ہندوستان نے بنگلہ دیش کو اننگز اور 130 رن سے شکست دی

ہندوستان کی جانب سے تیز گیند بازوں کا ایک بار پھر دبدبہ رہا اور هولكر کی اچھال بھری پچ کا انہوں بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سمیع نے گھریلو ٹیسٹ میں اپنی تیسری بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اندور: تیز گیند باز محمد سمیع (31 رن پر 4 وکٹ) اور آف اسپنر روی چندرن اشون (42 رن پر تین وکٹ) کی بہترین گیند بازی کی بدولت ہندوستان نے بنگلہ دیش کو پہلے کرکٹ ٹسٹ کے تیسرے ہی دن اننگز اور 130 رنوں سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز میں 1۔0 کی برتری حاصل کرلی۔ ہندوستان نے اپنی پہلی اننگز تیسرے دن کھیل کے آغاز سے قبل کل کے چھ وکٹ پر 493 رن پر اعلان کر دی۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز کے مقابلے دوسری اننگز میں کچھ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن پوری ٹیم دن کے آخری سیشن میں 69.2 اوور میں 213 رن پر سمٹ گئی۔ ہندوستان نے اس طرح یہ مقابلہ اننگز اور 130 رن سے جیت لیا۔

ہندوستان کی جیت میں اس کے گیند بازوں کا اہم تعاون رہا۔ سمیع نے 31 رن پر چار وکٹ لے کر میچ میں سات وکٹ مکمل کیے۔ اشون نے 42 رن پر تین وکٹ لے کر میچ میں پانچ وکٹ حاصل کیے۔ امیش یادو نے 51 رن پر دو وکٹ لے کر میچ میں چار وکٹ حاصل ہوئے جبکہ ایشانت شرما کو 31 رن پر ایک وکٹ ملا۔ بنگلہ دیش کی دوسری اننگز میں مشفق الرحیم نے یک طرفہ جدوجہد کرتے ہوئے 150 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے 64 رن بنائے جبکہ لٹّن داس نے 35 اور مہدی حسن نے 38 رن بنائے۔ مہمان ٹیم اپنے پہلے پانچ وکٹ 72 رن پر گنوانے کے بعد گھٹنے ٹیک بیٹھی اور تیسرے ہی دن اس کا بوریا بستر بندھ گیا۔

ہندوستان کو اس میچ کو جیتنے سے 60 پوائنٹس حاصل ہوئے اور اب اس کے آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 300 پوائنٹس پورے ہو گئے ہیں۔ دنیا کی نمبر ایک ٹیم ہندوستان پہلی ایسی ٹیم ہے جس نے ٹیسٹ چیمپئن شپ میں 300 پوائنٹس مکمل کرلئے ہیں۔

یہ اس طرح کا مسلسل تیسرا ٹیسٹ ہے جس میں ہندوستان نے اننگز سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ہندوستان نے اس سے پہلے جنوبی افریقہ کو رانچی میں اننگز اور 202 رنوں سے اور اسی ٹیم کو پونے میں اننگز اور 137 رن سے شکست دی تھی۔ اس سے قبل ہندوستان نے 1993۔94 کے سیشن میں سری لنکا کے خلاف مسلسل تین میچ اننگز کے فرق سے جیتے تھے۔ اس سے قبل ہندوستان نے 1992۔93 میں انگلینڈ کو دو بار اننگز اور زمبابوے کو اننگز سے شکست دے کر مسلسل تین میچ، اننگز کے فرق سے جیتے تھے۔

اس جیت کے ساتھ وراٹ کوہلی نےمہندر سنگھ دھونی کا سب سے زیادہ نو میچ، اننگز کے فرق سے جیتنے کا ریکارڈ توڑ دیا۔ وراٹ اپنی کپتانی میں اب 10 میچ، اننگز کے فرق سے جیت چکے ہیں۔ دھونی نے نو میچ، محمد اظہرالدین نے آٹھ میچ اور سورو گنگولی نے سات میچ اننگز کے فرق سے جیتے تھے۔ ہندوستان کی یہ مسلسل چھٹی کامیابی ہے۔ اس سے قبل ہندوستان نے 2013 میں دھونی کی کپتانی میں مسلسل چھ ٹیسٹ جیتے تھے جس میں چار آسٹریلیا اور دو ویسٹ انڈیز کے خلاف تھے۔ دوسری جانب غیر ملکی زمین پر بنگلہ دیش کی خراب کارکردگی جاری ہے اور غیر ملکی زمین پر گزشتہ چھ ٹسٹ میچوں میں یہ اس کی اننگز سے پانچویں شکست ہے۔

یہاں هولكر اسٹیڈیم میں ٹیم انڈیا کے حملے کے سامنے بنگلہ دیشی ٹیم دوسری اننگز میں بھی سنبھل نہیں پائی اور لنچ تک اس نے صرف 60 رن پر اپنے چار ابتدائی وکٹ گنوا دیئے۔ بنگلہ دیش نے چائے کے وقفہ تک چھ وکٹ گنوائے اور آخری سیشن میں اس نے باقی چار وکٹ کھو دیئے۔ ہندوستان نے اوپنر مینک اگروال کی 243 رن کی دوہری سنچری کی بدولت پہلی اننگز میں 114 اوور میں چھ وکٹ پر 493 رن بنائے تھے اور تیسرے دن کا کھیل شروع ہونے سے قبل ہی اپنی اننگز کا اعلان کر دیا، جس سے ہندوستان کی پہلی اننگز کی بنیاد پر مجموعی برتری 343 رن پہنچ گئی۔ میدان پر دوسری اننگز کے لئے اتری بنگلہ دیشی ٹیم کی ایک بار پھرشروعات کافی خراب رہی اور اس ٹاپ آرڈر کے بلے باز سستے میں نمٹ گئے۔

تیز گیند باز امیش یادو نے امرألقیس (6) کو بولڈ کرکے ہندوستان کو چھٹے اوور کی پہلی گیند پر ہی پہلا وکٹ دلا دیا۔ ایشانت شرما نے پھر دوسرے اوپننگ بلے باز شادمان اسلام کو بولڈ کیا جو 6 رن پر ہی بنا سکے تھے۔ کپتان مومن الحق نے 20 گیندوں میں ایک چوکا لگا کر سات رن بنائے ہی تھے کہ محمد سمیع نے انہیں ایل بی ڈبلیو کرکے 37 رن پر بنگلہ دیش کے تین وکٹ لئے لئے۔ لنچ سے پہلے سمیع نے ایک اور کامیابی محمد متھن کے طور پر دلائی جنہوں نے 26 گیندوں میں چار چوکے لگا کر 18 رن بنائے۔ سمیع نے مینک کے ہاتھوں متھن کو کیچ کرایا۔ بنگلہ دیشی ٹیم کے نچلے آرڈر کے بلے بازوں نے اگرچہ ٹکنے کا جذبہ دکھایا اور مشفق الرحیم نے 150 گیندوں میں سات چوکوں کی مدد سے 64 رن کی اننگز کھیلی۔

مشفق نے لٹن کے ساتھ چھٹے وکٹ کے لئے 63 رن اور مہدی حسن کے ساتھ ساتویں وکٹ کے لیے 59 رنوں کی نصف سنچری شراکت داری سے اپنی ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ اشون نے مشفق کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو نواں وکٹ دلایا۔ ان سے پہلے محمدالله نے 35 گیندوں میں دو چوکے لگا کر صرف 15 رنوں کا اضافہ کیا اور لنچ کے بعد سمیع نے انہیں اپنا تیسرا شکار بنایا۔ لٹن داس اگرچہ کچھ دیر ٹک کر کھیلتے رہے اور 39 گیندوں میں چھ چوکے لگا کر انہوں نے 35 رن بنائے ہی تھےکہ آف اسپنر روی چندرن اشون نے اپنی گیند پر انہیں کیچ کرتے ہوئے چھٹے بلے باز کے طور پر انہیں پویلین روانہ کردیا۔

چائے کے وقفہ تک بنگلہ دیش نے 191 رن پر اپنے چھ وکٹ گنوا دیئے تھے۔ مہدی حسن میراج چائے کے فوراً بعد امیش کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ انہوں نے 55 گیندوں کی اننگز میں پانچ چوکے اور ایک چھکا لگا کر 38 رن بنائے۔ اشون نے آخری دو وکٹ لے کر بنگلہ دیش کو 213 رن پر سمیٹ دیا۔ ہندوستان کی پہلی اننگز میں 243 رن بنانے والے مینک کو مین آف دی میچ منتخب کیا گیا۔ مینک چھٹے ایسے بلے باز بن گئے جن کا ذاتی اسکور ہی دونوں اننگز میں مخالف ٹیم پر بھاری پڑا۔ بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 150 اور دوسری اننگز میں 213 رن بنائے۔ اس مخصوص زمرے میں وینو مانكڈ، راہل دراوڑ، سچن تندولکر، وراٹ کوہلی اور روہت شرما شامل ہیں۔

ہندوستان کی جانب سے تیز گیند بازوں کا ایک بار پھر دبدبہ رہا اور هولكر کی اچھال بھری پچ کا انہوں بھرپور فائدہ اٹھایا۔ سمیع نے گھریلو ٹیسٹ میں اپنی تیسری بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے کولکاتا میں ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میں 2013۔14 میں 47 رن پر پانچ وکٹ اور 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ویزاگ میں 35 رن پر پانچ وکٹ لئے تھے۔