پنت سے آئندہ مقابلوں میں بھی میچ فاتح اننگز کی امید: وراٹ

وراٹ کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹوئنٹی 20 سیریز کے آخری میچ میں رشبھ پنت کی ’میچ فنیشر‘ اننگز کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان سے آگے بھی اسی طرح کی کارکردگی کی توقع رہے گی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

گیانا: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹوئنٹی 20 سیریز کے آخری میچ میں رشبھ پنت کی 'میچ فنیشر' اننگز کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے وقت میں بھی نوجوان وکٹ کیپر بلے باز سے اسی طرح کی کارکردگی کی توقع رہے گی۔

ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹوئنٹی 20 میچ میں سات وکٹ سے جیت درج کرتے ہوئے سیریز میں تین۔صفر سے کلین سویپ کر لیا ہے۔ اس میچ میں پنت نے ناٹ آؤٹ 65 رنز کی اننگز کھیلی تھی اور ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ پنت نے اگرچہ پہلے دو میچوں میں کافی مایوس کیا تھا اور فلوریڈ میں کھیلے گئے پہلے اور دوسرے میچ میں صفر اور چار رن بنائے تھے۔

اس مقابلے میں انہوں نے کپتان وراٹ کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 106 رنز کی شراکت کرتے ہوئے ٹیم کو جیت دلائی۔ پنت نے 42 گیندوں کی اننگز میں چار چوکے اور چار چھکے لگائے اور کیریئر کی بہترین ناٹ آؤٹ 65 رنز کی اننگز کھیلی۔ وراٹ نے میچ کے بعد کہا، ’’بہت عمدہ۔ پہلے دو میچوں میں انہوں نے مایوس کیا اور رنز نہیں بنائے لیکن تیسرے میچ میں انہوں نے ثابت کردیا کہ وہ ایک بہترین بلے باز ہیں اور پوری صلاحیت کے ساتھ جم کر کھیلیں گے۔ انہوں نے بڑے شاٹس کھیلے اور مکمل فارم کے ساتھ میچ فاتح اننگز کھیلی۔‘‘

تیسرے میچ میں ٹیم کی جیت میں دیپک چاهر کا بھی اہم کردار رہا جنہوں نے نئی گیند سے اوپننگ کرتے ہوئے 14 رن پر تین وکٹ نکالے۔ وراٹ نے راجستھان کے تیز گیند باز اور ڈیبیو میچ کھیلنے والے کھلاڑی راہل چاهر کی بھی تعریف کی جنہوں نے تین اوور میں 23 رن دے کر ایک وکٹ لیا۔

انہوں نے کہا، "ہم کچھ نئے کھلاڑیوں کے ساتھ اترنا چاہتے تھے۔ راہل اپنا پہلا میچ کھیل رہے ہیں اور دیپک نے دوبارہ ٹیم میں نئی گیند سے حیرت انگیز پاری کھیلی۔ سلامی بلے باز شکھر دھون بھی ٹیم میں واپسی کر رہے ہیں۔انہیں عالمی کپ کے دوران انگلی میں چوٹ لگ گئی تھی، وہ تین اننگز میں 27 رنز ہی بنائے۔ وراٹ نے اگرچہ بھروسہ ظاہر کیا ہے کہ ون ڈے سیریز میں دھون کی کارکردگی بہتر ہو گی۔

وراٹ نے کہا، "وہ کافی تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ کئی مرتبہ ٹی -20 میں کھلاڑیوں کو اتنا وقت نہیں مل پاتا ہے لیکن 50 اوور کے کھیل میں ان کے پاس اننگز میں اچھا کھیلنے کا موقع ہوتا ہے۔ "