جب دھونی کی کپتانی جانے والی تھی تو کس نے بچائی تھی کپتانی

سلیکٹرز نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ دھونی نے 28 سالوں کے بعد ہندوستان کو عالمی چمپیئن بنایا تھا اور وہ دھونی کی جگہ کسی اور کو کپتان بنانا چاہتے تھے۔

تصویر بشکریہ ایشین ایج، سوشل میڈیا
تصویر بشکریہ ایشین ایج، سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے سابق صدر این سری نواسن نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ٹیم انڈیا کے 2011کے انگلینڈ اور آسٹریلیا کے دورے میں 0-4 سے شکست کے بعد دھونی کی کپتانی کو چھننے سے بچایا تھا۔

سری نواسن نے یہ انکشاف سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا ۔انہوں نے کہا کہ 2011 کے ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت کے باوجود 2011 کے انگلینڈ اور آسٹریلیا میں0- 4کی شرمناک شکست کے بعد ٹیم کی ناقص کارکردگی کیلئے دھونی کی کپتانی پر گاج گرنے والی تھی ۔ قومی سلیکٹرز آسٹریلیا میں ہونے والی سہ فریقی سیریز کے لئے دھونی کو ون ڈے کپتانی سے ہٹانا چاہتے تھے۔ سلیکٹرز نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ دھونی نے 28 سالوں کے بعد ہندوستان کو عالمی چمپیئن بنایا تھا اور وہ دھونی کی جگہ کسی اور کو کپتان بنانا چاہتے تھے۔


آسٹریلیا کے خلاف شرمناک شکست کے بعد سلیکٹرز کا موڈ بدل گیا تھا اور اس دوران وہ آسٹریلیا میں سہ رخی سیریز کے لئے دھونی کے بجائے کسی اور کو کپتان کے طور پر لینے کا سوچ رہے تھے۔ سری نواسن سلیکشن کمیٹی کے فیصلے کو روکنے کے لئے گولف کورس سے براہ راست سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں پہنچ گئے تھے۔

سری نواسن چنئی سپر کنگز ٹیم کے مالک تھے جس کی دھونی کپتانی کرتے ہیں۔ سری نواسن نے کپتانی کی تبدیلی کو روکا۔ یہ بھی مانا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے مہندر امرناتھ کو سلیکٹر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جو دھونی کو کپتانی سے ہٹانا چاہتے تھے۔ اس وقت یہ خیال کیا جارہا تھا کہ امرناتھ سلیکشن کمیٹی میں کرشنماچاری سری کانت کی جگہ سلیکٹرز کے چیف بن سکتے ہیں لیکن اس معاملے کی وجہ سے انہیں سلیکٹر کا منصب کھونا پڑا۔ امرناتھ کے سابق ساتھی سندیپ پاٹل کو سلیکٹرز کا چیف بنایا گیا۔


سری نواسن نے بتایا کہ وہ گولف کورس سے سیدھے سلیکشن کمیٹی کے اجلاس میں گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دراصل اس دن میرا ایک وقفہ تھا۔ میں گولف کھیل رہا تھا۔ میں اس وقت واپس آیا جب بی سی سی آئی کے اس وقت کے سکریٹری سنجے جگدل نے مجھے بتایا تھا کہ وہ (سلیکٹر) دھونی کو کپتان منتخب کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ میں نے فورا ہی کہا کہ وہ دھونی کو ٹیم میں شامل کریں گے ۔ میں نے بی سی سی آئی کے صدر کی حیثیت سے اپنے تمام اختیارات استعمال کیے۔

قابل ذکر ہے کہ لودھا کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد سے قبل سلیکشن کمیٹی کو ٹیم سلیکشن کے لئے بورڈ صدر کی منظوری درکار تھی۔ لیکن اب موجودہ قواعد کے مطابق چیف سلیکٹر کو ٹیم کے سلیکشن امور کے بارے میں حتمی فیصلہ لینے کا حق ہے۔


دھونی کے آئی پی ایل کھیلنے پر سری نواسن نے کہا کہ دھونی جب تک چاہیں چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کے لئے کھیل سکتے ہیں۔ فی الحال سی ایس کے کو آئی پی ایل جیتنے دیں۔ دھونی کی قیادت میں سی ایس کے کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی توجہ میچ پر مرکوز رہتی ہے اور وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں سوچتے ہیں۔ اب ہم اسی پالیسی پر عمل کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔