ہندوستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف فتح سے کیا یک روزہ سیریز کا آغاز، کوہلی بنے پلیئر آف دی میچ
نیوزی لینڈ نے ہندوستان کو جیت کے لیے 301 رنوں کا ہدف دیا تھا، جسے کوہلی کے 93، گل کے 56 اور شریئس کے 49 رنوں کی بدولت ہندوستانی ٹیم نے 6 وکٹ کے نقصان پر 49 اوور میں ہی حاصل کر لیا۔

ہندوستانی ٹیم نے نئے سال کا آغاز ایک بہترین جیت کے ساتھ کیا ہے۔ ودودرا کے نئے کوٹامبی اسٹیڈیم میں پہلی بار کھیل رہی ہندوستانی ٹیم نے اس شروعات کو یادگار بناتے ہوئے نیوزی لینڈ کو سیریز کے پہلے ہی میچ میں 4 وکٹ سے شکست دے دی۔ تقریباً 15 سال بعد ودودرا لوٹی ہندوستانی ٹیم نے ایک بار پھر وراٹ کوہلی کی شاندار بلے بازی کے دَم پر 301 رنوں کا ہدف حاصل کیا اور سیریز میں 0-1 کی سبقت حاصل کر لی۔ کوہلی اپنی سنچری بھلے ہی مکمل نہیں کر پائے، لیکن انھوں نے جیت کی بنیاد تیار کر دی۔ گیندبازی میں محمد سراج اور ہرشت رانا کی تعریف کرنی ہوگی، جنھوں نے بڑے اسکور کی طرف بڑھ رہی کیوی ٹیم کو اہم مواقع پر وکٹ کی شکل میں جھٹکا دے کر 300 رنوں تک روک دیا۔
نیوزی لینڈ نے اس میچ میں پہلے بلے بازی کی اور 50 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر 300 رنوں کا اسکور کھڑا کیا۔ اس کے لیے سلامی بلے بازوں ہنری نکلس نے 62 اور ڈیون کانوے نے 56 رنوں کی بہترین اننگ کھیلی۔ دونوں نے 21 اوورس میں 117 رنوں کی شراکت داری کرتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کو بیک فٹ پر ڈال دیا تھا۔ دونوں ہی اپنی نصف سنچری بھی مکمل کر چکے تھے، لیکن ہرشت رانا نے اس شراکت داری کو توڑا اور پھر ہندوستانی ٹیم نے میچ میں زبردست واپسی کی۔ دونوں سلامی بلے بازوں کے آؤٹ ہونے کے بعد صرف ڈیرل مشیل ایسے بلے باز تھے جو ہندوستانی گیندبازوں کا جم کر سامنا کرتے نظر آئے، بقیہ بلے باز کچھ خاص کارکردگی پیش نہیں کر سکے۔ مشیل نے 71 گیندوں پر 84 رنوں کی شاندار اننگ کھیلی۔ ہندوستان کے لیے ہرشت رانا، محمد سراج اور پرشدھ کرشنا نے 2-2 وکٹ حاصل کیے۔ ان تینوں ہی گیندبازوں میں سب سے اثردار محمد سراج رہے، جنھوں نے 8 اوورس میں محض 40 رن خرچ کیے۔
ہندوستانی ٹیم کی شروعات بھی اچھی تھی، لیکن روہت شرما نے جب رَنگ جمانا شروع کیا، تبھی جیمیسن کی ایک گیند نے انھیں پویلین بھیج دیا۔ روہت شرما نے 2 چھکوں اور 3 چوکوں کی مدد سے 26 رن بنائے۔ پہلا وکٹ گرنے کے بعد میدان پر اترے وراٹ کوہلی نے اترتے کے ساتھ ہی اپنا جارحانہ رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ شبھمن گل کچھ مشکل میں ضرور نظر آئے، لیکن کوہلی نے ان پر کوئی دباؤ نہیں بننے دیا۔ اس دوران کوہلی نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے 28 ہزار رن بھی مکمل کر لیے۔ گل جب 56 رنوں پر آؤٹ ہوئے تو کوہلی کے ساتھ ان کی 118 رنوں کی شراکت داری ہو چکی تھی۔
گل کے آؤٹ ہونے کے بعد کوہلی نے اپنی بلے بازی کا انداز بالکل بھی نہیں بدلا۔ لگاتار 7 ’لسٹ اے‘ اننگ میں نصف سنچری بنا چکے کوہلی نے شریئس ایر (49 رن) کے ساتھ اہم شراکت داری کر ٹیم کا اسکور 200 رن کے پار پہنچایا۔ جب کوہلی کی سنچری اور ہندوستانی ٹیم کی فتح یقینی نظر آنے لگی، تبھی کوہلی 93 رنوں پر جیمیسن کا شکار بن گئے۔ یہاں سے اچانک نیوزی لینڈ واپسی کرتی ہوئی نظر آئی، کیونکہ جیمیسن نے مزید 2 وکٹ جلدی جلدی گرا دیے۔ انھوں نے شریئس ایر اور رویندر جڈیجہ کو پویلین بھیج کر میچ میں دلچسپی لا دی۔ حالانکہ کے ایل راہل نے سمجھداری بھری اننگ کھیل کو ٹیم کی جیت کو یقینی بنا دیا۔ راہل نے 21 گیندوں پر ایک چھکا اور 2 چوکے کی مدد سے 29 رن بنائے۔ انھوں نے 49ویں اوور کی آخری 3 گیندوں پر 2 چوکے اور ایک چھکا لگا کر ٹیم کو جیت دلائی۔ اس جیت میں ہرشت رانا (23 گیندوں میں 29 رن) کے تعاون کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مشکل وقت میں انھوں نے کے ایل راہل کے ساتھ 37 رنوں کی شراکت داری کی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔