عالمی کپ: آسٹریلیا کو الٹ پھیر کرنے والی بنگلہ دیش سے محتاط رہنا ہوگا

عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو عالمی کپ مقابلے میں الٹ پھیر کرنے والی بنگلہ دیش کی ٹیم کے خلاف ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے آج کے میچ میں محتاط رہنا ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

بنگلہ دیش نے اس ٹورنامنٹ میں اب تک پانچ میچوں میں دو جیت، دو شکست اور ایک منسوخ نتائج کے ساتھ سات پوائنٹس حاصل کرکے پوائنٹس ٹیبل میں پانچویں نمبر پر جگہ بنا لی ہے جبکہ 2015 عالمی کپ کی فاتح ٹیم آسٹریلیا بھی امید کے مطابق بہترین کھیل کا مظاہرہ کرکے پانچ میچوں میں چار جیت اور ایک شکست کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل میں دوسرے مقام پر موجود ہے۔

اس مقابلے میں آسٹریلیا مضبوط دعویدار ہے لیکن اس عالمی کپ میں دو بار بڑی ٹیموں جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر بنگلہ دیش کو کمزور سمجھنے والی ٹیموں کے لئے بھاری پڑ سکتا ہے۔ بنگلہ دیش نے ٹورنامنٹ کے اپنے پہلے مقابلے میں مضبوط جنوبی افریقہ کو 21 رن سے شکست دے کر ورلڈ کپ کا شاندار آغاز کیا تھا۔

اگرچہ دوسرے مقابلے میں اسے نیوزی لینڈ سے دو وکٹ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اس میچ میں بھی وہ مقابلے میں بنی رہی تھی اور مقابلے کو جیتنے کی پوری کوشش کی تھی۔ تیسرے میچ میں بنگلہ دیش کو دنیا کی نمبر ایک ٹیم اور میزبان انگلینڈ کے ہاتھوں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بنگلہ دیش کا چوتھا مقابلہ سری لنکا سے تھا جو بارش کی وجہ سے منسوخ رہا تھا۔ جبکہ پانچویں میچ میں بنگلہ دیش نے آل راونڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے 322 جیسے بڑے ہدف کا آسانی سے تعاقب کیا اور یہ مقابلہ 51 گیند باقی رہتے ہی سات وکٹ سے جیت کر دیگر ٹیموں کو اپنی طاقت کا احساس کرا دیا۔

دنیا کے نمبر ایک آل راؤنڈر شکیب الحسن گیند اور بلے دونوں ہی سے بنگلہ دیش کے لئے مسلسل شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس دوران بنگلہ دیش کے لئے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے سلامی بلے باز تمیم اقبال نے بھی ویسٹ انڈیز کے خلاف 48 رن کی اننگز کھیل کر اپنی فارم میں واپسی کی ہے۔

اگرچہ بنگلہ دیش کی سلامی جوڑی کو آسٹریلیا کے خلاف اچھی شروعات کرنی ہوگی۔مڈل آرڈر میں لٹن داس نے بھی گزشتہ میچ میں شکیب الحسن کا بخوبی ساتھ نبھایا تھا اور آسٹریلیا کے خلاف ان پر ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے کی ذمہ داری ہوگی۔

آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف بنگلہ دیش کو اپنی گیندبازی میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا کی سلامی جوڑی مسلسل ٹیم کو اچھا آغاز دلا رہی ہے۔ کپتان آرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر تقریبا ہر میچ میں بڑی اننگز کھیل رہے ہیں۔ ایسے میں بنگلہ دیش کے گیند بازوں کو اس خطرناک جوڑی کو جلد آؤٹ کرکے پویلین بھیجنا ہوگا۔

مڈل آرڈر میں اسٹیون اسمتھ، عثمان خواجہ اور گلین میکسویل بھی تابڑ زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرکے بڑا اسکور بنارہے ہیں۔
عالمی کپ کی مضبوط دعویداروں میں سے ایک عالمی چیمپئن آسٹریلیا ٹورنامنٹ میں مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور شروع سے ہی پوائنٹس ٹیبل میں ٹاپ چار بر برقرار ہے۔

آسٹریلیا کے لئے مثبت بات ہے کہ اس کی سلامی جوڑی مسلسل بڑی شراکت کرکے ٹیم کو برتری دلاتی رہی ہے۔ اگر ہندوستان کے خلاف میچ کو چھوڑ دیا جائے تو آسٹریلیائی ٹیم ہر محاذ میں آگے رہی ہے۔اگرچہ ہندوستان کے خلاف 353 رنزکے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بھی اس نے 316 رن بنائے تھے۔

پاکستان اور سری لنکا کے خلاف آسٹریلیائی اننگز آخر کے اووروں میں لڑکھڑا گئی تھی۔ آسٹریلیا کو بنگلہ دیش کے خلاف اپنی اس غلطی کو بہتر کرنا ہوگا اور اپنی اننگز کو آخر تک برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط اسکور بنانا ہوگا۔

اپنے گزشتہ میچ میں جس طرح سے بنگلہ دیش نے 322 رنز کے ہدف کو آسانی سے حاصل کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے آسٹریلیا کو اپنی گیندبازی میں جارحیت رکھنی ہوگی۔ پیٹ کمنز اور مشیل اسٹارک پر شکیب الحسن کو روکنے کا چیلنج ہوگا۔ اس مقابلے کو جیت کر جہاں آسٹریلیا کی نظریں سیمی فائنل کے لئے اپنا دعوی اور مضبوط کرنے پر ہوگی وہیں بنگلہ دیش ایک بار پھر الٹ پھیر کرکے عالمی چیمپئن کو جھٹکا دینا چاہے گی اور سیمی فائنل کے لئے اپنی دعویداری مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک کل 20 ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے گئے ہیں جس سے 18 بار آسٹریلیا کو جیت ملی ہے اور بنگلہ دیش کے کھاتہ میں صرف ایک جیت ہے۔ دونوں کے درمیان ایک مقابلہ بے نتیجہ رہا ہے۔