کرکٹ: وراٹ کوہلی کے لیے بری خبر، کوچ سلیکشن کے عمل سے دور رکھنے کا فیصلہ

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے انتخاب پر متعلقہ کمیٹی نے تیزی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن اس بار ہندوستانی ٹیم کے نئے کوچ کے سلیکشن میں کپتان وراٹ کوہلی کی رائے نہیں لی جائے گی۔

کپتان وراٹ کوہلی
کپتان وراٹ کوہلی
user

قومی آوازبیورو

کرکٹ عالمی کپ کے سیمی فائنل میں ہندوستان کی شکست کے بعد سے ہی تبدیلی کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بی سی سی آئی نے کوچ اور باقی ملازمین کی تقرری کو لے کر درخواست طلب کی ہے۔ ایسے ماحول میں کون ہندوستانی ٹیم کا نیا کوچ ہوگا، اس سلسلے میں پیشین گوئیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ اس درمیان خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ نئے کوچ کے سلیکشن کے عمل سے کپتان وراٹ کوہلی کو الگ کر دیا گیا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ ہندوستانی ٹیم کو ایسا کوچ بھی مل سکتا ہے جو وراٹ کوہلی کی پہلی پسند نہ ہوں۔

انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ سے بات چیت کے دوران بی سی سی آئی کے ایک افسر نے بتایا کہ کوچ سلیکشن کے عمل میں وراٹ کوہلی کی کوئی رائے نہیں لی جائے گی۔ کوچ کو لے کر آخری فیصلہ اسٹیئرنگ کمیٹی لے گی جس کی صدارت ہندوستان کے سابق کپتان کپل دیو کر رہے ہیں۔ اس میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تقرر کردہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرس (سی او اے) کا کردار اہمیت کا حامل ہوگا۔

شائع رپورٹ کے مطابق افسر نے بھروسہ دلایا ہے کہ کپل دیو، انشمن گائیکواڈ اور شانتا رنگا سوامی کی تین رکنی کمیٹی کوچ سلیکشن کے عمل میں آگے بڑھے گی اور سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل سی او اے اس کے لیے اپنی صلاح دے گا۔ کوچ سلیکشن کے عمل میں کسی بھی موجودہ ہندوستانی رکن کی رائے نہیں لی جائے گی۔

خبریں یہ بھی ہیں کہ اس بار بی سی سی آئی نے چیف کوچ کے ساتھ ہی سپورٹنگ اسٹاف کے سلیکشن کا بھی فیصلہ لیا ہے، یہ پچھلی بار کے اس سلیکشن عمل سے بالکل الگ ہے جس میں چیف کوچ کو اپنا سپورٹ اسٹاف چننے کی آزادی تھی۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ بار انل کمبلے کے عہدہ چھوڑنے کے بعد روی شاستری کو کوچنگ کی ذمہ داری دی گئی تھی اور اس میں وراٹ کوہلی کی پسند کا خاص خیال رکھا گیا تھا۔ لیکن اس بار کوچ سلیکشن کا عمل کپل دیو کی قیادت والی سہ رکنی کمیٹی کرے گی۔

روی شاستری کے ساتھ ہی دیگر کوچنگ اسٹاف سنجے بانگڑ اور بھرت ارون کی مدت کار ویسٹ انڈیز دورے تک توسیع دی گئی ہے جو 3 اگست سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ حالانکہ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ اس دورے کے بعد بھی یہ تینوں اپنے عہدہ پر بنے رہ پائیں گے۔ بی سی سی آئی چاہتی ہے کہ 15 ستمبر سے پہلے وہ پورا عمل مکمل کر لے۔

next