بازوں کے سامنے ڈٹے رہنے میں ناکام رہے ہیں حالانکہ گیندبازوں نے یہاں کی پچوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔

تیزگیندباز بھونیشور کمار، محمد سمیع اور جسپريت بمراه نے تین ٹسٹ میچوں میں 20 وکٹ حاصل کیے ہیں اور ہندوستان کو ابتدائی دونوں ٹسٹ میچوں میں بھی جیت کے قریب پہنچایا تھا اور ون ڈے میں بھی تیز گیندبازوں کی دوبارہ اہمیت رہے گی۔ ہندوستان کی ونڈررس میں تیسرے ٹیسٹ میں سمیع کے 28 رن پر پانچ وکٹ نے ہندوستان کو نہ صرف جیت دلائی بلکہ اس کے حوصلے کو بھی بلند کیاہے۔

تجربہ کار تیزگیندباز سمیع افریقی پچوں پر اب تک کامیاب رہے ہیں تو وہیں ٹیم کے پاس مڈل آرڈر کے تیزگیندباز آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا بھی ہیں۔ اس کے علاوہ چائنامین گیندباز کلدیپ یادو اور يجویندر چہل نے گھریلو میدان پر پچھلی ون ڈے سیریز میں کمال کی کارکردگی پیش کی تھی لیکن امید ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے بعد وراٹ ون ڈے میں بھی تیز گیندبازوں پر زیادہ منحصر ہوں گے۔

ہندوستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف کبھی بھی دو ون ڈے کرکٹ سیریزنہیں جیتی ہے۔اس نے سال 11۔ 2010 میں دو۔تین سے، 07۔2006 میں صفر۔چار سے اور93۔ 1992 میں دو۔پانچ سے سےسیریز گنوائی تھی۔

دوسری طرف میزبان ٹیم کے جارح بلے باز اے بی ڈی ویلیرس چوٹ کی وجہ سے ابتدائی تین میچوں سے باہر ہونے سے بھی ہندوستان کو فائدہ ملے گا۔حالانکہ کپتان فاف ڈو پلیسس، آل راؤنڈر كوئنٹن ڈی کاک، آئی پی ایل اسٹار جے پی ڈومنی اور اوپننگ میں ایڈین ماركرام اہم ہوں گے جبکہ افریقی ٹیم ون ڈے میں بھی تیز گیندبازوں کے ساتھ اتر سکتی ہے تو کیگسو ربادا اور لوگی اینگدی پر وہ پھر سےاعتماد کرسکتی ہے جو ٹیسٹ سیریز میں ہندوستانی بلے بازوں کے لیے دردسر بن گئے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔