کرکٹ عالمی کپ: ہندوستان کی شکست کئی لوگوں کے منھ پر زوردار طمانچہ

ہندوستان تین گیند پہلے ہی میچ ہار گیا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال سوشل میڈیا پر لوگ ایسے پوچھ رہے ہیں جیسے جواب جان کر ذمہ دار شخص کو سزا دیں گے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

تنویر احمد

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا پہلا سیمی فائنل میچ دلچسپ موڑ میں داخل ہو گیا تھا، لیکن 50ویں اوور کی تیسری گیند پر دھونی کا رَن آؤٹ ہونا نہ صرف ہندوستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ عالمی کپ کا خواب دیکھ رہے ہندوستانیوں کو زبردست جھٹکا دے گیا بلکہ کئی لوگوں کے منھ پر زوردار طمانچہ بھی رسید کر گیا۔ جی ہاں، انگلینڈ میں مانچسٹر کے اولڈ ٹریفرڈ میدان پر جو کچھ ہو رہا تھا اس سے ہندوستانی کرکٹ شیدائی غمگین تھے ہی، جو کچھ سوشل میڈیا پر چل رہا تھا وہ بھی ’اسپورٹس اسپرٹ‘ (کھیل کا جذبہ) کے لیے زہر ہلاہل سے کم نہیں تھا۔

ہندوستان تین گیند پہلے ہی میچ ہار گیا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال سوشل میڈیا پر لوگ ایسے پوچھ رہے ہیں جیسے جواب جان کر ذمہ دار شخص کو سزا دی جائے گی۔ جواب بھی لوگ عجیب عجیب دے رہے ہیں۔ سب سے دلچسپ تو وہ جواب ہے جس میں لوگ ’جواہر لال نہرو‘ کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ لوگ ہندوستان کی شکست کا اسی طرح مذاق اڑائیں گے ہی جب کھیل میں بھی سیاست کو داخل کیا جائے گا، یا پھر سیاستداں کھیل کے نتائج پر بھی اپنی سیاسی روٹی سینکنا شروع کر دیں گے۔

یاد کیجیے 16 جون کا دن جب ہندوستان اور پاکستان کا میچ چل رہا تھا۔ ہندوستانی ٹیم نے ایک بار پھر عالمی کپ میں پاکستان کو تاریخی شکست دی تھی۔ اس پر ہندوستان کے مرکزی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سابق قومی صدر امت شاہ نے جو ٹوئٹ کیا تھا، آپ کو یاد ہے؟ انھوں نے لکھا تھا ’’ٹیم انڈیا کا پاکستان پر ایک اور اسٹرائیک اور پھر وہی نتیجہ۔‘‘ اس ٹوئٹ میں موجود طنز اور سیاست کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ یہ بیان صرف ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کو یاد دلانے کے لیے تھا۔ اور پھر ایسے لوگوں کی تو کمی نہیں نظر آئی جو ہندوستانی ٹیم میں بھی ’مودی کا جادو‘ دیکھ رہے تھے۔ نیوزی لینڈ سے ہندوستان کی شکست ایسے سبھی لوگوں کے منھ پر زوردار طمانچہ ہے جو کھیل میں ’سیاست‘ کو دخیل کر رہے تھے۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کچھ لوگ اس بار ہندوستان کو عالمی کپ فاتح پہلے سے ہی تصور کر رہے تھے اور اس کی وجہ ہندوستان کی مضبوط ٹیم نہیں تھی بلکہ وہ پورے ٹورنامنٹ کو ’فکس‘ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فکسنگ بھی اس وجہ سے کہ پی ایم مودی اور امت شاہ عالمی کپ (اور فاتح ہندوستانی ٹیم) کے ساتھ تصویر کھنچوا سکیں۔ ہندوستان کی شکست ان کے منھ پر بھی طمانچہ ہی ہے۔

ہندوستان کی شکست کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ’سیاسی پوسٹ‘ خوب وائرل ہو رہی ہے۔ پوسٹ کافی دلچسپ ہے کیونکہ اس میں ’کانگریس حکومت‘ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اور ’بی جے پی حکومت‘ میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا موازنہ کیا گیا ہے۔ کانگریس کے دور میں 1983 عالمی کپ، 2007 ٹی-20 عالمی کپ، 2011 عالمی کپ اور 2013 میں چمپئنز ٹرافی جیتنے کی بات اور بی جے پی کے دور میں 2014 ٹی-20 عالمی کپ کے فائنل میں شکست، 2015 عالمی کپ کے سیمی فائنل میں شکست، 2016 ٹی-20 عالمی کپ کے سیمی فائنل میں شکست، 2017 چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست اور 2019 عالمی کپ کے سیمی فائنل میں شکست کی بات لکھی گئی ہے۔

حیرت ہے کہ لوگ کھیل کو اس طرح بھی سیاست سے جوڑ سکتے ہیں۔ کوئی بالکل ’مودی میجک‘ میں ڈوبا جا رہا ہے تو کوئی بی جے پی کو بے عزت کرنے کا کوئی موقع چھوڑنا نہیں چاہتا۔ مضحکہ خیز تو یہ ہے کہ ایسے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ لوگ لکھتے ہیں کہ ’’کانگریس کے 70 سال کا مقابلہ بی جے پی کے 10 سے بھی کم سال سے کرنا مناسب نہیں۔‘‘

یہ سب دیکھ سن کر کسی کو برا لگے یا نہ لگے، ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کو تکلیف ضرور ہوتی ہوگی۔ عالمی کپ میں روہت شرما اور وراٹ کوہلی کی ریکارڈ ساز بلے بازی کسی ’مودی میجک‘ یا ’فکسنگ‘ کا نتیجہ نہیں تھی، اور نہ ہی بمراہ، شامی اور بھونیشور کی بہترین گیندبازی بی جے پی یا اس کے لیڈروں کی کسی کوشش کا سبب تھی۔ یہ ان ہندوستانی کھلاڑیوں کی محنت تھی اور کروڑوں ہندوستانی کرکٹ شیدائیوں کی دعاؤں کا اثر تھا کہ وہ سیمی فائنل تک کا سفر شاہانہ انداز میں پورا کر سکے۔ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے گیندبازوں نے اچھی پچ کا بہترین فائدہ اٹھایا اور پھر یہ کسی کو نہیں بھولنا چاہیے کہ 6 وکٹ جلدی جلدی گرنے کے باوجود ہندوستانی ٹیم جیت کے بہت قریب پہنچ گئی تھی۔ ٹیم نے یقیناً ایک چمپئن کی طرح کھیلا اور اس کے لیے تعریف کی جانی چاہیے۔ ویسے بھی لیگ میچ کے بعد پوائنٹ ٹیبل میں ہندوستان نمبر وَن پوزیشن پر تھا اور یہ کسی کو بھولنا نہیں چاہیے۔

Published: 11 Jul 2019, 7:10 PM