ٹی-20 عالمی کپ: 23 رن پر 8 وکٹ گنوا کر ہاریں ہندستانی خواتین، خواب چکناچور

ہندستانی ٹیم کا اس ہار کے ساتھ انگلینڈ سے گزشتہ سال ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل کی شکست کا بدلہ چکانے اور ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹ گیا۔

یو این آئی

نارتھ ساؤنڈ (انٹيگا): ہندوستانی خواتین نے حیرت انگیز طور پر اپنے آخری آٹھ وکٹ صرف 23 رن جوڑ کر گنوائے اور انہیں آئی سی سی خواتین ٹوئنٹی-20 ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں آٹھ وکٹ کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندستانی ٹیم کا اس ہار کے ساتھ انگلینڈ سے گزشتہ سال ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل کی شکست کا بدلہ چکانے اور ورلڈ کپ جیتنے کا خواب ٹوٹ گیا۔

انگلینڈ کا سیمی فائنل میں روایتی حریف آسٹریلیا سے مقابلہ ہوگا جس نے ایک اور سیمی فائنل میں میں گزشتہ چمپئن ویسٹ انڈیز کو 71 رنز کے بڑے فرق سے شکست دی۔

ہندستانی ٹیم مینجمنٹ کا اس میچ میں سب سے تجربہ کار بلے باز متالی راج کو الیون سے باہر رکھنا بھاری پڑا جو اپنے گھٹنے کی چوٹ سے نکل چکی تھيں ، ہندستانی ٹیم ایک وقت 13.5 اوور میں دو وکٹ پر 89 رن کی خوشگوار صورتحال سے 19.3 اوور میں محض 112 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ون ڈے عالمی چمپئن انگلینڈ نے 17.1 اوور میں دو وکٹ پر 116 رن بنا کر آسانی سے میچ جیت لیا اور فائنل میں جگہ بنا لی۔

انگلینڈ کا سیمی فائنل میں روایتی حریف آسٹریلیا سے مقابلہ ہوگا جس نے ایک اور سیمی فائنل میں میں گزشتہ چمپئن ویسٹ انڈیز کو 71 رنز کے بڑے فرق سے شکست دی۔

سر ویوین رچرڈز اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی خواتین ہر لحاظ سے ہندستانی خواتین پر بیس ثابت ہوئیں۔ سال 2009 میں آخری بار ٹوئنٹی -20 ورلڈ کپ جیتنے والے انگلینڈ چوتھی بار فائنل میں داخل ہوئی جہاں اتوار کو اس کا مقابلہ تین بار کے چمپئن آسٹریلیا سے ہوگا۔ انگلینڈ تیسری بار آسٹریلیا سے خطابی مقابلے میں کھیلے گا۔

ہندوستانی کپتان هرمنپريت کور نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن سب سے تجربہ کار بلے باز متالی کو الیون سے باہر رکھا جنہوں نے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں آئر لینڈ اور پاکستان کے خلاف مسلسل نصف سنچری بنائی تھیں ۔ متالی اپنے گھٹنے کی چوٹ سے نکل چکی تھیں اور انہیں ٹیم سے باہر رکھنا ٹیم کے لئے مہلک رہا۔ متالی کو باہر رکھنے کے فیصلے پر اب طویل عرصے تک بحث چھڑی رہے گی۔

ہندستان نے اچھی شروعات کے بعد ایک مشکل اسکور بنانے کا موقع گنوایا۔ سمرتی مدھانا نے ہندستان کو تیز شروعات دي لیكن دوسرا اینڈ مایوس کن رہا۔ متالی کی جگہ اوپننگ کرنے اتری تانیا بھاٹیہ 19 گیندوں میں صرف 11 رنز بنا سکیں جبکہ متالی کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا انوجا پاٹل پہلی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئیں اور اپنی آف اسپن گیندوں پر انہوں نے 3.1 اوور میں 27 رن لٹايے۔

ہندوستانی بلے باز اسپن کنڈیشنز کے ساتھ رفتار بنانے میں ناکام رہیں اور یہی ان کے زوال کا سبب رہا۔ گروپ کے چار میچ آسانی سے جیتنے والی ہندستانی ٹیم سے ایسے نتیجے کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ مدھانا نے 23 گیندوں پر پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 34 رن بنائے۔ اگرچہ اس دوران انہیں ایک جیون دان بھی ملا تھا۔ جیمما روڈرگس نے 26 گیندوں میں تین چوکوں کی مدد سے 26 رن بنائے۔ کپتان هرمنپريت نے 20 گیندوں میں ایک چھکے کے سہارے 16 رن بنائے۔

ویدا كرشنامورتی نے دو، دیپتی شرما نے سات، ديالن ہیم لتا نے ایک، رادھا یادو نے چار اور اروندھتی ریڈی نے چھ رن بنائے۔ ہندستانی ٹیم 13.5 اوور میں دو وکٹ پر 89 رن کی خوشگوار صورتحال سے 19.3 اوور میں محض 112 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ انگلینڈ کی طرف سے کپتان هيتھر نائیٹ نے نو رن پر تین وکٹ، کرسٹی گورڈن نے 20 رن پر دو وکٹ اور سوفی ایكلسٹون نے 22 رن پر دو وکٹ لئے۔

ہدف بڑا نہیں تھا، انگلینڈ نے دو وکٹ جلدی گنوائے لیکن پھر اس نے واپسی کرتے ہوئے آٹھ وکٹ سے میچ جیت لیا۔ رادھا یادو نے تیمی بيموٹ کو اروندھتی ریڈی کے ہاتھوں کیچ کرایا اور دپتی شرما نے ڈینیل وائٹ کو جیمما روڈرگس کے ہاتھوں لپكوا یا۔ بيموٹ نے ایک اور وائٹ نے آٹھ رن بنائے۔

انگلینڈ کے دو وکٹ 24 رن تک گر گئے لیکن وکٹ کیپر ایمی ایلن جونز نے 47 گیندوں میں تین چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ناقابل شکست 53 اور نیٹلی شور نے 38 گیندوں میں پانچ چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 52 رنز بنا کر انگلینڈ کو جیت دلا دی۔ دونوں نے تیسرے وکٹ کے لئے 92 رن کی میچ فاتح ناٹ آؤٹ ساجھےداری کی۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ سیمی فائنل سے پہلے اس ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی کسی بلے باز نے نصف سنچری نہیں بنائی تھی لیکن سیمی فائنل میں اس کی دو بلے بازوں نے ناٹ آؤٹ نصف سنچری بنا ڈالیں ۔ ایمی جونز کو پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ ملا۔