کرکٹ: ویسٹ انڈیز کے خلاف ہندوستان کا پہلا ونڈے میچ اتوار کو، نظر ’پرفیکٹ 10‘ پر

ٹی-20 سیریز پر قبضہ جمانے والی وراٹ کوہلی کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے جوابی حملہ سے محتاط رہنا ہوگا جس نے ٹی -20 سیریز کا دوسرا میچ بہ آسانی آٹھ وکٹ سے جیتا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

چنئی: رن مشین وراٹ کوہلی کی کپتانی والی ٹیم انڈیا اتوار کو تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کھیلنے اترے گی۔ یہ ٹیم اس سیریز میں مہمان ٹیم کے خلاف مسلسل 10 ویں دو طرفہ سیریز جیتنے کے مضبوط ارادوں کے ساتھ اترے گی۔ سیریز کا پہلا میچ یہاں ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ ہندوستانی ٹیم ویسٹ انڈیز سے ٹی۔20 سیریز 2۔1 سے جیت کر اس مقابلے میں اتر رہی ہے، اگرچہ اس مقابلے پر بارش کا خطرہ منڈلا رہا ہے کیونکہ گزشتہ دو دنوں سے شہر میں بھاری بارش ہو رہی ہے۔

وراٹ کی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے پلٹ وار سے محتاط رہنا ہوگا جس نے ٹی -20 سیریز کا دوسرا میچ آسانی سے آٹھ وکٹ سے جیتا تھا۔ ہندوستانی ٹیم سیریز میں مضبوط دعویدار کے طور پر اترے گی جبکہ مہمان ٹیم ٹی ۔20 سیریز کے دوسرے میچ میں ملی جیت سے سبق لیکر ہندوستان کے سامنے چیلنج پیش کرنا چاہے گی۔ ہندوستان کو سیریز سے قبل کی شام ، سوئنگ گیند باز بھونیشور کمار کے دائیں گروئن میں چوٹ کی وجہ سے سیریز سے باہر ہونے کا گہرا جھٹکا لگا ہے۔ بھونیشور کی جگہ تیز گیند باز شاردل ٹھاکر کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

ٹیم انڈیا اس وقت بلے بازی کے لحاظ سے شاندار فارم میں ہے۔ کپتان وراٹ کوہلی جم کر رن بنا رہے ہیں جبکہ اوپننگ میں لوکیش راہل کا رن حاصل کرنا ہندوستان کے لئے اچھے اشارے ہیں۔ ممبئی میں آخری ٹی ۔20 میں اوپنروں روہت شرما اور لوکیش راہل اور کپتان وراٹ کوہلی نے منفرد ریکارڈ بنایا تھا۔ اس مقابلے میں روہت نے 71، راہل نے 91 اور وراٹ نے ناٹ آؤٹ 70 رن بنائے تھے اور سبھی طرح کے ٹی۔ 20 مقابلوں میں یہ پہلا موقع تھا جب تین بلے بازوں نے میچ میں 70 سے زائد کا اسکور بنایا تھا۔

راہل کی فارم سے ہندوستان کو شکھر دھون کی کمی محسوس نہیں ہو رہی ہے جو گھٹنے کی چوٹ کے سبب اس سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔ روہت اور راہل اننگ کی شروعات کریں گے جس کے بعد وراٹ اور چوتھے اہم نمبر پر شریئس ایر اتریں گے۔ اس کے بعد آل راؤنڈر شیوم اور تنقید کا سامنا کر رہے وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت اتریں گے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پارٹ ٹائم آف اسپن کرنے والے کیدار جادھو کو موقع ملتا ہے یا پھر گھریلو کرکٹ میں کافی سارے رن بنانے والے مینک اگروال کو موقع دیا جاتا ہے۔ مینک کو ٹیم میں زخمی شکھر کی جگہ شامل کیا گیا ہے۔منیش پانڈے بھی آخری الیون میں مقام حاصل کرنے کے دعویدار ہیں۔

محمد شامی اور دیپک چہر نئی گیند سے آغاز کر سکتے ہیں جبکہ اسپن کا دار و مدار کلائی کے اسپنروں يجویندر چہل اور کلدیپ یادو اور لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ کے کندھوں پر رہے گا۔ چیپاك اسٹیڈیم کی پچ سے اسپنروں کو مدد ملنے کی امید ہے ایسے میں کپتان وراٹ تین اسپنروں کے ساتھ اترکر سکتے ہیں۔

دوسری طرف مہمان ٹیم ٹی-20 کی اپنی کارکردگی سے مطمئن ہے اور وہ یہ سلسلہ ون ڈے سیریز میں بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ویسٹ انڈیز کے اسسٹنٹ کوچ روڈي ایسٹاوك نے کہا ہے کہ وہ ٹیم کی ٹی ۔20 کارکردگی سے خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ٹیم اسے ون ڈے میں برقرار رکھے۔ ایسٹوك کا خیال ہے کہ ان کے بلے بازوں کو اسٹرائک روٹیٹ کرنے پر زیادہ توجہ دینی چاہئے کیونکہ ان کی یہ حکمت عملی افغانستان کے خلاف سیریز میں کافی کامیاب رہی تھی۔

کیریبیائی ٹیم کے پاس شمران هیتمائر، نکولس پورن، جارح شائی ہوپ، کپتان کیرون پولارڈ، آل راؤنڈر روماريو شیفرڈ کی صورت میں کافی شاندار کھلاڑی موجود ہیں۔ ویسٹ انڈیز اوپنر ایون لوئیس کی چوٹ کے سلسلے میں تذبذب کی حالت میں ہے، اگرچہ ٹیم مینجمنٹ کو امید ہے کہ وہ میچ کے لئے فٹ ہو جائیں گے۔ ٹیم کی تیز گیند بازی شیلڈن كنٹریل اور سابق کپتان جیسن ہولڈر سنبھالیں گے جبکہ اسپن کا دار و مدار لیہہ اسپنر ہیڈن والش، كھیري پیئرے اور روسٹن چیج سنبھالیں گے۔