بیلز پر وبال: عالمی کپ میں ’گلیوں‘ کا گرنے سے اور آئی سی سی کا ’جھکنے‘ سے انکار!

انگلینڈ میں کھیلے جا رہے عالمی کپ 2019 میں اب تک 5 سے زائد مرتبہ گیند اسٹمپس پر لگنے کے باوجود بیلز نہ گرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بالنگ ٹیم کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

لندن: اس بار کا عالمی کپ دو باتوں کے لئے سب سے زیادہ یاد رکھا جائے گا ایک تو بارش کی وجہ سے میچوں کا پانی پانی ہو جانا اور دوسرے اسٹمپس پر رکھی جانی والی گلیوں (بیلز) کا گیند کے اسٹپمس پر لگ جانے کے باوجود گرنے سے ’انکار‘ کر دینا۔ بارش پر تو خیر کسی انسان کا کوئی زور نہیں لیکن گلیاں تو انسان ہی تیار کرتا ہے اور انہیں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے لیکن آئی سی سی نے اس معاملہ پر جھکنے سے یعنی گلیوں کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ماجرا کچھ یوں کہ انگلینڈ میں کھیلے جا رہے عالمی کپ 2019 میں اب تک 5 سے زائد مرتبہ گیند اسٹمپس پر لگنے کے باوجود بیلز نہ گرنے کے واقعات رونما ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے بالنگ ٹیم کو اہم مواقع پر شدید مایوسی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ میگا ایونٹ میں شریک اسٹار پلیئرز نے بھی آئی سی سی سے اس مسئلہ کا حل نکالنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے بیلز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا امکان رد کردیا ہے۔

بیلز پر وبال: عالمی کپ میں ’گلیوں‘ کا گرنے سے اور آئی سی سی کا ’جھکنے‘ سے انکار!

اتوار کو کھیلے گئے میچ میں ڈیوڈ وارنر ان سائیڈ ایج کے باوجود بیلز نہ گرنے کی وجہ سے میدان بدر ہونے سے محفوظ رہے تھے۔ جس پر ہندوستان کے کپتان وراٹ کوہلی نے بھی اس کو غیرمنصفانہ قرار دیا تھا۔

دراصل میگا ایونٹ میں ’زِنگ بیلز‘ استعمال ہو رہی ہیں جن میں ’ایل ای ڈی‘ لائٹس فکس ہیں جوکہ گیند وکٹ پر ہٹ کرنے کی صورت میں جگمگانے لگتی ہیں۔ کوہلی کے علاوہ آسٹریلیائی کپتان ایرون فنچ بھی ان بیلز پر سوال اٹھا چکے جبکہ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان اور ناصر حسین نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس تنازع سے ٹورنامنٹ کی خوبصورتی بھی ماند پڑ سکتی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’’گذشتہ 4 برس سے اسٹمپس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے، یہی اسٹمپس 2015 کے ورلڈ کپ سے نہ صرف تمام آئی سی سی ایونٹس بلکہ کئی ڈومیسٹک ایونٹس میں بھی استعمال ہو رہی ہیں، اب تک یہ ایک ہزار سے زائد میچز میں استعمال ہوچکی ہیں، یہ معاملہ ہمیشہ ہی گیم کا حصہ رہا ہے اور اسے قبول کرنا چاہیے، آپ کو بیٹسمین کا قلعہ ڈھانے کے لئے کچھ قوت صرف کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

آخر کیوں نہیں گر رہیں بیلز؟

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیائی کپتان ایرون فنچ نے اس بارے میں کہا، ’’میرے خیال سے نئے لائٹس والے اسٹمپس کے ساتھ بیلز کچھ وزنی ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے انہیں گرانے میں کچھ زیادہ ہی قوت کی ضرورت ہے۔‘‘

بیلز پر وبال: عالمی کپ میں ’گلیوں‘ کا گرنے سے اور آئی سی سی کا ’جھکنے‘ سے انکار!

جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسٹمپس پر بیلز کو رکھنے کے لیے جو گڑھے بنائے جاتے ہیں وہ اس بار کچھ زیادہ ہی گہرے ہیں اس لیے بیلز جھٹکے کے بعد بھی ان میں پھنس کر رہ جاتی ہیں۔ تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بیلز کے نہ گرنے کی اس وجہ کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بیلز کا وزن عام بیلز اور تیز ہوا کے دوران وزنی بیلز کے درمیان کا ہے۔

خواہ آئی سی سی گلیوں کے وزنی ہونے کو تسلیم نہ کرے لیکن لمیٹڈ اوور کے میچوں میں جتنے بھی نئے نئے اصول و ضوابط متعارف کیے جا رہے ہیں وہ بلے باز کے حق میں جا رہے ہیں اور گیند باز میدان پر پسینہ پسینہ ہو کر بھی ایک ایک وکٹ کو ترس جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’پاور پلے‘ اور نو بال کے بعد دی جانے والی ’فری ہِٹ‘ ایسے ہی اصول ہیں جن کا فائدہ بلے بازوں کو ملتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر گلیاں بھی بلے بازوں کی ہی حمایت میں اتر جائیں، تو گیند بازوں کا بس خدا ہی حافظ۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 12 Jun 2019, 7:10 PM