پاکستانی ٹیم میں ’فکسرز‘ کا کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے: دانش کنیریا

دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ ”ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے پیسوں کے لیے ملک کو بیچا اور میچوں میں فکسنگ کی۔ لیکن ان کا ٹیم میں خیر مقدم کیا گیا۔ میں نے پیسوں کے لیے اپنے ملک کو فروخت نہیں کیا۔“

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لاہور: سابق پاکستانی کرکٹر دانش کنیریا نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں میچ فکسنگ کرنے والے کھلاڑیوں کا کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے واحد ہندو کھلاڑی دانش کنیریا کا کیریر اچانک قومی ٹیم میں ختم ہو گیا تھا۔ حال ہی میں شعیب اختر کے دانش کے ساتھ پاکستانی ٹیم میں امتیازی سلوک کئے جانے کے عوامی بیان کے بعد سے پھر سابق کرکٹر کنیریا شہ سرخیوں میں آ گئے ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔

دانش کنیریا نے اپنے یو ٹیوب چینل پر پاکستانی ٹیم مینجمنٹ، کھلاڑیوں پر کئی الزام لگائے اور ساتھ ہی جاوید میانداد کی بھی تنقید کی جنہوں نے دانش پر الزام لگائے تھے کہ وہ پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ سابق کرکٹر نے اپنے چینل پر کہا کہ خود شعیب اختر نے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کی بات قبول کی۔لیگ اسپنر کنیریا نے کہا کہ پاکستان کے ٹیم کے ساتھیوں نے ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اور کئی ٹی وی چینلوں نے ان کی خدمات کے لئے ادائیگی بھی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ تقریباً ایک دہائی سے بے روزگار ہیں جبکہ انہوں نے اپنی طرف سے پاکستان کرکٹ کے لیے 100 فیصد کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

کنیریا نے کہاکہ وہ لوگ جو بھی مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں نے یہ سب سستی شہرت اور میرے یو ٹیوب چینل کو مشہور بنانے کیلئے کر رہا ہوں، انہیں میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں نے نہیں بلکہ شعیب اختر نے قومی ٹی وی پر آکر میرے ساتھ امتیازی سلوک کی بات قبول کی ہے۔ آپ نے میرے ہاتھ پیر کاٹ دیئے ہیں۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے بے روزگار ہوں۔ آپ مجھ سے اور کیا چاہتے ہیں۔ کیا میں خود کو ختم کر لوں۔سابق پاکستانی کرکٹر نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں کئی فکسر کھلاڑی ہیں جنہوں نے ملک کو پیسوں کے لیے فروخت کیا لیکن ٹیم میں پھر بھی ان کا استقبال ہوا۔ انہوں نے کہاکہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں نے پاکستان کیلئے 10 برسوں تک کھیلا، لیکن میں نے اپنی زندگی کو داؤ پر لگا کر کھیلا۔ میں نے پچ پر اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ میرے ہاتھوں میں خون نکلنے کے باوجود میں نے گیند بازی کی۔ لیکن ٹیم میں ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے پیسوں کے لیے ملک کو بیچا اور میچوں میں فکسنگ کی۔ لیکن ان کا ٹیم میں خیر مقدم کیا گیا۔ میں نے پیسوں کے لیے اپنے ملک کو فروخت نہیں کیا۔

انضمام الحق نے بھی دانش کنیریا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ میں مذہب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انضمام کی کپتانی میں دانش کو سب سے زیادہ کھیلنے کا موقع ملا تھا، جنہوں نے کہا کہ ثقلین مشتاق پر دانش کو ترجیح دے کر ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔