’ہندوستان نے کرکٹ کو ہی ختم کر دیا‘، سوریہ بریگیڈ کے عالمی چمپئن بننے پر شعیب اختر نے ایسا کیوں کہا؟

شعیب اختر نے ایک پروگرام میں کہا کہ ’’محلہ میں ایک امیر بچہ ہوتا ہے اور وہ سب غریب بچوں کو بلا لیتا ہے۔ آؤ کرکٹ کھیلیں... جیتنا تو صرف میں نے ہی ہے۔ کچھ ایسا ہی ہندوستان ہمارے ساتھ کر رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>شعیب اختر / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سوریہ کمار کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم نے ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کے فائنل مقابلہ میں نیوزی لینڈ کو یکطرفہ مقابلہ میں 96 رنوں سے شکست دے دی۔ ہندوستان کی اس جیت پر پاکستان میں بھی خوشی منائی جا رہی ہے، لیکن کچھ خوشیوں میں ماتم کا احساس بھی دکھائی دے رہا ہے۔ خاص طور سے کئی سابق پاکستانی کرکٹر ہندوستان کو جیت کی مبارکباد تو دے رہے ہیں، لیکن ہندوستانی ٹیم کی بالادستی پر مایوسی چہرے پر جھلک رہی ہے۔

پاکستان کے سابق تیز گیندباز شعیب اختر نے تو ہندوستان کی فتح پر کچھ ایسا بیان دے دیا ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہا ہے۔ شعیب اختر نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیم کسی محلہ کے اس امیر بچے کی طرح ہے، جو غریب بچوں کے ساتھ بس انھیں شکست دینے کے لیے کھیلتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، شعیب اختر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے کرکٹ کو ہی ختم کر دیا ہے۔


دراصل شعیب اختر ایک ٹی وی پروگرام میں کچھ کرکٹ ماہرین کے ساتھ اپنا نظریہ سامنے رکھ رہے تھے۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’محلہ میں ایک امیر بچہ ہوتا ہے، اور وہ سب غریب بچوں کو بلا لیتا ہے۔ کہتا ہے آؤ کرکٹ کھیلیں... جیتنا تو صرف میں نے ہی ہے۔ کچھ ایسا ہی ہندوستان ہمارے ساتھ کر رہا ہے۔ انھوں نے پوری کرکٹ ہی ختم کر دی ہے۔‘‘ اس بیان کے ذریعہ انھوں نے ظاہر کیا کہ ہندوستانی ٹیم اس وقت اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ یکطرفہ انداز میں اپنی مخالف ٹیموں کو شکست دے رہی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہندوستانی ٹیم کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔

ہندوستانی ٹیم کے عالمی چمپئن بننے پر مشہور سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات ظاہر کیے۔ انھوں نے عالمی چمپئن بننے پر ہندوستانی ٹیم کو سلام پیش کیا اور کہا کہ اس فتح کی وجہ بہترین کمبینیشن اور بنچ اسٹرینتھ ہے۔ شاہد کہتے ہیں کہ ’’ٹی-20 عالمی کپ ختم ہو گیا، ہندوستان چمپئن بننا ڈیزرو کرتا تھا۔ بہت ہی بہترین ٹیم کمبینیشن تھا۔ جو لڑکے بنچ پر بیٹھے تھے، وہ بھی اتنے ہی اچھے تھے۔ پورے ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ٹیم چمپئن کی طرح کھیلی۔‘‘ انھوں نے سنجو سیمسن کی خاص طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’سیمسن کی بات کروں تو انھیں سلامی بلے باز کے طور پر موقع ملا، اور انھوں نے خود کو ثابت کیا۔ دماغ سے شاٹ لگائے اور اپنی اننگ کو وسعت دی۔‘‘ فائنل مقابلہ میں ابھشیک شرما اور ایشان کشن کی اننگز کی بھی انھوں نے تعریف کی۔ جسپریت بمراہ کے تعلق سے شاہد آفریدی نے کہا کہ ’’بیک بون (ریڑھ کی ہڈی) بمراہ ہی تھے۔ کافی وقت سے ہندوستانی ٹیم کو لے کر چل رہے ہیں۔ نئی گیند، پرانی گیند، یارکر... وہ اس وقت کا بہترین گیندباز ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔