مورگن کے ورلڈ ریکارڈ چھکوں کی بدولت انگلینڈ نے افغانستان کو دی شکست

انگلینڈ کے کپتان ایون مورگن نے افغانستان کے خلاف کھیلتے ہوئے محض 71 گیندوں میں چار چوکے اور ریکارڈ 17 چھکوں کی مدد سے 148 رن بنائے اور ٹیم کا اسکور ریکارڈ 397 رنوں تک پہنچایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

مانچسٹر: کپتان مورگن کے ریکارڈ 17 چھکوں سے آراستہ 148 رنوں کی بہترین اننگز کی بدولت دنیا کی نمبر ایک ٹیم انگلینڈ نے افغانستان کو آئی سی سی ورلڈ کپ کے میچ میں منگل کے روز 150 رن سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل میں سرفرہست مقام حاصل کر لیا۔

انگلینڈ نے اس میچ میں ریکارڈ توڑ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 50 اوور میں چھ وکٹ پر 397 رن کا اس ورلڈ کپ کا اپنا بہترین اسکور بنا لیا۔ اس پہاڑ جیسے اسکور نے افغانستان کے ہدف کا تعاقب کرنے سے پہلے ہی کمر توڑ دی اور افغان ٹیم 50 اوور کھیل کر آٹھ وکٹ پر 247 رن ہی بنا سکی۔ انگلینڈ کی پانچ میچوں میں یہ چوتھی جیت ہے اور وہ آٹھ پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل میں ٹاپ مقام پر پہنچ گیا ہے جبکہ افغانستان کی مسلسل پانچویں شکست کے بعد امیدیں تقریبا ختم ہو چکی ہیں۔

پلیئر آف دی میچ بنے مورگن نے عالمی کپ کی تاریخ کا چوتھی سب سے تیز سنچری اور اپنا انفرادی بہترین اسکور بنایا۔ انہوں نے محض 71 گیندوں میں چار چوکے اور ریکارڈ 17 چھکےلگاتے ہوئے 148 رن بنائے۔ اوپنر جانی بيرسٹو نے 99 گیندوں پر 90 رن میں آٹھ چوکے اور تین چھکے لگائے جبکہ جو روٹ نے 82 گیندوں پر 88 رن میں پانچ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔

اوپنر جیمز ونس نے 31 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے 26 رن بنائے۔ معین علی نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے صرف نو گیندوں پر ایک چوکا اور چار چھکے لگا کر ناٹ آؤٹ 31 رن بنائے۔ انگلینڈ کے 397 رن اس عالمی کپ میں کسی بھی ٹیم کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ انگلینڈ نے اس ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف کارڈف میں 386 رن بنائے تھے اور اس نے اس اسکور کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انگلینڈ کے 397 رن ون ڈے میں مشترکہ طور سے 25 واں سب سے زیادہ ا سکور ہے۔

دن کا کھیل مکمل طور انگلینڈ کے کپتان مورگن کے نام رہا جنہوں نے اپنے آتشی سنچری سے شائقین کو ان کے ٹکٹ کی رقم وصول کرا دی۔ اگرچہ میچ سے پہلے مورگن کے کھیلنے کے متعلق شک تھا لیکن وہ میدان میں اترے، ٹیم کی کمان سنبھالی، ٹاس جیتا اور پہلے بیٹنگ کی اور پھر اپنا ذاتی بہترین اسکور بنا ڈالا۔

32 سالہ مورگن نے اپنی سنچری صرف 57 گیندوں میں مکمل کی جس میں تین چوکے اور 11 چھکے شامل تھے۔ ان کے 50 رن 36 گیندوں میں بنے تھے جبکہ اگلے 50 رنز کے لئے انہوں نے صرف 21 گیندیں کھیلیں۔ یہ ان کی 13 ویں ون ڈے سنچری تھی۔ اس سے پہلے مورگن کا بہترین اسکور ناٹ آؤٹ 124 رنز تھا جسے انہوں نے کافی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بائیں ہاتھ کے بلے باز مورگن نے اس کے ساتھ ہی ون ڈے میں 200 چھکے بھی پورے کر لئے۔ ان کے اب 227 ون ڈے میں 211 چھکے ہو گئے ہیں اور وہ ون ڈے میں سب سے زیادہ چھکے اڑانے کے معاملے میں چھٹے نمبر پہنچ گئے ہیں۔ مورگن کے 17 چھکے عالمی کپ میں ایک اننگز میں نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کے کرس گیل نے 2015 کے ورلڈ کپ میں 16 چھکے مارے تھے۔

مورگن کے ان 17 چھکوں سے انگلینڈ نے عالمی کپ میں ایک اننگز میں سب سے زیادہ چھکوں کا نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔ انگلینڈ کی اننگز میں کل 25 چھکے پڑے اور اس نے ویسٹ انڈیز کے 2015 میں زمبابوے کے خلاف 19 چھکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مورگن کی اننگز نے انگلینڈ کو عالمی کپ میں اس کے سب سے زیادہ اسکور پر بھی پہنچا دیا۔

مورگن کی اس اننگز نے بيرسٹو اور روٹ کی اننگز کو دھندلا کر دیا جنہوں نے بہترین اننگز کھیلی۔ مورگن نے روٹ کے ساتھ تیسرے وکٹ کے لئے 189 رن کی زبردست شراکت کی۔ اس سے پہلے بيرسٹو اور روٹ نے دوسرے وکٹ کے لئے 120 رنز جوڑے تھے۔ آخری اوورز میں انگلینڈ نے روٹ، مورگن، جوس بٹلر (2) اور بین اسٹوکس (2) کے وکٹ گرائے لیکن معین علی نے آخری اوور میں دولت زدران پر دو چھکے اور ایک چوکا لگایا اور ٹیم کو 197 تک پہنچا دیا۔

انگلینڈ کی اس زبردست بلے بازی کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے نمبر ایک ٹوئنٹی -20 بولر لیگ اسپنر راشد خان نے نو اوور میں 110 رن لٹائے اور عالمی کپ کی تاریخ کے سب سے مہنگے بولر بن گئے۔ راشد اس کے ساتھ ہی ون ڈے کے دوسرے سب سے مہنگے بولر بھی بن گئے۔ دولت زدران نے 85 رن پر تین وکٹ اور گلبدين نائب نے 68 رن پر تین وکٹ لئے۔

افغانستان کے لئے اتنے بڑے ہدف کا تعاقب بس سے باہر کی بات تھی۔ اگرچہ حشمت اللہ شاهدي نے قابل ستائش جدوجہد کرتے 100 گیندوں میں پانچ چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 76 رن کی قابل ستائش اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کی شکست کے فرق کو کچھ کم کیا۔

کپتان گلبدين نائب نے 28 گیندوں میں 37 رن، رحمت شاہ نے 74 گیندوں میں 46 رن، اصغر افغان نے 48 گیندوں میں 44 رن اور نجیب اللہ زدران نے 13 گیندوں میں 15 رن بنائے۔ انگلینڈ کی اننگز میں جہاں 25 چھکے لگے وہیں افغانستان نے آٹھ چھکے لگائے۔ شاهدي اور افغان نے چوتھے وکٹ کے لئے 94 رن کی شراکت داری کی۔ انگلینڈ کی طرف سے عادل راشد نے 66 رن پر تین وکٹ، جوفرا آرچر نے 52 رن پر تین وکٹ اور مارک وڈ نے 40 رن پر دو وکٹ لئے۔

Published: 19 Jun 2019, 12:10 AM