عالمی کپ فائنل: یہ نیوزی لینڈ کی جیت ہے، یہ کرائسٹ چرچ کی جیت ہے...

مشہور و معروف امپائر سائمن ٹفل کا ایک بیان خوب سرخیوں میں ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ امپائروں کے غلط ججمنٹ کی وجہ سے اوور تھرو کے 5 رن کی جگہ انگلینڈ کو 6 رن دے دیئے گئے۔ یہ ایک رن کافی اہم تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر احمد

کرکٹ عالمی کپ 2019 کے فائنل میچ کو لوگ ’پیسہ وصول‘ میچ قرار دے رہے ہیں۔ یقیناً میچ دلچسپ مراحل میں داخل ہو کر آخر میں نیوزی لینڈ خیمے کو مایوس کر گیا، لیکن اگر باریکی سے دیکھا جائے تو یہ جیت نیوزی لینڈ کی ہے، یہ جیت کرائسٹ چرچ کی ہے۔ جی ہاں! بھلے ہی انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا گیا ہو، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انگلینڈ کے سر فتح کا سہرا باندھنے والے کھلاڑی بین اسٹوکس کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے، ان کی جائے پیدائش کرائسٹ چرچ ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ انگلینڈ ٹیم میں شامل بیشتر کھلاڑی کی جائے پیدائش انگلینڈ نہیں ہے، لیکن وہ لارڈس کے میدان میں انگلینڈ کے لیے کھیل رہے تھے۔ یہ دیکھنا واقعی دلچسپ تھا کہ انگلینڈ میچ میں شکست کی جانب گامزن تھی اور تاریخ رقم کرنے کا ارادہ رکھنے والی کین ولیمسن کی ٹیم یعنی نیوزی لینڈ کو اسی کے ملک میں پیدا ہوئے بین اسٹوکس نے زبردست جھٹکا دیا۔ پہلے تو اسٹوکس نے 98 گیند پر ناٹ آؤٹ 84 رن بنا کر میچ کو ٹائی کرا دیا، اور پھر سُپر اوور میں بھی 3 گیندوں پر 8 رن بنا ڈالے۔ وہ مین آف دی میچ بھی ہوئے اور انگلینڈ کے ’ہیرو‘ بھی بن گئے۔ لیکن نیوزی لینڈ کے لیے یہ سب کچھ صدمۂ عظیم ہی کہا جائے گا۔

اس صدمۂ عظیم کو نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن بھلے ہی بہت خلوص کے ساتھ برداشت کر گئے، لیکن ان کی ٹیم کے اراکین کو یہ یقین نہیں ہو رہا تھا کہ وہ میچ ہار گئے ہیں۔ حیران تو کرکٹ کے کروڑوں شائقین بھی ہیں، کیونکہ نیوزی لینڈ ٹیم بھلے ہی تھوڑی کمزور ہو لیکن ٹیم اسپرٹ اور کھلاڑیوں کے شائستہ رویہ نے سبھی کو متاثر کیا تھا۔ خصوصاً کین ولیمسن ہمیشہ پرسکون نظر آئے چاہے میدان پر ماحول کتنا بھی گرم اور ٹینشن پیدا کرنے والا کیوں نہ ہو۔ سُپر اوور میں نیوزی لینڈ کی طرف سے چھکّا مار کر انگلینڈ پر تھوڑی دیر کے لیے سکتہ طاری کر دینے والے جمی نیشم تو اس شکست سے اتنا غمزدہ ہیں کہ انھوں نے بچوں سے یہ اپیل کر ڈالی ہے کہ وہ اس کھیل کو اپنی پسند نہ بنائیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’آپ بیکنگ یا کسی اور چیز کا انتخاب کر لیں، لیکن اس کھیل کو نہ چنیں۔ آپ خوب کھائیں اور 60 سال کی عمر میں موٹے اور خوش ہو کر اس دنیا کو الوداع کہیں۔‘‘

ابھی تو عالمی کپ فائنل میچ ختم ہوئے ایک ہی دن ہوا ہے، ابھی تو نیوزی لینڈ کی شکست کا افسوس کئی کھلاڑی کریں گے۔ لیکن یہ اعتراف کرنا واقعی مشکل ہے کہ نیوزی لینڈ کی شکست ہوئی ہے۔ پورے فائنل میچ کو باریکی سے دیکھنے والے یہ جانتے ہیں کہ انگلینڈ کی جیت کا جشن جتنے لوگ منا رہے ہیں، اس سے کہیں زیادہ لوگ نیوزی لینڈ کی شکست سے مایوس ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات انگلینڈ کو جیت دلانے کے لیے لارڈس کے میدان پر اتر گئی تھی۔ ٹرینٹ بولٹ کے ذریعہ بین اسٹوکس کا کیچ لے کر باؤنڈری لائن کو چھو جانے کا واقعہ ہو یا پھر سب کو حیرت میں ڈال دینے والا مارٹن گپٹل کا وہ اوور تھرو بال جو اسٹوکس کے بلے میں لگ کر باؤنڈری کے پار چلی گئی اور انگلینڈ کو چھ رن مل گئے۔ یہ ایسے لمحات تھے جس نے نیوزی لینڈ کو عالمی کپ سے دور اور انگلینڈ کو قریب کر دیا۔

ویسے میچ ختم ہونے کے بعد مشہور و معروف سابق امپائر سائمن ٹفل نے ایک بیان میں یہ کہہ کر بھی نیوزی لینڈ کو فاتح ظاہر کر دیا کہ ’’جس اوور تھرو پر انگلینڈ کو 6 رن ملے، اسے 5 رن ملنے چاہیے تھے۔ یہ امپائر کے ذریعہ ججمنٹ کی غلطی تھی۔‘‘ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹفل ایم سی سی لاء سب کمیٹی کے رکن ہیں جو کہ کرکٹ کے اصول و ضوابط تیار کرتی ہے۔ ٹفل کا مذکورہ بیان ’دی ایج‘ اور ’سڈنی مارننگ ہیرالڈ‘ میں شائع ہوا ہے اور یقیناً اب یہ بحث طویل چلنے والی ہے۔

بہر حال، انگلینڈ کی ٹیم نے اپنے کھیل سے لوگوں کو متاثر کیا اور لارڈس کے میدان پر تاریخ رقم کرتے ہوئے عالمی کپ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ اس درمیان یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نیوزی لینڈ نے جس طرح سے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ہے، حقیقی معنوں میں ’دلوں پر قبضہ‘ تو اسی ٹیم کا مانا جائے گا۔ نیوزی لینڈ سے کسی نے اگر عالمی کپ چھینا ہے تو وہ نیوزی لینڈ کا ہی کھلاڑی ہے، وہ کرائسٹ چرچ کا باشندہ ہے، وہ بین اسٹورکس ہے۔

Published: 15 Jul 2019, 7:10 PM
next