گنگولی سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ وراٹ اور ان کی بات میں فرق کیو ں ہوا: گواسکر

ایک بات چیت میں سنیل گواسکر نے کہا کہ ’’میرے خیال میں (کوہلی کی بات پر) یہاں پر بی سی سی آئی سے نہیں بلکہ ایک خاص شخص سے پوچھا جانا چاہیے کہ وراٹ تک بات کیوں نہیں پہنچی یا پیغام کیوں نہیں گیا۔

سنیل گواسکر، تصویر آئی اے این ایس
سنیل گواسکر، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان کے سابق کپتان اور اب مشہور کمنٹیٹر سنیل گواسکر کا ماننا ہے کہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر سوربھ گنگولی ہی اس بات کی وضاحت کرنے کے لئے صحیح شخص ہوں گے اور یہ بتائیں گے کہ وراٹ کوہلی نے جو کہا ہے کہ ان سے ٹی 20 کپتانی چھوڑنے کے سلسلے میں دوبارہ غور کرنے کے لئے کسی نےنہیں پوچھا تھا، اس میں کتنی حقیقت ہے ۔ وراٹ کے بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی سے کپتانی چھوڑنے کے اگلے ہی دن گانگولی نے کہا تھا کہ بی سی سی آئی نے اس نے اپنے فیصلے پر دوبارہ غورکرنے کے لئے کہا تھا۔ جبکہ جنوبی افریقہ جانے سے عین قبل پریس کانفرنس میں وراٹ نے اس بات سے انکار کیا کہ انہیں کسی نے دوبارہ غور کرنے کے لئے کہا تھا۔

انڈیا ٹوڈے کے ساتھ بات چیت میں سابق کپتان سنیل گواسکر نے کہا، "میرے خیال میں (کوہلی کی بات پر) یہاں پر بی سی سی آئی سے نہیں بلکہ ایک خاص شخص سے پوچھا جانا چاہئے کہ وراٹ تک بات کیوں نہیں پہنچی یا پیغام کیوں نہیں گیا۔ گانگولی بی سی سی آئی کے صدر ہیں، اس لیے ان سے یہ ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اس بات میں فرق کیوں ہے۔میری نظر میں گانگولی صحیح شخص ہیں جو یہ بتا سکتے ہیں کہ آخر وراٹ کوہلی ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔‘‘ ٹی ٹوئنٹی سے کپتانی چھوڑنے کے بعد وراٹ کو ون ڈے میں بھی کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اپنی پریس کانفرنس میں وراٹ نے کہا تھا کہ ٹسٹ ٹیم کا اعلان ہونے سے ڈیڑھ گھنٹے قبل انہیں ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا ۔اس کی اطلاع انہیں چیف سلیکٹر سے ملی تھی ۔ گواسکر کا خیال ہے کہ چیف سلیکٹر چیتن شرما اپنی جگہ پوری طرح صحیح ہیں۔


گواسکر نے کہا کہ ’’اس میں کسی قسم کے تنازع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ جب چیف سلیکٹر نے انہیں واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ اب انہیں ون ڈے کپتان کے طور پر نہیں دیکھتے، تو یہ میرے خیال میں بالکل درست ہے۔ سیلکٹر کے پاس اس بات کا پورا حق ہوتا ہے ، جبکہ کپتان صرف ایک نان ویٹنگ ممبر ہی ہوتا ہے ۔ لہذا میری نظر میں یہ کوئی غلط نہیں ہے اور اسے تنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔‘‘

سنیل گواسکر نے، تاہم، اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، یہ بھی کہا کہ بی سی سی آئی کو اپنی بات کو زیادہ واضح اور واضح انداز میں رکھنا چاہیے تھا۔ میرے خیال میں اب سے ان باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے چیف سلیکٹر کھلاڑی کو بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کیوں ڈراپ کیا گیا یا آپ کو کیوں منتخب کیا گیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔