عالمی کپ: ہندوستان-پاکستان مقابلہ سے قبل وراٹ کوہلی کا اہم بیان

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے ہفتہ کے روز کہا کہ دیرینہ حریف پاکستان کے خلاف عالمی کپ مقابلے سے متعلق ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ٹیم کی توجہ صرف اپنی کارکردگی پر ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

مانچیسٹر: ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے ہفتہ کے روز کہا کہ دیرینہ حریف پاکستان کے خلاف عالمی کپ مقابلے سے متعلق ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ٹیم کی توجہ صرف اپنی کارکردگی پر ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کی ٹیموں کے مابین اتوار کے روز مقابلہ ہونا ہے جسے اس عالمی کپ کا بڑا مقابلہ کہا جا رہا ہے۔ اس مقابلے سے قبل کی شام وراٹ نے پریس کانفرنس میں اس مقابلے کے سلسلے بن رہے جذباتی ماحول کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مقابلہ ہے۔ ہم اسے ایک عام میچ کی طرح دیکھ رہے ہیں اور ہمیں صرف اس میں اپنی کارکردگی کو ذہن میں رکھنا ہے۔ دوسری ٹیم کیا کر رہی ہے، ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہے‘‘۔

ٹیم کے بارے میں وراٹ نے واضح کیا کہ یہ سب کچھ موسمی حالات اور میچ کی لمبائی پر منحصرہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ’’میچ میں جس طرح کے حالات ہوں گے، ہم اسی حساب سے ٹیم کا انتخاب کریں گے۔ میں اپنی حکمت عملی میں پوری لچک رکھنا چاہتا ہوں تاکہ حالات کے مطابق ہم آخری الیون منتخب کر سکیں۔ اگر حالات کا تقاضہ رہا کہ تیز گیند بازی کو ترجیح دی جائے تو ہم اپنے تیز گیند بازی آرڈر کو مضبوط کریں گے لیکن میں پھر کہوں گا کہ سب کچھ حالات پر منحصر رہے گا‘‘۔

عالمی کپ: ہندوستان-پاکستان مقابلہ سے قبل وراٹ کوہلی کا اہم بیان

موسم کے بارے میں پوچھے جانے پر ہندوستانی کپتان نے کہاکہ ’’یہ ایک ایسی بات ہے جو ہمارے بس میں نہیں ہے۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا کہ اتوار کے روز موسم کیسا رہتا ہے۔ اگر پورے 50 اوور کا میچ ہوتا ہے تو بہت اچھا ہو گا لیکن اگر اووروں کی تعداد میں کمی کی جاتی ہے تو ہمیں اس کے لئے ذہنی طور پر خود کو تیار رکھنا ہوگا۔ ٹیم بھی کل کے حالات کو دیکھ کر منتخب جائے گی‘‘۔

شائقین کے درمیان اس مقابلے سے متعلق بن رہے جذباتی ماحول کو پرسکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وراٹ نے کہاکہ ’’میں فینس کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ میچ کو کس نظریئے دیکھیں۔ ہم کھلاڑی کے طور پر میچ کو جذباتی طور پر نہیں لے سکتے۔ ہمیں پیشہ ورانہ انداز میں اس میچ کو دیکھنا ہوگا جیسا ہم برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا ہوگا لیکن کھلاڑیوں کو اس سے دباؤ میں نہیں آکر اور اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی‘‘۔

وراٹ نے ساتھ ہی کہا کہ ہندوستانی ڈریسنگ روم کا ماحول اس مقابلے کے تناؤ سے قطعی متاثر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈریسنگ روم کا ماحول ویسا ہی ہے جیسا انگلینڈ آنے کے بعد تھا۔ ماحول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، بھلے ہی ہمارا اگلا مقابلہ پاکستان سے کیوں نہ ہو۔ تمام کھلاڑی پرسکون ہیں اور انہوں نے پریکٹس سیشن میں اپنی کارکردگی پر توجہ دی ہے‘‘۔

انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’’ہمیں کسی کو کچھ ثابت نہیں کرنا ہے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ ہم اپنی صد فیصد کارکردگی کا مظاہرہ کریں، اپنی طاقت کے مطابق کھیلیں تو ہم مقابلہ جیت جائیں گے لیکن اگر آپ اپنی طاقت کے مطابق نہیں کھیلتے تو اس سے آپ کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے‘‘۔

ہندوستانی کپتان نے کہاکہ ’’پاکستانی ٹیم میں یقینی طور پر بہت سے اچھے کھلاڑی ہیں، لیکن ہم کبھی اس بارے میں نہیں سوچتے کہ مخالف ٹیم کیا کر رہی ہے اور اس کی حکمت عملی کیا ہے۔ آپ نے ہمارے پہلے دو میچوں بھی دیکھے ہوں گے کہ ہم نے اپنے کھیل پر توجہ مرکوز کی تھی ہے اور یہی کام ہم اس میچ میں بھی کریں گے‘‘۔

Published: 16 Jun 2019, 8:15 AM