رنوں کی ریکارڈ بارش کے درمیان ہندوستان نے انگلینڈ کو 7 رنوں سے دی شکست، فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہوگا مقابلہ

ہندوستان نے 20 اوورس میں 7 وکٹ کے نقصان پر 253 رنوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ مقابلہ سانسیں روکنے والا ثابت ہوگا۔ انگلینڈ یہ میچ محض 7 رنوں سے ہارا۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/BCCI">@BCCI</a></p></div>
i
user

تنویر

ہندوستانی ٹیم نے ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ کے دوسرے سیمی فائنل مقابلہ میں انگلینڈ کو شکست دے کر فائنل میں انٹری حاصل کر لی ہے، جو کہ 8 مارچ کو احمد آباد واقع نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ لیکن انگلینڈ پر یہ جیت آسان نہیں رہی، کیونکہ 253 رنوں کا پہاڑ کھڑا کرنے کے باوجود ہندوستان کو محض 7 رنوں سے فتح ملی۔ ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں رنوں کی آج ایسی بارش ہوئی، جس نے کئی ریکارڈ توڑ ڈالے اور سبھی کو حیران و ششدر کر دیا۔

آج ٹاس انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے جیتا تھا اور پہلے گیندبازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے سے ہی اندازہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پچ رنوں سے بھرپور ہے، اسی لیے انگلینڈ نے رنوں کا پیچھا کرنے کو ترجیح دی۔ سوریہ کمار کی قیادت والی ہندوستانی ٹیم کو اس سے کوئی فرق نہیں، پڑا کیونکہ پہلے ہی اوور سے سلامی بلے بازوں سنجو سیمسن اور ابھشیک شرما نے اپنی ارادہ ظاہر کر دیا تھا۔ حالانکہ ابھشیک (9 رن) ایک بار پھر 2 شاندار چوکا لگا کر جلد ہی پویلین لوٹ گئے، لیکن ایشان کشن (18 گیندوں پر 39 رن) نے آتے ہی تیزی سے رن بٹورنا شروع کر دیا۔ ان کے بعد شیوم دوبے میدان پر آئے جنھوں نے انگلش اسپن گیندبازوں کی بخیا ادھیڑی۔ سنجو-دوبے کی شراکت داری تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی، لیکن سنجو 42 گیندوں پر 89 رنوں کی شاندار اننگ کھیل کر وِل جیکس کا شکار بن گئے۔ سنجو کو ان کی بہترین اننگ کے لیے پلیئر آف دی میچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔


سنجو جب آؤٹ ہوئے تو ہندوستان کا اسکور 13.1 اوورس میں 3 وکٹ کے نقصان پر 160 رن تھا۔ یہاں سے دوبے اور کپتان سوریہ کمار یادو نے ذمہ داری سنبھالی، لیکن سوریہ 6 گیندوں پر 11 رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ پھر ہاردک پانڈیا کا طوفان آیا، لیکن غلط کالنگ کی وجہ سے دوبے رَن آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 25 گیندوں پر 43 رن بنائے۔ تلک ورما نے تو محض 7 گیندوں پر 21 رنوں کی طوفانی اننگ کھیلی۔ ہندوستان کی طرف سے آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز پانڈیا رہے، جنھوں نے 12 گیندوں پر 27 رن بنائے۔

انگلینڈ کی طرف سے کوئی بھی گیندباز ایسا نہیں رہا، جس نے 10 رَن فی اوور سے کم کی شرح سے رَن دیے ہوں۔ وِل جیکس نے 4 اوورس میں 40 رن دے کر 2 وکٹ، عادل رشید نے 4 اوورس میں 41 رن دے کر 2 وکٹ اور جوفرا آرچر نے 4 اوورس میں 61 رن دے کر ایک وکٹ لیے۔ بقیہ گیندباز وکٹ سے محروم رہے۔ جیمی اوورٹن نے 3 اوورس میں 36 رن، سیم کرن نے 4 اوورس میں 53 رن اور لیام ڈاوسن نے 1 اوور میں 19 رن دیے۔ سبھی گیندبازوں نے مل کر 12 ایکسٹرا رن بھی دیے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی ٹیم 20 اوورس میں 7 وکٹ کے نقصان پر 253 رن بنانے میں کامیاب ہو گئی۔


رنوں کے اس پہاڑ کو دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہندوستانی ٹیم بہ آسانی میچ جیت لے گی۔ لیکن انگلش بلے بازوں نے کچھ الگ ہی ارادہ کر میدان میں قدم رکھا۔ فل سالٹ (5 رن) کو پانڈیا نے اپنے پہلے اوور کی پہلی گیند پر ضرور پویلین بھیج دیا، اور بمراہ نے کپتان ہیری بروک (7 رن) کو بھی سستے میں آؤٹ کر دیا، لیکن آنے والے بلے بازوں نے رنوں کی رفتار میں کسی طرح کی کمی نہیں ہونے دی۔ جوس بٹلر 17 گیندوں پر 25 رن، ٹام بینٹن 5 گیندوں پر 17 رن، وِل جیکس 20 گیندوں پر 35 رن اور سیم کرن 14 گیندوں پر 18 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ایک طرف یہ کھلاڑی تھوڑے تھوڑے رن بنا کر آؤٹ ہو رہے تھے، اور دوسری طرف جیکب بیتھل نام کا طوفان ہندوستانی گیندبازوں کی بخیا ادھیڑ رہا تھا۔ تن تنہا اس نے یکطرفہ نظر آ رہے اس میچ کو سخت مقابلہ والا اور سانسیں روک دینے والا بنا دیا۔

آخر کے 3 اوورس میں جب انگلینڈ کو جیت کے لیے 45 رنوں کی ضرورت تھی، تو اٹھارہواں اوور جسپریت بمراہ نے پھینکا، جس میں محض 6 رن آئے۔ اس کے بعد انیسویں اوور میں ہاردک پانڈیا نے سیم کرن کا وکٹ بھی لیا اور محض 9 رن دیے۔ اس طرح آخری اوور میں جیت کے لیے 30 رنوں کی ضرورت تھی۔ شیوم دوبے نے یہ آخری اوور پھینکا، جس کی پہلی ہی گیند پر جیکب بیتھیل 2 رن لینے کی کوشش میں رَن آؤٹ ہو گئے۔ یہاں بیتھیل کی 48 گیندوں پر 105 رنوں والی میراتھن اننگ ختم ہوئی، اور ایک طرح سے جیت بھی ہندوستان کی جھولی میں آ گیا۔ آخری اوور میں دوبے نے 22 رن ضرور دے دیے، لیکن ہندوستانی ٹیم نے فائنل میں جگہ بنا لی۔ انگلینڈ 20 اوورس میں 7 وکٹ کے نقصان پر 246 رن ہی بنا سکی۔


ہندوستان کی جانب سے گیندبازوں میں جسپریت بمراہ کی تعریف کرنی ہوگی، جنھوں نے رنوں سے بھرپور اس میدان میں 4 اوور میں 33 رن دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ ہاردک پانڈیا نے بھی 4 اوورس میں 38 رن ہی دیے اور 2 کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔ 1-1 وکٹ عرشدیپ سنگھ، ورون چکرورتی اور اکشر پٹیل کو بھی ملے، لیکن یہ سبھی مہنگے ثابت ہوئے۔ شیوم دوبے نے تو ایک ہی اوور میں 22 رن خرچ کر دیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔