بابر اعظم کی جگہ وراٹ کھیل ہوتے تو ہر کوئی ان کی کارکردگی کی بات کرتا: ناصر حسین

ناصر حسین نے پاکستان۔انگلینڈ کے مابین مانچسٹر ٹسٹ میں کمنٹری کے دوران کہا کہ بابر اعظم کو اتنی تعریف نہیں مل رہی ہے جس کے وہ حقدار ہیں اگر وراٹ کوہلی ہوتے تو ہر کوئی ان کی بات کرتا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

مانچسٹر: انگلینڈ کے سابق کپتان اور کمنٹیٹر ناصر حسین کا خیال ہے کہ پاکستانی بلے باز بابر اعظم میں وراٹ کوہلی اور اسٹیو اسمتھ جتنی صلاحیت ہے لیکن بابر کو وہ توجہ نہیں ملتی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ ‏سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے بابراعظم کو ورلڈ کلاس بیٹسمین قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ بابر وائٹ بال ہی نہیں ریڈ بال کرکٹ میں بھی ورلڈ کلاس ہیں۔

ناصر حسین نے پاکستان۔انگلینڈ کے مابین مانچسٹر ٹسٹ میں کمنٹری کے دوران کہا کہ بابر اعظم کو اتنی تعریف نہیں مل رہی ہے جس کے وہ حقدار ہیں اگر وراٹ کوہلی ہوتے تو ہر کوئی ان کی بات کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابر کی جگہ کوہلی کھیل رہے ہوتے تو ہر کوئی ان کی کارکردگی کی بات کررہا ہوتا۔ وہ نوجوان ہیں ہر کوئی فیب فور (وراٹ کوہلی، اسٹیو اسمتھ، کین ولیمسن اور جوروٹ) کے بارے میں باتیں کرتا ہے ۔ یہاں فیب فائیو ہیں اور بابر اعظم اس کا حصہ لیں۔ ان کا ٹسٹ اوسط 68 اور وہائٹ بال کرکٹ میں 55 ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے دور کرکٹ کھیلنے کے نتیجہ میں اعظم کو اتنی توجہ نہیں مل رہی ہے۔ پاک ٹیم زیادہ تر مقابلے یو اے ای میں کھیل رہی ہے جہاں اس بلے باز کو کوئی نہیں دیکھ رہا۔ پاکستانی کھلاڑی آئی پی ایل نہیں کھیل رہے ہیں اور نہ ہی ہندوستان کے خلاف کرکٹ۔ سوئنگ کے بادشاہ پاکستان کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ بابر اعظم نے بیٹسمین کی حیثیت سے خود کو بہت بہتر ثابت کیا ہے اور وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

سابق تیز گیند باز نے مزید کہا کہ بابر اعظم کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ کچھ برسوں میں ان کا اوسط 65 سے زیادہ کا رہا ہے۔ بابراعظم پرُاعتماد ہے، وہ کبھی اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوتے اور یہی عظیم کھلاڑی کی نشانی ہوتی ہے۔

بابر نے اس سال 200 سے زائد کی اوسط سے رن بنائے ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف مانچسٹر ٹسٹ کے پہلے دن بابر نے اپنی 14ویں نصف سنچری کو مکمل کیا اور وہ 69 رن پر ناٹ آوٹ رہے۔ اس پاکستانی بیٹسمین کا ٹیسٹ کرکٹ میں 2018 کے بعد سب سے زیادہ اوسط ہے۔ اعظم اگست 2018 سے لے کر اب تک 14 ٹیسٹوں میں 68.57 کی اوسط سے 1303 رنز بنا چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 5 سنچریاں بنائیں۔ اعظم نے 2020 میں دو ٹیسٹ کھیلے ہیں اور 212 رنز بنائے ہیں۔ وہ اب تک 26 ٹیسٹوں میں 45.12 کی اوسط سے 1850 رنز بنا چکے ہیں۔

اگر پچھلے 2 سالوں میں ٹیسٹ میں ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی کے ریکارڈ کو دیکھیں تو انھوں نے 19 ٹیسٹ میچوں میں 51.24 کی اوسط سے 1486 رنز بنائے ہیں۔ ہندوستانی کپتان نے 2 سال میں 5 سنچریاں بھی بنائیں۔ اس سال کے بارے میں بات کریں تو انہوں نے 2 ٹیسٹ میں 19 کی اوسط سے صرف 38 رنز بنائے۔

کوہلی نے 86 ٹیسٹوں میں 53.62 کی اوسط سے 7240 رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے ٹیسٹ میں 27 سنچریاں بنائی ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی آسٹریلیائی بلے باز اسٹیو اسمتھ نے پچھلے 2 سالوں میں 9 ٹیسٹ میں 73.42 کی اوسط سے 1028 رنز بنائے ہیں۔ اس دوران انہوں نے 3 سنچریاں بنائیں۔ اعظم نے اب تک آئی سی سی ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں 684 رنز بنائے ہیں۔ ان کا اوسط 114 ہے۔ وہ واحد بلے باز ہیں جس کا ٹیسٹ چیمپین شپ میں 100 سے زیادہ کا اوسط ہے۔ کوہلی نے اب تک 52.25 اور اسمتھ نے 73.42 کی اوسطا سے رن بنائے ہیں۔

next