جنوبی افریقہ سے سریز پر قبضے کے لئے اترے گی ہندستانی ٹیم

ہندوستانی کرکٹ ٹیم اپنی فتوحات کو برقرار رکھتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف ایم چناسوامي اسٹیڈیم میں تیسرے اور آخری ٹی-20 میچ میں فتح کے ساتھ سریز پر قبضے کے ارادے سے اترے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بنگلور: ہندوستانی کرکٹ ٹیم اپنی فتوحات کو برقرار رکھتے ہوئے جنوبی افریقہ کے خلاف ایم چناسوامي اسٹیڈیم میں تیسرے اور آخری ٹی-20 میچ میں فتح کے ساتھ سریز پر قبضے کے ارادے سے اترے گی۔

کپتان وراٹ کوہلی کی بھی کوشش رہے گی کہ وہ اپنے انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کے گھریلو میدان پر تجربہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہمان ٹیم کے خلاف جیت سے تین میچوں کی سیریز کو 2-0 سے اپنے نام کر لیں۔ وراٹ کی قیادت میں ہندستان نے اس سے پہلے ویسٹ انڈیز میں 3-0 سے ٹی -20 سریز جیتی تھی۔ دھرم شالہ میں پہلا میچ بارش سے منسوخ رہنے کے بعد ہندستان نے دوسرا میچ موہالی میں سات وکٹ سے جیتا تھا اور اب تیسرا میچ اس کے لیے اہم ہو گیا ہے، وہیں جنوبی افریقہ ٹیم کا خیال ہے کہ ہندستانی ٹیم مشکل ہے لیکن اسے شکست دی جا سکتی ہے اور اگلے میچ کو جیت وہ سریز کو برابری پر پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے میں میزبان ٹیم کو اس بار زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔

موہالی میں ہندستانی ٹیم کے تجربہ کار کھلاڑیوں شکھر دھون (40 رن) اور کپتان وراٹ (ناٹ آؤٹ 72 رن) کی اننگز سے ٹیم نے جیت یقینی کی تھی۔ اوپنر روہت شرما کے 12 رن پر سستے میں آؤٹ ہونے کے بعد دہلی کے ان دونوں بلے بازوں نے ٹیم کو سنبھالا۔ لیکن وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت اہم وقت پر چار رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ سریز شروع ہونے سے پہلے بھی کوچ روی شاستری پنت کے شاٹس انتخاب پر سوال اٹھا چکے ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ پنت اگلے اہم میچ میں کپتان کا بھروسہ جیت پاتے ہیں یا انتظامیہ انہیں باہر بٹھاتا ہے۔


ہندستانی ٹیم آسٹریلیا میں اگلے سال ہونے والے آئی سی سی ٹی -20 ورلڈ کپ کے پیش نظر اب اس فارمیٹ پر زیادہ توجہ لگا رہی ہے اور اسی سمت میں اپنی تیاریوں کے سبب ٹیم میں کئی نئے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے۔ گزشتہ میچ میں واشنگٹن سندر ، دیپک چاهر، نوديپ سینی کی گیند بازی تسلی بخش رہی تھی اور ان سے اور بہتر کارکردگی کی توقع رہے گی۔

تیز گیندبازوں دیپک اور نوديپ نے میچ میں بالترتیب دو اور ایک وکٹ نکالا تھا اور جسپريت بمراه اور بھونیشور کمار کی غیر موجودگی میں دونوں بولروں کی کارکردگی قابل ستائش رہی۔ وہیں باقاعدہ اسپنر يجویندر چہل اور چائنامین کلدیپ یادو کی غیر موجودگی میں سندر کی کارکردگی بھی تسلی بخش رہی جنہیں اسپن گیند بازی میں ایک ممکنہ اختیار مانا جا رہا ہے۔


ٹیم کی بلے بازی اگرچہ اب بھی وراٹ پر بڑی حد تک انحصار دکھ رہی ہے جو موہالی میں ٹاپ اسکورر تھے۔ روہت کے 12 رن پر آؤٹ ہونے کے بعد کپتان نے 52 گیندوں میں چار چوکے اور تین چھکے لگا کر ناٹ آؤٹ 72 رن کی شاندار نصف سنچری اننگز کھیلی تھی اور مین آف دی میچ بنے۔ جنوبی افریقہ کے كیگسو ربادا، ادلے فہلکوايو، ڈیون پرٹوريس جیسے بولروں کے سامنے روہت، وراٹ اور شکھر تینوں رن بنانے کے اہل ہیں جبکہ نچلے آرڈر پر شريس ایر اور ہردک پانڈیا اچھے اسکورر ہیں۔

اگر پنت اگلے میچ میں واپسی کر پاتے ہیں تو مڈل آرڈر کو کافی مضبوطی ملے گی اور ان تینوں تجربہ کار بلے بازوں پر رن بنانے کا دباؤ بھی کچھ کم ہوگا ۔ وہیں نچلے آرڈر پر لیفٹ آرم اسپنر آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ ٹیم کے مضبوط کھلاڑی ہیں۔ کپتان كوئنٹن ڈی کاک کی قیادت میں افریقی ٹیم بھی سیریز میں ہار ٹالنے کی پوری کوشش کرے گی۔ اس کے پاس ڈیوڈ ملر، ريزا هینڈركس اور خود کاک جیسے اچھے رنز اسکوررز ہیں جبکہ ربادا جیسے بولر موجود ہیں جو ہندستان کو دباؤ میں ڈال سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔