نیوزی لینڈ کے منھ سے کرکٹ ورلڈ کپ چھیننے والا قانون تبدیل، فائنل کے بعد ہوا تھا خوب ہنگامہ

آئی سی سی کے جس قانون کے تحت انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم اس سال عالمی کپ چمپئن بنی تھی، اسے قانون کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سابق ہندوستانی کپتان انل کمبلے کی صدارت والی ایک کمیٹی کی سفارش پر یہ قدم اٹھایا گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اس سال انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے جس قانون کی بدولت عالمی کپ کا خطاب جیتا تھا، اسے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے منسوخ کر دیا ہے۔ عالمی کپ فائنل ٹائی رہنے اور اس کے بعد سپر اوور میں بھی فیصلہ نہیں ہونے پر باؤنڈری کاؤنٹ کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کرنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم خطاب سے دور رہ گئی تھی۔ اب آئی سی سی نے اس قانون کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ فائنل اور سیمی فائنل مقابلوں میں سپر اوور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ نتیجہ نہیں آ جاتا۔

سابق ہندوستانی کپتان انل کمبلے کی صدارت والی آئی سی سی کی ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر آئی سی سی نے سپر اوور کو جاری رکھتے ہوئے پرانے قوانین میں کچھ تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ اب نئے قوانین کے مطابق گروپ اسٹیج کے میچوں میں اگر سپر اوور میں ٹائی رہت ہے تو اس کے بعد میچ ٹائی قرار دیا جائے گا، جب کہ سیمی فائنل اور فائنل میں اگر سپر اوور کی نوبت آتی ہے تو ایسے میں جو بھی ٹیم زیادہ رن بنائے گی، وہ فاتح قرار پائے گی اور اس کے لیے سپر اوور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ایک ٹیم دوسری ٹیم سے زیادہ رن نہیں بنا لیتی۔

واضح رہے کہ اسی سال ہوئے عالمی کپ مقابلے میں انگلینڈ کی ٹیم کو سپر اوور ٹائی ہونے پر باؤنڈری کاؤنٹ کی بنیاد پر فاتح قرار دیا گیا تھا۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان تاریخی لارڈس میدان میں کھیلے گئے فائنل مقابلے کا نتیجہ سپر اوور میں نہیں نکلنے پر باؤنڈری کاؤنٹ کی بنیاد پر انگلینڈ کے حق میں نتیجہ کا اعلان کیا گیا تھا جس کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ اب آئی سی سی نے اس قانون کو ہٹا لیا ہے۔ میچ میں انگلینڈ نے کل 26 جب کہ نیوزی لینڈ نے کل 17 باؤنڈری لگائے تھے۔ اسی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔

دوسری طرف پیر کے روز آئی سی سی نے زمبابوے کو پھر سے کونسل میں شامل کر لیا ہے۔ آئی سی سی سربراہ اور چیف ایگزیکٹیو افسر کے ساتھ زمبابوے کرکٹ کے صدر اور زمبابوے کے کھیل وزیر اور اسپورٹس ری کریئشن کمیشن کے صدر کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ واضح رہے کہ زمبابوے کرکٹ بورڈ میں وہاں کی حکومت کی بڑھتی مداخلت کے سبب جولائی 2019 میں آئی سی سی سے معطل کر دیا گیا تھا۔

next