مجھے یقین ہے کہ وراٹ 1983 کی تاریخ دہرائیں گے: کپل دیو

کپل نے کہا ’’ہندوستانی ٹیم یقینی طور سےچوٹی کی چار ٹیموں میں شامل رہے گی۔ سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد کسی بھی ٹیم کے لئے کچھ بھی ہو سکتا ہے‘‘۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

سال 1983 میں انگلینڈ کی سر زمین پر پہلی بار ہندوستان کو عالمی چیمپئن بنانے والے کپل دیو نے یقین ظاہر کیا ہے کہ موجودہ کپتان وراٹ کوہلی ایک بار پھر انگلینڈ کی سرزمین پر ان کی تاریخ دهرائیں گے۔

کپل نے بدھ کو یہاں ’برٹانیا کھاؤ ورلڈ کپ جاؤ‘ کے فاتحین کو عالمی کپ کا ٹکٹ سونپنے کے بعد نامہ نگاروں سے اس میگا ٹورنامنٹ کے سلسلے میں کھل کر بات چیت کی۔ یہ پوچھنے پر کہ جس طرح انہوں نے 1983 میں تاریخ رقم کی تھی اسی طرح وراٹ کی ٹیم اس بار تاریخ دہرائے گی۔ انہوں نے کہا، ’’آپ کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ آپ کی ٹیم عالمی کپ جیت سکتی ہے۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ وراٹ کوہلی 1983 کی میری تاریخ دہرا سکیں گے۔‘‘

عالمی کپ فاتح کپتان نے 30 مئی سے انگلینڈ میں ہونے والے عالمی کپ کے دعویداروں کے لئے میزبان انگلینڈ، دفاعی چمپئن آسٹریلیا اور ہندوستان کا نام لیا۔ انہوں نے کہا، ’’سیمی فائنل کی چوتھی ٹیم کے سرپرائز کے طور پر نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز ہو سکتے ہیں۔ چوتھی ٹیم کیلئے جنوبی افریقہ اور پاکستان بھی دعویدار ہیں۔‘‘

سابق ہندوستانی کپتان نے موجودہ ٹیم انڈیا کو انتہائی متوازن قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان کے پاس نوجوان اور تجربہ کا بہترین تال میل ہے۔ ٹیم کھلاڑیوں کے لحاظ سے انتہائی متوازن ہے جس میں چار تیز گیندباز اور تین اسپنر ہیں جبکہ ٹیم کے پاس وراٹ اور مہندر سنگھ دھونی کے طور پر دو انتہائی تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔‘‘

کپل نے کہا، "ہندوستانی ٹیم یقینی طور سےچوٹی کی چار ٹیموں میں شامل رہے گی۔ سیمی فائنل میں پہنچنے کے بعد کسی بھی ٹیم کے لئے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ "عالمی کپ کے لیے منتخب کی گئی ہندوستانی ٹیم پر سابق کپتان نے کہا کہ سلیکٹروں نے جو ٹیم منتخب کی ہے اس پر آپ کو یقین ہونا چاہیے اور سلیکٹروں کی منتخب کی گئی ٹیم کا احترام کیا جانا چاہیے۔

سابق آل راؤنڈر کپل نے سابق کپتان دھونی اور وراٹ کے تال میل کو ٹیم کیلئے اہم بتاتے ہوئے کہا، ’’دونوں نے ہندوستان کے لیے کافی اچھی کارکردگی کی ہے اور امید ہے کہ ان کی یہ کارکردگی ورلڈ کپ میں بھی جاری رہے گی۔ ٹیم کو نہ صرف ان دونوں بلکہ پوری ٹیم کے تال میل کی ضرورت رہے گی۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ عالمی کپ میں ہندوستان کے لیے کھیل رہے ہیں۔‘‘

کپل دیو نے عالمی کپ کے لیے ہندوستانی تیز گیندبازی آرڈر کو بہترین بتاتے ہوئے کہا ’’مجھے یقین ہے کہ 140 كلوميٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند پھینک والے محمد سمیع اور جسپريت بمراه انگلینڈ کی سوئنگ لینے والی پچ کا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔‘‘

ٹیم انڈیا میں چوتھے نمبر کو لے کر چل رہی بحث اور اس جگہ پر وجے شنکر کی موجودگی کے بارے میں پوچھے جانے پر کپل نے کہا، "گزشتہ 10 سال میں کرکٹ بہت بدل گئی ہے۔ آج کوئی بھی جگہ مستقل نہیں ہے۔موجودہ وقت میں ٹیم میں مستقل جیسا کچھ نہیں ہوتا۔اوپننگ کو چھوڑ دیا جائے تو کوئی بھی کسی بھی ترتیب پر کھیل سکتا ہے۔ویسے تو اوپنر بھی چوتھے نمبر پر آ سکتا ہے۔

بھارتی کرکٹ کے سب سے بڑے آل راؤنڈر کپل نے ساتھ ہی کہا کہ موجودہ ہندوستانی ٹیم کے آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالا جانا چاہیے۔. انہوں نے کہا، "پانڈیا ایک اچھے آل راؤنڈر ہیں لیکن ان پر توقعات کا زیادہ بوجھ ڈالنے سے ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ان کی کسی سے موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے۔انہیں اپنا کھیل کھیلنے کے لیے چھوڑ دینا چاہیے تبھی وہ ٹیم کے لیے اچھی کارکردگی کر پائیں گے۔

Published: 8 May 2019, 9:10 PM