سمر چیریٹیبل ٹرسٹ کی طرف سے کرائے گئے ’سدبھاؤنا کپ‘ پر ’جین-زی الیون‘ کا قبضہ، ملکی پور لائبریری کو ملی شکست
سدبھاؤنا کپ کے انعقاد کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تاکہ مختلف ذاتوں اور مذاہب کے درمیان روزمرہ کے مثبت مکالمے کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔

’سمر چیریٹیبل ٹرسٹ‘ کے زیر اہتمام ساتواں ’سدبھاؤنا کپ‘ 11 جنوری 2026 کو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ فائنل مقابلہ اتوار کے روز پٹنہ کے سدیسوپور پرائمری اسکول کے قریب کھیلا گیا، جسے دیکھنے سینکڑوں کی تعداد پہنچی تھی۔ ’سدبھاؤنا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ‘ کا فائنل مقابلہ ’جین-زی الیون‘ اور ’ملکی پور لائبریری‘ کے درمیان کھیلا گیا، جسے جین-زی الیون نے 8 وکٹ سے جیتا۔ دوسری طرف ’کھو-کھو‘ کا فائنل مقابلہ ’کھلکھلاہٹ ریمبو ہوم‘ اور ’گھروندا ریمبو ہوم‘ کے درمیان ہوا، جس میں ’کھلکھلاہٹ ریمبو ہوم‘ نے ’گھروندا ریمبو ہوم‘ کو 10 پوائنٹس سے شکست دی۔

کرکٹ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 6 ٹیموں نے حصہ لیا، جبکہ کھو-کھو ٹورنامنٹ میں 4 ٹیموں نے شرکت کی۔ قابل ذکر ہے کہ کھو-کھو ٹورنامنٹ مکمل طور پر خواتین کھلاڑیوں کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس کا مقصد عوامی مقامات پر، بالخصوص کھیل کے میدان میں، خواتین کی شرکت کو فروغ دینا اور انھیں بااختیار بنانا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں پناٹھی، ملکی پور، بیلا اور ندواں گاؤں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ این وائی ای ایف اور ریمبو ہوم نے سماج کے حاشیہ پر رہنے والے طبقات سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی ٹیمیں بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔

واضح رہے کہ ’سدبھاؤنا کپ‘ کے انعقاد کا بنیادی مقصد نچلی سطح پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے، تاکہ مختلف ذاتوں اور مذاہب کے درمیان روزمرہ کے مثبت مکالمہ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اسی مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے ’سمر چیریٹیبل ٹرسٹ‘ نے ایک اختراعی پہل کی ہے، جس کے تحت ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ہر ٹیم میں جنرل کیٹیگری، او بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتی برادریوں کے کھلاڑیوں کی شرکت لازمی ہے۔ عمر کی حد زیادہ سے زیادہ 21 سال رکھی گئی ہے، جو نوجوانوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہی نوجوان طبقہ مستقبل میں سماج میں اہم کردار ادا کرنے والا ہے۔

گزشتہ 7 برسوں سے منعقد کیے جا رہے اس ٹورنامنٹ کے تجربات بتاتے ہیں کہ ٹیم تشکیل دینے کا عمل ہی سماج کے تمام طبقات کی شمولیت کے ذریعہ مکالمے، مشترکہ فیصلہ سازی اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیتا ہے، جس سے لوگوں کے درمیان جسمانی اور جذباتی فاصلے کم ہوتے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد میں مقامی دیہی باشندوں کی شرکت (مثلاً خواتین کھلاڑیوں کے لیے بیت الخلا کی سہولت فراہم کرنا) برادری کو ایک مثبت اور حساس مقصد سے جوڑتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میچوں سے قبل منعقد ہونے والے اورینٹیشن سیشن ’سدبھاؤنا کپ‘ کی فکری سوچ اور فلسفے کو شیئر کرنے کا ایک اہم موقع بن جاتے ہیں۔

اختتامی تقریب میں تقریباً 200 افراد کی موجودگی رہی۔ انعامات ہمارے مہمانوں ’ورلڈ بیئنگ انڈیا‘ سے بنود کمار اور ’ریمبو ہوم‘ سے انور کے ہاتھوں تقسیم کیے گئے۔ پوری ٹیم، بالخصوص ذہیب اجمل، ابھجیت کمار، محمد انس، اودے پرتاپ سنگھ اور عامر عباس نے گزشتہ چند مہینوں تک سخت محنت کر کے اس اہم انعقاد کو کامیاب بنایا۔ ہمارے معاون اداروں ’ڈیموکریٹک چرکھا‘ اور ’بیس سوسائٹی‘ کا بھی اس میں اہم تعاون رہا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔